قبر والے مردہ ہیں أور سن نہیں سکتے

سؤال:

ایک شخص نے آج مجھے ویڈیو سینڈ کرکے کہا:

علامہ بھکروی قبر والے مردہ ہیں أور سن نہیں سکتے پر دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

وما أنت بمسمع من في القبور / آپ قبر والوں کو سنا نہیں سکتے ) سورہ فاطر – 22 –

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی )

مینے عرض کیا محترم !

بھکروی صاحب سے درج ذیل سوالات پوچھیں:

پہلا سؤال:

آیت میں نفی سلام کرنے والے کی گئی یا جسکو سلام کیا جارہا ہے یعنی قبر والے کی؟

تو بھکروی صاحب جواب دیں گے:

سلام کرنے والے کی ، تو پھر آپ کہیے گا:

نفی ہماری کی گئی أور مردہ آپ قبر والوں کو بنا رہے ہیں ،

أگر نہ سننے کی وجہ سے قبر والے مردہ ہیں تو پھر تو سلام کرنے والے بھی مردہ ہونے چاہیے کیونکہ وہ سنا نہیں سکتے اور قرآن نے بھی سلام کرنے والوں کی نفی کی ہے نہ کہ سننے والوں کی تو قبر والوں کا کیا قصور؟

بھکروی صاحب سے دوسرا سؤال یہ کی جیے گا کہ آیت کے اس جز سے پہلے والے حصہ کو پڑھیں؟

بھکروی صاحب پڑھیں گے :

"إن الله يسمع من يشاء "/ بے شک اللہ جسے چاہتا ہے وہ أسے سناتا ہے۔

أب آپ بھکروی صاحب سے عرض کی جیے گا :

آیت میں لفظ ( من) ہے جو دنیا میں زندہ و قبر والے دونوں کو شامل ہے تو پھر تو ہم زندہ کو بھی نہیں سنا سکتے کیونکہ اللہ فرمارہا ہے وہی سناتا ہے جسے چاہتا ہے ؟

پھر جب ہم زندہ کو بھی خود نہیں سنا سکتے تو پھر وہ بھی مردہ ہوئے؟

بھکروی صاحب کہیں گے وہ تو زندہ ہیں مردہ کیسے؟

آپ کہیے گا پھر قبر والے بھی زندہ ہیں مردہ کیسے کیونکہ آپکی دلیل تو زندہ کو مردہ ثابت کررہی ہے.

پھر بکھروی صاحب جان چھڑانے کے لیے آیت کا اس سے بھی پہلے والا حصہ پڑھیں گے:

وما يستوي الأحياء ولا الأموات / زندہ أور فوت ہوجانے والے برابر نہیں ہوتے.

لہذا آیت صریح ہے کہ مرنے والے مردہ ہیں

إسکے بعد آپ بھکروی صاحب سے سوال کریں:

آیت میں کہاں یہ لفظ ہیں مرنے والے مردہ ہیں بلکہ یہ لفظ ہیں کہ برابر نہیں تو اسکا مطلب تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مرنے والے دنیاوی زندگی والوں کے برابر نہیں یعنی أنکی زندگی و تصرف زیادہ ہوسکتا ہے؟

پھر بھکروی صاحب کہیں گے یہ تصرف کی بات آیت سے کہاں سے ثابت ہے؟

پھر آپ پوچھیں کہ مرنے کے بعد مردہ رہنا زندہ نہ ہونا کہاں سے ثابت ہے۔

أور آخری سؤال کریں:

آیت میں یہ کہاں مراد ہے کہ اموات سے مراد قبر والے ہیں حالانکہ کہ قرآن تو بے إیمان لوگوں کو بھی مردہ کہتا ہے جیسے اسی آیت کی تفسیر میں إمام طبری نے لکھا.

لہذا یہاں اموات سے مراد بے إیمان لوگ ہیں إیمان والے نہیں.

پہلے آپ صرف اتنا ثابت کریں کہ مردہ صرف قبر والے ہوتے ہیں؟

لہذا آیت ( وما انت بمسمع من فی القبور) میں نفی ہماری کی گئی ہے قبر والوں کی نہیں تو پھر مردہ تو ہمیں کہلانا چاہیے نہ کہ قبر والوں کو.

اس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ انسان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن اس موت کے بعد قبر والی زندگی میں اختلاف ہے۔۔

تو جو لوگ بھی مردہ پونے پر قرآن کی آیات کی دلیل دیتے ہیں وہ اس دنیوی زنگی سے جب موت آئے گی أس پہ دیتے ہیں أور اس موت کے بعد جو زندگی ہے أسکی نفی قرآن کی کسی آیت سے نہیں ہوتی۔کیونکہ قرآن تقابل دنیوی زندگی سے کرتا ہے جو محل تکلیف ہے نہ کہ قبر والی زندگی کی۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.