اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک ہے۔ اس ماہ مبارک کی برکتوں کے تو کیا کہنے۔ جیسے ہی ماہ رمضان کا ہلال نظر آتا ہے۔ہر طرف نور ہی نور، ہوا، فضا اور موسم میں ایک عجیب سا کیف و سرور نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ بدل گیا ہے۔ آسمانوں سے رحمتوں کی بارش، زمین والوں پر ہر لمحہ نوازش، زمین پر معصوم ملائکہ کا نزول، عاصیوں کے لئے مغفرت کے پروانے تقسیم، نیکو کاروں کے لئے درجات میں بلندی کی بشارتیں، سحری کے ایمان افروز لمحات، افطار کی بابرکت گھڑیاں، دعائوں کی قبولیت کی ساعتیں، تراویح کی حلاوتیں، تہجد کی نماز کی چاشنی، تلاوت قرآن سے فضائوں کا گونجنا، نعت مصطفیﷺ سے مسلمانوں کا جھومنا، حالت روزہ میں دلوں کا جگمگانا، روزہ داروں کے پررونق چہرے، مساجد میں مسلمانوں کا جم غفیر، صدقات و خیرات و زکوٰۃ کا تقسیم ہونا، کوئی اشارہ مل رہا ہے، دل گواہی دے رہا ہے، خشوع و خضوع بڑھتا چلا جارہا ہے۔ عبادت کا ذوق و شوق بڑھتا چلا جارہا ہے۔ یقینا یقینا کریم مہینہ جلوہ افروز ہوچکا ہے۔ کریم پروردگار جل جلالہ کے در سے، کریم رسول ﷺ کے صدقے میں، رمضان کریم تشریف لایا ہے۔

اس کی لذت اہل عشق ہی محسوس کرسکتے ہیں۔ ہم جیسے ناتواں، کمزور، گنہگار، بدکار، سیاہ کار، عصیاں شعار، ہر طرح سے بے کار اور بے قدرے لوگ اس کی قدورمنزلت کیا جانیں؟ اہل دل ہی اس ماہ کا مقام و مرتبہ جان سکتے ہیں۔

اس ماہ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس ماہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا، سورۂ بقرہ کے 23 ویں رکوع کی آیت 185 میں ارشاد ہوتا ہے۔

القرآن: شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن، ہدی للناس وبینٰت من الہدی والفرقان

ترجمہ: رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں (سورۂ بقرہ،آیت 185، پارہ 2)

جب کلام الٰہی سب کلاموں کا سردار ہے تو جس ماہ مقدس میں اس کا نزول ہوا، وہ مہینہ دیگر مہینوں کا سردار کیونکر نہ ہو؟ قرآن مجید کے علاوہ اﷲ تعالیٰ کی اور کتابیں بھی اسی ماہ رمضان میں نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے یکم یا تین رمضان کو نازل ہوئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت چھ رمضان المبارک کو، حضرت عیسٰی علیہ السلام پر انجیل بارہ یا چودہ رمضان المبارک کو، حضرت دائود علیہ السلام پر زبور بارہ یا اٹھارہ رمضان المبارک کو نازل ہوئی اور قرآن مجید لیلۃ القدر (ستائیسویں شب) میں نازل ہوا۔ لہذا اس مہینے کو قرآن مجید سے خاص مناسبت ہے۔ اسی لئے حضور اکرم نور مجسمﷺ اس مہینے میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے تھے اور آپ اس مہینے میں چھوٹی ہوئی تیز ہوائوں سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔

ماہ رمضان المبارک کے فضائل و برکات

حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے، تو اﷲ تعالیٰ اس کے ہر سجدہ کے عوض(یعنی بدلہ میں) اس کے لئے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے پٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے۔ پس جو کوئی ماہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ مہینے کے آخر دن اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لئے صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے اس ہر سجدہ کے عوض (یعنی بدلے) اسے (جنت میں) ایک ایسا درخت عطا کیا جاتا ہے کہ اس کے سائے میں گھوڑے سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے (شعب الایمان جلد 3 صفحہ نمبر 314)

حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ ماہ رمضان میں روزانہ افطار کے وقت دس لاکھ ایسے گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جن پر گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکا تھا، نیز شب جمعہ اور روز جمعہ (یعنی جمعرات کو غروب آفتاب سے لے کر جمعہ کو غروب آفتاب تک) کی ہر ہر گھڑی میں ایسے دس دس لاکھ گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دیئے جاچکے ہوتے ہیں ۔

(کنزالعمال جلد 8 صفحہ نمبر 223)

حدیث شریف: حضرت ضمرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالمﷺ کا فرمان ہے کہ ماہ رمضان میں گھر والوں کے خرچ میں کشادگی کرو کیونکہ ماہ رمضان میں خرچ کرنا اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہیں (کنزالعمال جلد 8، صفحہ نمبر 216)

حدیث شریف: حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملیں۔

1۔ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔

2۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔

3۔ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔

4۔ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’میرے (نیک) بندوںکے لئے مزین (یعنی آراستہ) ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے‘‘

5۔ پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔

قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی، یارسول اﷲﷺ کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ ارشاد فرمایا نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انہیں اجرت دی جاتی ہے (الترغیب والترہیب جلد دوم صفحہ نمبر 20)

محترم حضرات! آپ نے ماہ رمضان شریف کے فضائل و مناقب احادیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔ حقیقت میں کیاشان ہے ماہ رحمت و مغفرت کی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مہینہ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے ہر صورت ہماری مغفرت کروانے کے لئے تشریف لاتا ہے۔ جنت کے پروانے تقسیم کرنے کے لئے تشریف لاتا ہے۔

