وَلَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ كِتٰبًا فِىۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡهُ بِاَيۡدِيۡهِمۡ لَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 7

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ كِتٰبًا فِىۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡهُ بِاَيۡدِيۡهِمۡ لَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم آپ پر کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے تو وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھولیتے تب بھی کفار یہی کہتے کہ یہ محض کھلا ہوا جادو ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر ہم آپ پر کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے تو وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو لیتے تب بھی کفار یہی کہتے کہ یہ محض کھلا ہوا جادو ہے۔ (الانعام : ٧) 

ربط آیات اور شان نزول : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت توحید اور پیغام اسلام کو مسترد کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو اپنے عیش و آرام میں مست تھے اور ان کو اپنی قوت و حشمت پر گھمنڈ تھا۔ ان کا ذکر اس سے پہلی آیتوں میں آچکا ہے۔ دوسری قسم کے وہ لوگ تھے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش کیے ہوئے معجزات کو کھلا ہوا جادو قرار دیتے تھے۔ ان کا ذکر اس آیت میں ہے۔ 

امام عبدالرحمن بن علی محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ نے بیان کیا ہے کہ مشرکین مکہ نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ ہمارے پاس اللہ کے پاس سے کتاب نہ لائیں اور اس کتاب کے ساتھ چار فرشتے ہوں جو یہ گواہی دیں کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (زادالمیسر ج ٣‘ ص ‘ ٧‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

کفار کے انکار کا حقیقی سبب : 

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ مشرکین کس سبب سے دین اسلام کو قبول کرنے سے انکار کرتے تھے۔ ان کا انکار چند ضعیف شبہات پر مبنی تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایک لکھی ہوئی کتاب نازل ہو اور اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہو جو آپ کی نبوت کی تصدیق کرے ‘ لیکن حقیقت میں ان کے انکار اور تکذیب کی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ کی نشانیوں سے اعراض کرتے تھے اور ان میں غور وفکر نہیں کرتے تھے۔ سو اگر اللہ ایک لکھی ہوئی کتاب نازل کردیتا اور وہ اس کو چھو کر دیکھ لیتے ‘ پھر بھی کہتے کہ یہ کھلا جادو ہے اور ایمان نہ لاتے۔ ہاتھ سے چھونے کا اس لیے ذکر فرمایا کہ کبھی دیکھی ہوئی چیز کی بہ نسبت ہاتھوں سے چھوئی ہوئی چیز زیادہ یقینی ہوتی ہے ‘ کیونکہ مشاہدہ میں یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ نظر نے دھوکا کھایا ہو یا نظر بندی کی گئی ہو۔ لیکن ہاتھ سے چھونے کے بعد یہ احتمالات ختم ہوجاتے ہیں ‘ لیکن یہ ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ہیں کہ یہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کی نظیر یہ آیات ہیں : 

(آیت) ” ولو فتحنا علیھم بابا من السمآء فظلوا فیہ یعرجون، لقالوا انما سکرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون۔ (الحجر : ١٥۔ ١٤) 

ترجمہ : اور اگر ہم ان کے لیے آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس میں (دن بھر) چڑھتے رہیں (تو پھر بھی) یہ لوگ یقینا یہی کہیں گے کہ محض ہماری نظر بندی کی گئی ہے ‘ بلکہ ہم لوگوں پر جادو کیا ہوا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 7

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.