وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِى الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ‌ؕ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 13

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِى الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ‌ؕ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ۞

ترجمہ:

رات اور دن میں جو بھی سکونت پذیر ہے وہ سب اللہ ہی کی ملکیت ہے ‘ وہی خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رات اور دن میں جو بھی سکونت پذیر ہے وہ سب اللہ ہی کی ملکیت ہے ‘ وہی خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے۔ آپ کہیے کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو کار ساز بنا لوں جو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کھلایا نہیں جاتا، آپ کہیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوجاؤں اور یہ کہ تم ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ آپ کہیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ جس شخص سے اس دن عذاب دور کردیا گیا تو بیشک اس پر اللہ نے بہت رحم فرمایا اور یہی بہت واضح کامیابی ہے۔ (الانعام : ١٦۔ ١٣) 

مغفرت ‘ نجات اور دخول جنت کا سبب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے نہ کہ اعمال :

بعض مفسرین نے کہا کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے یہ کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ تم نے یہ نبوت کا دعوی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیا ہے۔ ہم تمہارے لیے اس قدر مال جمع کردیتے ہیں کہ تم ہم سب سے غنی ہوجاؤ گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ رات اور دن میں جو چیز بھی متحرک ہے یا ساکن ‘ یا جو چیز بھی سکونت پذیر ہے ‘ وہ سب اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ 

پھر فرمایا آپ کہئے کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو رب ‘ ناصر اور معبود بنا لوں ؟ کیا میں آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے کو چھوڑ دوں ؟ جو اپنی تمام مخلوق کو رزق دیتا ہے اور وہ اپنی حیات اور بقا میں کسی غذا کا محتاج نہیں ہے۔ 

اور چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت میں سب سے سابق ہیں ‘ اس لیے آپ کو سب سے پہلے اسلام لانے کا حکم دیا اور شرک کرنے سے منع کیا۔ پھر فرمایا کہ آپ کہئے اگر میں بھی بالفرض اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ اس میں امت کے لیے تعریض ہے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو معصوم ہیں جن کی وجہ سے ان گنت گنہگار بخشے جائیں گے جب وہ بھی اللہ کی نافرمانی کرنے پر عذاب سے ڈرتے ہیں تو عام مسلمانوں کو اللہ سے کتنا زیادہ ڈرنا چاہیے۔ پھر فرمایا جس شخص سے اس دن عذاب دور کردیا گیا ‘ بیشک اس پر اللہ نے بہت رحم فرمایا : 

معتزلہ یہ کہتے تھے کہ نیک مسلمانوں کو اجر وثواب دینا اور ان کو عذاب سے محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ پر واجب ہے۔ اس کے مقابلہ میں اہل سنت کا یہ مذہب ہے کہ نیک مسلمانوں کو اجر وثواب دینا اور ان کو عذاب سے محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور کافروں اور فاسقوں کو عذاب دینا اللہ تعالیٰ کا عدل ہے اور یہ آیت اہل سنت کی دلیل ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے جس شخص سے اس دن عذاب دور کردیا گیا تو بیشک اس پر اللہ نے بہت رحم فرمایا ‘ اور یہ کہنا اسی وقت مستحسن ہوگا جب نیک مسلمانوں کو عذاب سے بچانا اللہ کا فضل اور احسان ہو۔ اگر ان کو عذاب سے بچانا اللہ پر واجب ہوتا ‘ تو پھر ان کو عذاب سے بچانا اللہ تعالیٰ کا رحم نہ ہوتا ‘ بلکہ یہ ان کا حق ہوتا۔ اور اللہ پر کسی کا حق نہیں ہے اور اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے اور نیک مسلمانوں کو عذاب سے بچانا محض اس کا رحم و کرم فضل و احسان ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا صحابہ کرام نے پوچھایا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھ کو بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ (صحیح مسلم ‘ منافقین ‘ ٧٥‘ (٢٨١٦) ٦٩٨٤‘ صحیح البخاری ‘ ج ٧ رقم الحدیث : ٦٤٦٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٤٢٠١‘ سنن دارمی ‘ ج ٢ رقم الحدیث : ٢٧٣٣‘ مسند احمد ‘ بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٧٢٠٢‘ طبع قاہرہ ‘ مسنداحمد ‘ ج ٢‘ ص ٢٥٦‘ ٢٣٥‘ طبع قدیم) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی سزا دینے کے لیے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ‘ ان کے جسموں پر آگ کے نشان ہوں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے ان کو جنت میں داخل کر دے گا ‘ ان کو جہنم سے نجات یافتہ کہا جائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٧٤٥٥‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٢٠٨‘ طبع قدیم) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں ‘ وہ اس مسلمان کو اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے جنت میں داخل کردیں گے (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٤٨‘ سنن نسائی ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٧٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٠٥‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٥١٠‘ طبع قدیم) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل سے سوال کرو ‘ کیونکہ اللہ اس کو پسند کرتا ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور کشادگی کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو اسید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا کرے ‘ اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے درواز کھول دے اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا کرے ‘ اے اللہ ‘ میں تجھ سے تیرے فضل سے سوال کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم ‘ مسافرین ‘ ٦٨‘ (٧١٣) ١٦٢٢‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٥‘ سنن نسائی ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٩‘ سنن کبری ‘ للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٠٠٥‘ عمل الیوم واللیلہ النسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٩١‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٧٢‘ سنن دارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٩٤‘ ج ٢‘ ٢٦٩١‘ مسند ‘ ج ٥‘ ص ٤٢٥‘ طبع قدیم) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استخارہ کی جو دعا تعلیم فرمائی ہے ‘ اس میں ایک جملہ یہ ہے۔ 

اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فضل عظیم سے سوال کرتا ہوں۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١١٦٢‘ سنن نسائی ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٥٣‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٣٤٤‘ طبع قدیم) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت قبیصہ بن مخارق (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا اے قبیصہ تم کس کام سے آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری ہڈی کمزور ہوگئی ہے ‘ میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے ایسے عمل کی تعلیم دی جس سے اللہ عزوجل مجھے نفع دے۔ آپ نے فرمایا اے قبیصہ تم کسی پتھر ‘ درخت یا مٹی کے ڈھیلے کے پاس سے نہیں گزرو گے ‘ مگر وہ تمہارے لیے استغفار کرے گا۔ اے قبیصہ ! تم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد تین دفعہ یہ پڑھو ” سبحان اللہ العظیم وبحمدہ “ تم نابینا ہونے ‘ جذام اور فالج سے محفوظ رہو گے۔ اے قبیصہ ! تم یہ دعا کرو اے اللہ ! میں تجھ سے ان چیزوں سے سوال کرتا ہوں جو تیرے پاس ہیں ‘ تو مجھ پر اپنے فضل سے فیضان فرما اور مجھ پر اپنی رحمت بکھیر دے اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما۔ (مسند احمد ج ٥‘ ص ٦٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ طبع قدیم) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں قرات سے پہلے جب سکوت کرتے تو اللہ سے اس کے فضل سے سوال کرتے تھے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ طبع قدیم) 

اللہ کے فضل اور رحمت سے دخول جنت کی تحقیق : 

اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ عقل سے ثواب اور عذاب ثابت نہیں ہوتا اور نہ احکام تکلیفیہ عقل سے ثابت ہوتے ہیں۔ یہ تمام امور شرع سے ثابت ہوتے ہیں۔ نیز اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے ‘ تمام جہان اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور دنیا وآخرت میں اس کی سلطنت ہے۔ وہ جو چاہے ‘ کرے۔ اگر وہ تمام اطاعت کرنے والوں اور صالحین کو دوزخ میں ڈال دے تو یہ اس کا عدل ہوگا اور جب وہ ان پر اکرام اور احسان کرے گا اور ان کو جنت میں داخل کر دے گا تو یہ اس کا فضل ہوگا اور اگر وہ کافروں پر اکرام کرے اور ان کو جنت میں داخل کر دے تو وہ اس کا بھی مالک ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا اور اس کی خبر صادق ہے اور اس کی خبر کا کاذب ہونا محال ہے۔ اس نے یہ خبر دی ہے کہ وہ مومنوں کی مغفرت کر دے گا اور اپنی رحمت سے ان کو جنت میں داخل فرمائے گا ‘ اور یہ اس کا فضل ہے اور کافروں اور منافقوں کو عذاب دے گا اور ان کو ہمیشہ دوزخ میں رکھے گا۔ اس کے برخلاف معتزلہ کہتے ہیں کہ احکام تکلیفیہ عقل سے ثابت ہیں اور نیک اعمال کا اجروثواب دینا واجب ہے۔ 

ہم نے جو احادیث بیان کی ہیں ان میں اہل سنت کی دلیل ہے کہ کوئی شخص اپنی اطاعت کی وجہ سے جنت کا مستحق نہیں ہے ‘ بلکہ جنت کا مدار عمل پر نہیں محض اللہ کے فضل پر ہے۔ البتہ بعض آیتیں بظاہر معتزلہ کی موید ہیں۔ 

(آیت) ” ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون “۔ (النحل : ٣٢) 

ترجمہ : ان اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجاؤ جو تم کرتے تھے۔ 

(آیت) ” وتلک الجنۃ التی اور ثتموھا بما کنتم تعملون “۔ (الزخرف : ٧٢)

ترجمہ : اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کیے گئے ہو ‘ ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔ 

یہ آیتیں اور اس نوع کی دوسری آیتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ جنت میں دخول کا سبب نیک اعمال ہیں ‘ لیکن نیک اعمال کی توفیق اور اعمال میں اخلاص کی ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور اپنی رحمت سے ان نیک اعمال کو قبول فرماتا ہے تو حاصل اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ جنت محض عمل سے نہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے ‘ اس کی توفیق اور ہدایت نہ ہو تو کوئی نیک عمل کیسے کرسکتا ہے۔ 

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ ایک جنت میں دخول کا صوری اور ظاہری سبب ہے اور ایک حقیقی سبب ہے۔ ظاہری اور صوری سبب نیک اعمال ہیں اور حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔ ان آیتوں میں ظاہری سبب یعنی اعمال کی طرف دخول جنت کی نسبت فرمائی ہے اور جو احادیث ہم نے ذکر کی ہیں ‘ ان میں دخول جنت کی نسبت حقیقی سبب یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی طرف فرمائی ہے اور عمل کی جو نفی ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ دخول جنت کا حقیقی سبب اعمال نہیں ہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ بعض علماء نے کہا جنت میں دخول ایمان کی وجہ سے ہوگا۔ درجات اعمال کی وجہ سے ملیں گے اور جنت میں دوام مومن کی نیت کی وجہ سے ہوگا ‘ کیونکہ مومن کی نیت ہمیشہ ایمان پر قائم رہنے کی ہوتی ہے ‘ اس لیے اس کو اجروثواب بھی ہمیشہ ہمیشہ ملتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 13

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.