خیر الاذکیاء حضور علامہ محمد احمد مصباحی صاحب

ناظم تعلیمات الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور فرماتے ہیں:

*”اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی کتابوں کا مطالعہ کیجئے کہ حقیقی علم ان کتابوں سے آپ کو حاصل ہوگا اور ساتھ ساتھ طرز تحقیق، طرز بیان، طرز گفتگو بھی معلوم ہوگا، جو چیزیں آپ کو بہت سی کتابوں میں نہیں ملیں گی وہ آپ کو اعلیٰ حضرت کے رسائل میں ملیں گی اور میں بارہا یہ سیمیناروں میں، مجمعوں میں کہا ہے اور نجی مجلسوں میں بھی کہ بر صغیر کے ماحول میں اعلیٰ حضرت کے رسائل کے مطالعے کے بغیر کوئی شخص کما حقہ عالم نہیں ہوسکتا، یہاں ہم نصاب کی تکمیل کرنے والے کو سند جاری کردیتے ہیں عالم فاضل اس کو بتا دیتے ہیں، لیکن جس قدر وہ اعلیٰ حضرت کی کتابوں سے دور ہوگا، اسی قدر اس کے اندر سطحیت زیادہ ہوگی اور جس قدر وہ کتب اعلیٰ حضرت کو گہرائی اور گیرائی سے دیکھے گا اسی قدر اس کے اندر ژرف نگاہی اور تعمق پیدا ہوگا اور اسی قدر اس کے علم میں جلا آئیگی۔”*

*آپ خود اس کا مطالعہ کرکے تجربہ کرسکتے ہیں اور اس کا مطالعہ کرنا اور تجربہ کرنا ضروری بھی ہے، دوطرح کے انسان ہوتے ہیں، ایک تو کم علم ہوتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے علم کو روشنی بخشنے کے لیے اعلیٰ حضرت کے رسائل کا مطالعہ کریں، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جنھوں نے درس نظامی کا کورس مکمل کرلیا اور ہر درجہ میں فرسٹ نمبر حاصل کیا تو سمجھ لیا کہ ہم بہت بڑے علامہ، فہامہ ہوگئے، وہ اعلیٰ حضرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ طفل مکتب بھی نہیں ہیں جب ان کی تصانیف اور تحقیقات کو دیکھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ کس جبل شامخ اور کس بلند پہاڑ کے سامنے ہم ہیں، کہتے ہیں :*

*جب تک اونٹ نے پہاڑ نہیں دیکھا ہے تب تک وہ سمجھتا ہے کہ اس سے بڑا کوئی نہیں ہے اور جب پہاڑ کے سامنے آتا ہے تب اس کو اپنی بساط معلوم ہوتی ہے تو اپنی بساط اور حقیقت معلوم کرنے کے لیے بھی ہم اس جبل شامخ کی کتابوں کا مطالعہ کریں، اس سے استفادہ بھی کریں اور ساتھ ساتھ اپنی اوقات بھی معلوم کریں کہ اتنی عمر صرف کرنے کے بعد ہم کہاں تک پہنچے۔*

از نوائے دل ص 243

منجانب محمد صفی الله مصباحی