قُلْ لِّمَنۡ مَّا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ قُلْ لِّلّٰهِ‌ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ ‌ ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ ؕ اَلَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 12

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لِّمَنۡ مَّا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ قُلْ لِّلّٰهِ‌ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ ‌ ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ ؕ اَلَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ (ان سے) کہیے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ کس کی ملکیت ہے ‘ آپ کہیے کہ وہ اللہ ہی کی ملکیت ہے ‘ اس نے (محض اپنے کرم سے) اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے ‘ وہ تم کو ضرور قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے ‘ (مگر) جن لوگوں نے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ (ان سے) کہیے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ کس کی ملکیت ہے ‘ آپ کہیے کہ وہ اللہ ہی کی ملکیت ہے ‘ اس نے (محض اپنے کرم سے) اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے ‘ وہ تم کو ضرور قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے ‘ (مگر) جن لوگوں نے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (الانعام : ١٢) 

الوہیت ‘ رسالت اور قیامت پر دلیل : 

اس آیت سے مقصود یہ ثابت کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق اور مستحق عبادت ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے رسول برحق ہیں اور قیامت کے دن مخلوق سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور دلیل کی تقریر یہ ہے کہ کفار اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ تمام آسمان اور زمینیں اور ان میں تمام رہنے والے سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ساری مخلوق اللہ کی مملوک ہے اور مملوک پر اپنے مالک کی اطاعت کرنا لازم ہے۔ سو تمام انسانوں پر لازم ہے کہ صرف اس ایک رب کی عبادت کریں ‘ اور اسی کو عبادت کا مستحق مانیں اور عبادت کا طریقہ بتلانے اور اللہ کے احکام پہنچانے کے لیے ایک رسول کا ہونا ضروری ہے ‘ جو دلیل اور معجزہ سے اپنی رسالت کو ثابت کرے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بکثرت دلائل اور معجزات سے اپنی نبوت و رسالت کو ثابت کیا ہے۔ پھر جو لوگ اللہ کی اطاعت کریں ‘ ان کو اجر دینے کے لیے اور جو نافرمانی کریں ان کو سزا دینے کے لیے ایک دن ہونا چاہیے اور وہ روز قیامت اور روز جزا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کی رحمت کے متعلق احادیث اور ان کی تشریح : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس نے (محض اپنے کرم سے) اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی اس کتاب میں لکھ دیا جو اس کے پاس عرش کے اوپر تھی کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (صحیح مسلم ‘ التوبہ ‘ ١٤ (٢٧٥١) ٦٨٣٦‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣١٩٤‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٧٧٥٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٤٢٩٥‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٢٦٠۔ ٢٥٨۔ ٢٤٢‘ طبع قدیم) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرلیا تو اپنی اس کتاب میں لکھا جو اس کے پاس رکھی ہوئی تھی کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (صحیح مسلم ‘ التوبہ ‘ ١٦‘ (٢٧٥١) ٦٨٣٨‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٧٥٠٣‘ طبع دارالفکر ‘ بیروت) 

اللہ تعالیٰ کی رحمت کا معنی یہ ہے کہ وہ نیکی کرنے والے مسلمان کو ثواب عطا فرمانے اور اپنے بندہ کو نفع پہنچانے کا ارادہ کرے اور اللہ کے غضب کا معنی یہ ہے کہ وہ فاسقوں اور نافرمانوں کو عذاب میں مبتلا کرنے اور مصیبت میں ڈالنے کا ارادہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ کرنا اس کی صفت قدیمہ ہے ‘ جس سے وہ تمام مرادات کا ارادہ فرماتا ہے اور رحمت کی سبقت اور اس کے غلبہ سے مراد یہ ہے کہ رحمت بہت زیادہ اور بہت کثیر افراد کو شامل ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی ایک سو رحمتیں ہیں۔ جنات ‘ انسانوں ‘ جانوروں اور حشرات الارض میں اس نے (صرف) ایک رحمت رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر شفقت اور رحم کرتے ہیں۔ اس رحمت کی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں موخر کر رکھی ہیں۔ ان کے ساتھ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ (صحیح مسلم ‘ التوبہ ‘ ١٩‘ (٢٧٥٢) ٦٨٤٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٩٣) 