٭ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے ’’اس مہینہ کو خوش آمدید ہے جو ہمیں پاک کرنے والا ہے۔ پورا رمضان خیر ہی خیر ہے۔ دن کا روزہ ہو یا رات کا قیام۔ اس مہینہ میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کا درجہ رکھتا ہے‘‘ (تنبیہ الغافلین صفحہ نمبر 321)

٭ حضرت مولیٰ علی شیر خدا کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں ’’اگر اﷲ تعالیٰ کو امت محمدیﷺ پر عذاب کرنا مقصود ہوتا تو ان کو رمضان اور سورۂ اخلاص ہرگز عنایت نہ فرماتا‘‘ (نزہۃ المجالس، جلد اول صفحہ نمبر 163)

٭ منقول ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے امت محمدیہﷺ کو دو نور عطا کئے ہیں تاکہ وہ دو اندھیروں کے ضرر (یعنی نقصان) سے محفوظ رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی یااﷲ جل جلالہ! وہ کون کون سے نور ہیں؟ ارشاد ہوا نور رمضان اور نور قرآن۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی دو اندھیرے کون کون سے ہیں، فرمایا! ایک قبر کا اور دوسرا قیامت کا (درۃ الناصحین ص 11)

رمضان المبارک میں گناہ کرنے والوں کا انجام

حدیث شریف: سیدہ ام ہانی رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میری امت ذلیل و رسوا نہ ہوگی جب تک ماہ رمضان کے حق کو ادا کرتی رہے گی۔‘‘ عرض کی گئی یارسول اﷲﷺ! رمضان کے حق کو ضائع کرنے میں ان کا ذلیل و رسوا ہونا کیا ہے؟ فرمایا اس ماہ میں ان کا حرام کاموں کا کرنا، پھر ارشاد فرمایا جس نے اس ماہ میں زنا کیا، یا شراب پی تو اگلے رمضان تک اﷲ تعالیٰ اور جتنے آسمانی فرشتے ہیں سب اس پر لعنت کرتے ہیں۔ پس اگر یہ شخص اگلے ماہ رمضان کو پانے سے پہلے ہی مرگیا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جو اسے جہنم کی آگ سے بچا سکے۔ پس تم ماہ رمضان کے معاملے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اس ماہ میں اور مہینوں کے مقابلے میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں، اسی طرح گناہوں کا بھی معاملہ ہے (طبرانی معجم صغیر جلد اول صفحہ نمبر 248)

٭ ایک بار حضرت علی رضی اﷲ عنہ زیارت قبور کے لئے کوفہ کے قبرستان تشریف لے گئے۔ وہاں ایک تازہ قبر پر نظر پڑی۔ آپ کو اس کے حالات معلوم کرنے کی خواہش ہوئی۔ چنانچہ بارگاہ خداوندی میں عرض گزار ہوئے۔ یااﷲ جل جلالہ! اس میت کے حالات مجھ پر منکشف (یعنی ظاہر) فرما۔ فورا اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی التجا مسموع ہوئی (یعنی سنی گئی) اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے اور اس مردے کے درمیان جتنے پردے تھے، تمام اٹھا دیئے گئے۔ اب ایک ہیبت ناک منظر آپ کے سامنے تھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مردہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور رو رو کر اس طرح آپ سے فریاد کررہاہے۔ اے علی رضی اﷲ عنہ میں آگ میں جل رہا ہوں۔ قبر کے دہشت ناک منظر اور مردہ کی چیخ و پکار اور دردناک فریاد نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو بے قرار کردیا۔ آپ نے اپنے رحمت والے رب جل جلالہ کے دربار میں ہاتھ اٹھا دیئے اور نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اس میت کی بخشش کی درخواست پیش کی۔ غیب سے آواز آئی ’’اے علی رضی اﷲ عنہ! آپ اس کی سفارش نہ ہی فرمائیں کیونکہ روزے رکھنے کے باوجود یہ شخص رمضان المبارک کی بے حرمتی کرتا، رمضان میں بھی گناہوں سے باز نہ آتا تھا۔ دن کو روزے تو رکھ لیتا مگر راتوں کو گناہوں میں مبتلا رہتا تھا۔‘‘ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سجدے میں گر کر رو رو کر عرض کرنے لگے یااﷲ جل جلالہ! میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے۔ اس بندے نے بڑی امید کے ساتھ مجھے پکارا ہے میرے مالک! تو مجھے اس کے آگے رسوا نہ فرمانا۔ اس کی بے بسی پر رحم فرمادے اور اس بے چارے کو بخش دے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ رو رو کر مناجات کررہے تھے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمت کا دریا جوش میں آگیا اور ندا آئی، اے علی رضی اﷲ عنہ! ہم نے تمہاری شکستہ دلی کے سبب اسے بخش دیا چنانچہ اس مردے پر سے عذاب اٹھالیا گیا (انیس الواعظین صفحہ نمبر 25)

محترم حضرات! جہاں ماہ رمضان کے فضائل و برکات ہیں وہاں اس ماہ کی تعظیم و توقیر نہ کرنے والوں کے لئے بہت شدید عذاب کی وعید ہے لہذا ہم سے جس قدر ہوسکے، اس ماہ مقدس کی تعظیم و توقیر کرنی چاہئے۔ ہم ناتواں ہیں۔ اگر عبادت زیادہ نہیں کرسکتے تو نہ کریں مگر گناہوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کریں۔