رمضان، تراویح اور روزے

*رمضان، تراویح اور روزے*

*روزہ نہ رکھنے والے*

روزۂ رمضان کی جو اہمیت ہے اس کو جان کر اکثر مسلمان روزہ ضرور رکھتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی مسلمان ہیں جو اس نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں، کچھ چھپے اور کچھ کھلے عام کھاتے پھرتے بھی نظر آتے ہیں، ایسے مسلمانوں کو سمجھانے اور انھیں غیرت دلانے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً جو کھلے عام کھاتے پیتے ہیں دوہرے مجرم ہیں ایک تو روزہ نہ رکھنے کے دوسرے اس گناہ کے برملا اظہار کرنے کے، اور یہ گناہ بڑا سخت ہے یہاں تک کہ اسلامی حکومت کو حکم ہے کہ ایسے پاپیوں کو قتل کر کے روے زمین کو ان سے پاک کردے، ان کو اللہ کی اس زمین پر جینے اور چلنے پھرنے کا کوئی حق ہی نہیں۔ اور اسلامی حکومت نہیں تو ان کے ساتھ سختی کرنے کا حکم ہے، ان کا بائی کاٹ کریں ان سے لین دین بند کر دیں، ان سے ہر طرح کے معاملات ختم کر دیں، ورنہ خود بھی گنہ گار ہو ں گے۔

*رمضان کے دنوں میں ہوٹلوں پر بندش*

رمضان کے مہینے میں بعض مسلمان محض پیسہ کمانے کی دُھن میں اپنے ہوٹل کھلے رکھتے ہیں اور پردے سے یا بے پردہ بے روزہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں یہ بھی شریعت اسلامیہ میں گناہ اور جرم ہے اور اس عمل سے ماہ رمضان کی حرمتوں کو پامال کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، لہٰذا ایسے ہوٹل والوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ چند دنیا کے سکوں کے بدلے رمضان کی بے حرمتی کیوں کرتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ خود بھی کیوں گناہوں کی گٹھری اپنے سر پرلادتے ہیں اگر یہ ہوٹل والے نہ مانیں تو ان کے ساتھ بھی سختی کریں ہو سکے تو بزور اُن کے ہوٹل بند کرائیں، ورنہ ان کے ساتھ بھی بائی کاٹ کا معاملہ کریں۔ جو دن میں ہوٹل کھلا رکھے، افطار کے بعد اس کے ہوٹل سے کوئی سامان نہ خریدیں۔ ان شاء اللہ اس تدبیر سے ضرور اثر پڑے گا اور اس گناہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ کوئی ہوٹل والا اگر کسی کو گالی دے دے تو وہ اس کے وہاں سے کھانا پینا بند کر دیتا ہے، تو جو رمضان المبارک کے تقدس کو پامال کرے وہ زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کے وہاں سے کھانا پینا بند کر دیا جائے۔

*اپنے روزوں کو مکروہات سے بچائیں*

رمضان شریف کی ساری بہاریں روزوں کی وجہ سے ہیں، لہٰذا ہمیں اس بات کا بھی پورا پورا خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے روزے خراب نہ ہونے پائیں جو امور مفسداتِ روزہ ہیں یعنی جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ان کو اچھی طرح سمجھیں اور جاننے کی کوشش کریں تا کہ روزہ ٹوٹنے نہ پائے، یوں ہی مکروہات سے بچنے کی بھی کوشش کریں، آدمی مکان کپڑا اور کھانے پینے میں ہر طرح کا اہتمام کرتا ہے۔ کمی کوتاہی کو ہر ممکن دور کرنے کی کوشش کرتا ہے، کپڑا عمدہ ہو، کھانا لذیذ اور وافر ہو، مکان بہترین ہو لیکن روزے کے بارے میں غفلت سے کام لیتا ہے اور اگر بتایا جائے کہ اس کام سے روزہ مکروہ ہوتا ہے تو کہتا ہے مکروہ ہی تو ہوتا ہے ٹوٹتا تو نہیں۔ گویا آدمی دنیا کے کاموں میں تو مکروہات کو پسند نہیں کرتا مگر امر آخرت اور عبادت الٰہی میں کوتاہیوں کو روا رکھتا ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ آج کا مسلمان دنیا کو ترجیح دیتا ہے اور آخرت کی طرف سے غفلت کا شکار ہے۔ جو اخروی نقصان کا پیش خیمہ اور خدا کی ناراضی کا باعث ہے۔ اس کے لیے مسائل کی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے، یا ایسی محافل قائم ہوں جہاں روزے کے مسائل اجتماعی طور پر بیان کیے جائیں، یا کسی ایک نماز کے بعد روزانہ ائمۂ مساجد رمضان و روزے کے مسائل سے قوم کو آگاہ کریں اور جنھیں یہ مسائل معلوم ہوں وہ دوسروں تک پہنچائیں۔