یہ دنیا دار البلاء اور دارالتکلیف ہے اور اس دنیا میں بھی اللہ کی ایک رحمت سے مسلمانوں کو ‘ اسلام ‘ قرآن اور نماز کی رحمت حاصل ہوئی ‘ بلکہ تمام شریعت اللہ کی رحمت ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمت رکھی جس سے وہ نیکی ‘ صلہ رحمی اور غریب پروری کرتے ہیں تو ان ننانوے رحمتوں کی وسعت اور گیرائی کے متعلق کوئی شخص کیا تصور کرسکتا ہے جو دار آخرت میں حاصل ہوں گی ‘ جو دار القرار اور دارالجزاء ہے۔ 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں قیدی پیش کیے گئے قیدیوں میں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی۔ اچانک اس نے قیدیوں میں اپنے بچہ کو دیکھا ‘ اس نے بچے کو اپنے پیٹ سے چمٹا لیا اور اس کو دودھ پلایا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے گی ؟ ہم نے کہا نہیں ‘ خدا کی قسم اگر آگ میں ڈالنا اس کے لیے مقدور ہوا تو یہ اپنے بچہ کو کبھی آگ میں نہیں ڈالے گی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اپنے بچہ پر جس قدر رحم کرنے والی ہے ‘ اللہ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ مسلم ‘ التوبہ ‘ ٢٢‘ (٢٧٥٤) ٦٨٤٥‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٩٩٩) 

اس جگہ پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب ماں اپنے بچہ کو آگ میں ڈالنا گوارہ نہیں کرتی تو اللہ اپنے بندوں کو آگ میں ڈالنا کیسے گوارا کرے گا ‘ جبکہ اللہ ماں سے کہیں زیادہ رحیم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا اور جن کو آگ میں ڈالے گا ‘ وہ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ نہیں کہتے۔ کوئی خود کو بتوں کا بندہ کہتا ہے ‘ کوئی اپنے آپ کو سورج ‘ آگ پیپل اور کوئی گائے گا بندہ کہتا ہے اور کوئی خود کو عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کا بندہ کہتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو اللہ کا بندہ کہتا ہے مگر بندگی اپنی خواہشات کی کرتا ہے : 

(آیت) ” ارء یت من اتخذ الھہ ھوہ افانت تکون علیہ وکیلا “۔ (الفرقان : ٤٣) 

ترجمہ : کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنالیا تو کیا آپ اس کی وکالت کریں گے۔ 

ہاں جو لوگ خود کو اللہ کا بندہ کہلانے میں عار نہیں سمجھتے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے برخلاف اللہ تعالیٰ کی اطاعت خوشی سے کرتے ہیں ‘ وہ ان کو آگ میں نہیں ڈالے گا اور ایسے لوگوں سے اگر کبھی انسانی تقاضے سے کوئی لغزش یا اطاعت میں کمی ہوگئی اور انہوں نے پھر توبہ کرکے اللہ کی طرف رجوع کرلیا تو اللہ انہیں معاف فرما دے گا اور ان میں سے اگر کوئی بغیر توبہ کے مرگیا تو اس کے لیے بھی اللہ کی رحمت اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے عفو و درگزر کی گنجائش ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک شخص کی موت کا وقت جب قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا ‘ پھر میرے جسم کو پیسنا اور میری راکھ کو سمندر میں ہوا کے اندر اڑا دینا۔ پس بخدا اگر میرا رب مجھ پر قادر ہوا تو مجھے ایسا عذاب دے گا کہ کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہوگا ؟ اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تمہارے اس فعل کا محرک کیا تھا ؟ اس نے کہا اے میرے رب ! تیرا خوف۔ سو اللہ نے اس وجہ سے اس کو بخش دیا۔ (صحیح مسلم ‘ التوبہ ‘ ٢٥‘ (٢٧٥٦) ٦٨٤٨‘ صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٤٨١‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٤٤٥٥‘ سنن النسائی ‘ ج ٢ رقم الحدیث : ٢٠٧٩) 

اس حدیث میں ہے کہ اگر بخدا میرا رب قادر ہوا تو مجھے ایسا عذاب دے گا۔ (الحدیث) اس پر اعتراض یہ ہے کہ اس شخص کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اللہ کی قدرت پر شک تھا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر شک کرنا کفر ہے۔ اس اعتراض کے متعدد جواب ہیں۔ 

