*روزہ اور پرہیزگاری:*

روزے کا اصل مقصد قرآن پاک نے یہ بیان کیا ہے کہ انسان کے اندر تقویٰ کو فروغ ملے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

یٰأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (بقرہ: ۲/۱۸۳)

(اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمھیں پرہیزگاری ملے)

یعنی روزے کی فرضیت اس لیے ہے کہ ایمان والے پرہیزگار ہو جائیں، گناہوں سے بچ جائیں اور آئندہ بھی ان میں گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہو جائے، آدمی بھوکا پیاسا اس لیے رہتا ہے اور حلال چیزوں کو خواہش کے باوجود اس لیے چھوڑ دیتا ہے کہ ربّ عزّ و جل راضی ہو جائے۔ تو حرام و ناجائز کام مثلاً جھوٹ، چوری، رشوت، حرام کمانا، دھوکا وغیرہ اعمالِ بد سے رمضان میں ضرور بچنا چاہیے۔اور پھر غیر رمضان میں کھانے پینے، جماع کی تو عام اجازت ہوتی ہے لیکن گناہوں سے بچنا توہر وقت لازم ہے اس لیے جب رمضان میں حلال سے بچ گئے تو حرام سے کچھ زیادہ ہی بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے، گویا کھانے پینے جماع سے بچنے کا روزہ تو صرف ماہ رمضان میں ہوتا ہے مگر محرمات سے بچنے کا روزہ سال بھر کا ہے۔ اس لیے حدیث شریف میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کچھ حاجت (یعنی پرواہ) نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ (بخاری، ابودائود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، از ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

ایک روایت میں ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ سِپَر (ڈھال) ہے (یعنی گناہوں سے روکنے والا) جب تک اسے پھاڑا نہ ہو۔ عرض کی گئی کس چیز سے پھاڑے گا فرمایا جھوٹ یا غیبت سے، (بیہقی، طبرانی) (بہارِ شریعت: ۵/۱۲۴)

ایک اور روایت اس طرح ہے- حضور نے فرمایا: روزہ اس کا نام نہیں کہ کھانے پینے سے باز رہنا ہو۔ روزہ تو یہ ہے کہ لغو اور بے ہودہ باتوں سے بچا جائے۔ اور فرمایا: بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ انھیں روزے سے سواے پیاس کے کچھ نہیں ملتا اور بہت رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ انھیں جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں، (ابن ماجہ، نسائی وغیرہ) (بہارِ شریعت: ۵/۱۲۴)

آیت پاک کے ساتھ مذکورہ احادیث سے بھی معلوم ہوا کہ روزے کی حالت میں صرف بھوکے پیاسے رہنے پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ گناہوں سے بھی بچنے کی پوری پوری کوشش کرے کہ یہی اصل تقویٰ ہے۔ کیوں کہ جھوٹ، چغلی، غیبت، گالی دینا، بے ہودہ بکنا، کسی کو تکلیف دینا ویسے بھی ناجائز و حرام ہے۔ روزہ کی حالت میں اور سخت حرام ہے اور ان کی وجہ سے روزے میں کراہت آتی ہے۔ یعنی ان گناہوں کی وجہ سے آدمی روزہ و رمضان کی برکتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ جو بہت بڑا نقصان اور خسارہ ہے۔ اور ایسوں ہی کے لیے حدیث میں آیا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ان کو خدا کی رحمت سے دوری کی دعا کی ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہا ہے۔ حدیث میں فرمایا: جس نے رمضان پایا اُس نے روزے رکھ کر اپنے گناہوں کو معاف نہ کروایا وہ رحمت سے دور ہو، سرکار فرماتے ہیں میں نے کہا آمین، (حاکم، ابن حبان) (بہارِ شریعت: ۵/۹۷)

(ماخوذ : ماہ رمضان اور ھماری ذمہ داریاں از مولانا محمد عبدالمبین اشاعت نوری مشن مالیگاؤں)