*کھانے میں اعتدال*

رمضان کے ایام میں بہت لوگ کھانا اس قدر کھاتے ہیں کہ طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے اور کچی ڈکاریں آنے لگتی ہیں، جس سے روزہ کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ رمضان میں بھی اعتدال کے ساتھ کھائیں تا کہ معدہ متاثر نہ ہو اور بدن میں روزے کی حالت میں جو قوت ملنی چاہیے اس میں فرق نہ آنے پائے۔ محض زیادہ کھانے سے آدمی تندرست نہیں رہتا، بلکہ اعتدال کے ساتھ کھانے سے غذا اپنا پورا کام کرتی ہے اور بدن کو قوت ملتی ہے۔

*تراویح سے متعلق ضروری باتیں*

تراویح کے معاملے میں کئی خرابیاں معاشرے میں گھس آئی ہیں۔ اوّل یہ کہ عام طور سے لوگ چند روز تو خوب شوق سے تراویح میں شریک ہوتے ہیں، پھر ایک عشرہ گزرتے ہی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ آٹھ دس روز کی تراویح میں پورا قرآن سن کر اس کے بعد تراویح چھوڑ دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ پورا قرآن تو سن لیا اب ضرورت نہیں۔ حالاں کہ پورے ماہ رمضان میں تراویح سنتِ موکدہ ہے۔ ثانیاً: تراویح میں اس حافظ کو ترجیح دیتے ہیں جو زیادہ تیز قرآن پڑھے، اور کم وقت لگائے، چاہے کچھ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ حالاں کہ ترتیل و تجوید سے قرآن پڑھنا ضروری ہے، اس میں صرف یہی نہیں کہ تراویح نہیں ہوتی بلکہ گناہ بھی ہوتا ہے۔

حضرت صدر الشریعہ(مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ) فرماتے ہیں:

’’خوش خواں (اچھی آواز سے پڑھنے والے) کو امام بنانا نہ چاہیے بلکہ درست خواں (صحیح پڑھنے والے) کو بنائیں۔‘‘ (عالم گیری)

افسوس صد افسوس! کہ اس زمانے میں حفاظ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے، اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں کہ یعلمون تعلمون کے علاوہ کچھ پتا نہیں چلتا، الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں، جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں انھیں دیکھیے تو حروف صحیح نہیں ادا کرتے، ہمزہ، الف، عین اور ذ۔ ز۔ ظ اور ث۔ س۔ ص۔ ت۔ ط وغیرہا حروف میں تفرقہ (امتیاز) نہیں کرتے، جس سے قطعاً نماز ہی نہیں ہوتی۔ فقیر (یعنی صدر الشریعہ) کو انھیں مصیبتوں کی وجہ سے تین سال ختم قرآن مجید سننا نہ ملا۔ مولیٰ عز و جل مسلمان بھائیوں کو توفیق دے کہ مَا اَنْزَلَ ﷲُ (جیسا کہ اللہ نے نازل فرمایا ہے) پڑھنے کی کوشش کریں۔ (بہارِ شریعت: ۴/۳۵)

اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جن دنوں میں سورہ تراویح پڑھی جاتی ہے اس میں بھی خوب جلد جلد پڑھنے کو کمال سمجھتے ہیں چاہے حروف ادا ہوں یا نہ ہوں، اس طرح تو سورۂ تراویح بھی نہیں ہوتی محض اٹھا بیٹھی ہوتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو پانچ منٹ پہلے تراویح ختم کر دے، اس کی تعریف ہوتی ہے۔ اور جو پانچ منٹ تاخیر کر دے۔ اگرچہ صحیح اور صاف پڑھائے۔ اس کو اچھا نہیں سمجھتے، معلوم نہیں، ۵۔ ۷ منٹ میں کون سا بڑا کام ہو پائے گا اور کتنی تجارت فروغ پا جائے گی، تراویح بڑی ہو یا سورہ والی ہر ایک میں قرآن پاک صحت سے پڑھنا فرض ہے۔ آج کل مسلمان چند منٹ بچانے کے لیے قرآن غلط پڑھتے یا پڑھواتے ہیں یہ قابل افسوس ہے اور گناہ بھی۔ مسلمان بلکہ انسان اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور عبادت میں نماز سب سے اہم ہے اس کو لا پروائی سے ادا کرنا بڑا گناہ ہے۔ہاں اگر صحیح خواں کے ساتھ کوئی خوش خواں بھی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ بہتر ہے کہ قرآن کو خوش آوازی سے مزین کرنا بھی اچھا ہے۔

(ماخوذ : ماہ رمضان اور ھماری ذمہ داریاں از مولانا محمد عبدالمبین نعمانی قادری مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)

***

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.