(١) اس شخص کے قول میں ” قدر “ قدرت سے ماخوذ نہیں ہے ‘ بلکہ قضاء قدر کے معنی میں ہے۔ یعنی اگر میرے رب نے میرے لیے عذاب مقرر کردیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا کہ کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہوگا ؛۔ 

(٢) ” قدر “ اس قول میں تنگی کرنے کے معنی میں ہے۔ یعنی اگر میرے رب نے مجھ پر تنگی کی تو مجھے ایسا عذاب دے گا۔ 

قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” فقدر علیہ رزقہ “۔ (الفجر : ١٦) 

ترجمہ : سو اس پر اس کا رزق تنگ کردیا۔ 

(آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “۔ (الانبیاء : ٨٧) 

ترجمہ : یونس نے گمان کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے۔ 

(٣) ” قدر “ قدرت ہی کے معنی میں ہے۔ لیکن اس شخص نے سوچ سمجھ کر یہ لفظ نہیں کہا اور اس نے جو یہ کہا اگر اللہ عذاب دینے پر قادر ہوا تو اس کو ایسا عذاب دے گا اس کلام سے اس کا یہ قصد اور ارادہ نہیں تھا کہ اس کو اللہ کی قدرت پر شک ہے۔ بلکہ اس نے خوف ‘ دہشت اور سخت گھبراہٹ کیفیت میں بغیر تدبر اور تفکر کے یہ الفاظ کہے۔ جیسے کوئی شخص غفلت اور نسیان سے کلمہ کفر کہہ دے تو اس کی تکفیر نہیں کی جاتی ‘ جیسے ایک شخص کو اپنی گم شدہ اونٹنی مل گئی تو اس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے شدت فرح اور خوشی کے جذبات سے بےقابو ہو کر کہا تھا تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں اسی طرح اس نے غلبہ خوف اور دہشت خوف اور دہشت کی وجہ سے سہوا یہ الفاظ کہے اور اس سے اس کی تکفیر نہیں ہوتی۔ 

(٤) عربوں کا ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ وہ یقینی امر کو شک کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” قل من یرزقکم من السموت والارض قل اللہ وانا اوایاکم لعلی ھدی او فی ضلال مبین “۔ (سبا : ٢٤) 

ترجمہ : آپ کہئے تمہیں آسمانوں اور زمینوں سے رزق کون دیتا ہے ؟ـ آپ کہئے اللہ ! اور بیشک ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں۔ 

اسی طرح اس شخص کو اللہ کی قدرت پر یقین تھا لیکن اس امر کو شک کی صورت میں بیان کیا۔ 

(٥) وہ شخص اللہ تعالیٰ کی صفات سے جاہل تھا اور جو شخص اللہ کی کسی صفت سے جاہل ہو اس کی تکفیر متفق علیہ نہیں ہے۔ امام ابن جریر طبری اس کی تکفیر کرتے ہیں ‘ دیگر ائمہ نے کہا کہ اللہ کی صفت سے جہل کفر نہیں ہے ‘ اس کی صفت کا انکار کفر ہے۔ امام ابو الحسن اشعری نے بھی اسی قول کی طرف رجوع کیا ہے۔ 

(٦) وہ شخص زمانہ فترت میں تھا اور اس کے لیے صرف توحید کو ماننا کافی تھا ‘ اور صحیح مذہب یہ ہے کہ شریعت نازل ہونے سے پہلے کوئی شخص کسی حکم کا مکلف نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ (الاسراء : ١٥) 

ترجمہ : ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک رسول نہ بھیج دیں۔ 

(٧) اس شخص نے خود کو حقیر اور مستحق عذاب قرار دینے کے لیے اور اللہ کی رحمت پر امید رکھتے ہوئے یہ کہا تھا ‘ اس کو اللہ کی قدرت پر شک نہیں تھا۔ 

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتوں کے ایک شخص کی روح سے فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ فرشتوں نے پوچھا تم نے کوئی نیکی کی ہے ؟ اس نے کہا نہیں ! فرشتوں نے کہا یاد کرو۔ اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیتا تھا اور میں نے اپنے نوکروں کو حکم دیا تھا کہ جو تنگ دست ہو اس کو مہلت دینا اور خوش حال پر سختی نہ کرنا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا اس سے درگزر کرو۔ حضرت حذیفہ کی ایک اور روایت میں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس چیز کا میں تم سے زیادہ حقدار ہوں میرے بندے سے درگزر کرو۔ (صحیح مسلم ‘ المساقاہ ‘ ٢٦‘ (١٥٦٠) ٣٩١٧‘ صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٢٠٧٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٢٤٢٠) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک شخص راستہ میں چل رہا تھا۔ اس نے راستہ میں کانٹوں کی ایک ٹہنی دیکھی ‘ اس نے اس کو راستہ سے ایک طرف کردیا ‘ اللہ نے اس کے اس فعل کو مشکور کیا اور اس کو بخش دیا۔ امام مسلم کی دوسری روایت میں ہے اس شخص نے کہا بخدا میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستہ سے ہٹاؤں گا ‘ تاکہ ان کو ایذاء نہ پہنچے۔ تو وہ شخص جنت میں داخل کردیا گیا۔ (صحیح مسلم ‘ البروالضلہ ‘ ١٢٨‘ ١٢٧‘ (١٩١٤) ٦٥٤٧‘ ٦٥٤٦‘ صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٧‘ سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٦٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٨٤‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٣٦‘ مسند الحمیدی ‘ رقم الحدیث :‘ ١١٣٤‘ الموطاء ‘ رقم الحدیث : ٢٩٥‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٥٢١‘ طبع قدیم) 

راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ایمان کی گھاٹیوں میں سے ہے ‘ خواہ وہ کانٹوں کی ٹہنی ہو ‘ شیشہ کا ٹکڑا ہو ‘ کیلے یا آم کا چھلکا ہو ‘ کوئی گندی چیز ہو یا مردار ہو۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا اس کو بہت سخت پیاس لگی ‘ اس نے ایک کنواں دیکھا ‘ اس میں اتر کر پانی پیا۔ پھر وہ باہر آیا تو اس نے دیکھا ایک کتا پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے کہا اس کتے کو بھی اتنی ہی پیاس لگی ہوئی ہے جتنی مجھے لگی تھی ‘ وہ کنوئیں میں اترا اور اس نے اپنے موزہ میں پانی بھرا ‘ پھر موزہ کے منہ کو بندہ کر کے کنوئیں سے باہر آیا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس کے اس فعل کو مشکور کیا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے سے بھی ہمیں اجر ملے گا ؟ آپ نے فرمایا ہر زندہ جگر میں اجر ہے۔ (صحیح مسلم ‘ سلام ‘ ١٥٣‘ (٢٢٤٤) ٥٧٥١‘ صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٢٣٦٣‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٢٥٥٠) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک زانیہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتے کو کنوئیں کے گرد چکر لگاتے ہوئے دیکھا جس نے پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکالی ہوئی تھی ‘ اس عورت نے اپنے موزہ میں اس کے لیے پانی بھرا ‘ تو اس عورت کو بخش دیا گیا۔ (صحیح مسلم ‘ سلام ‘ ١٥٤‘ (٢٢٤٥) ٥٦٥٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک بلی کی وجہ سے ایک عورت دوزخ میں داخل ہوگئی ‘ اس نے اس بلی کو باندھ کر رکھا ‘ اس کو خود کھلایا نہ اس کو آزاد کیا ‘ تاکہ وہ زمین سے کچھ اٹھا کر کھا لیتی۔ حتی کہ وہ بھوک سے مرگئی۔ (صحیح مسلم ‘ التوبہ ‘ ٢٦‘ (٢٧٥٦) ٦٨٥٠‘ صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٦٥‘ سنن النسائی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٨١‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٥٦‘ سنن دارمی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨١٤‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨‘ ص ١٤‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٢٦١‘ ١٨١‘ ١٥٩‘ طبع قدیم) 

آثار رحمت کی احادیث ذکر کرنے کے بعد ہم نے آخر میں آثار غضب کی بھی ایک حدیث درج کردی ہے ‘ تاکہ کوئی شخص صرف رحمت پر نظر کرتے ہوئے گناہوں پر بےباک نہ ہوجائے ‘ کیونکہ اگر وہ ایک کتے کو پانی پلانے پر عمر بھر کے گناہ معاف کرکے جنت عطا فرماتا ہے تو ایک بلی کو بھوکا رکھ کر مار دینے پر غضب میں آکر دوزخ میں بھی ڈال دیتا ہے۔ اس لیے اس کی دونوں صفتوں پر نظر رہے اور ایمان ‘ عذاب کے خوف اور ثواب کی امید کی درمیانی کیفیت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 12

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.