حدیث نمبر :525

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خون گراتی تھی ۱؎ اس کے متعلق حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا۲؎ فرمایا کہ وہ رات دن مہینے کے گن لے جن میں اس بیماری کے لگنے سے پہلے حیض آتا تھا مہینے میں اتنے دن نماز چھوڑ دے پھرجب یہ دن گزرجائیں تو غسل کرے اور کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھرنمازپڑھتی رہے۳؎ (مالک،ابوداؤد،دارمی)نسائی نے اس کے معنی کی روایت کی۔

شرح

۱؎ ان بی بی صاحبہ کا نام معلوم نہ ہوسکا۔تُھْرَاقُ اور تَھْرِیْقُ دونوں طرح روایت ہے لا زائدہ ہے۔باب افعال کا مضارع معروف یامجہول تُرِیْقُیا تُرَاقُ تھا۔

۲؎ یعنی خود تو شرم کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ سکیں حضرت ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا،حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرکے انہیں مسئلہ بتایا۔خیال رہے کہ ان پاک بیبیوں کے مختلف حال تھے،بعض تو تحقیق مسئلہ کو شرم پر مقدم رکھتی تھی،اوربعض شرم سے خود نہ پوچھتیں دوسرے ذریعہ سے دریافت کرالیتی تھیں،وہ سب اﷲ کی پیاری تھیں”وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی”سب سے جنت کاوعدہ ہوچکاہے۔

۳؎ یعنی مستحاضہ اپنے ہر مہینہ کے دو حصے کرے،ایک حصہ کو حیض شمار کرے،تین دن سے دس دن تک جس قدر پہلے حیض آتا رہا ہو وہ حیض باقی استحاضہ۔مستحاضہ کولنگوٹ باندھنے کا حکم استحبابی اوراحتیاطی ہے تاکہ خون سے مصلے اورکپڑے گندے نہ ہوں وجوبی نہیں،اگربغیرلنگوٹ کسی اورذریعہ سے یہ مقصدحاصل ہوجائے تو وہ کرے اوراگرکسی طرح خون رکتا نہ ہوتونمازپڑھتی رہے اگرچہ خون مصلے پرٹپکتارہےجیساکہ دوسری روایات میں ہے۔تمام معذوروں کو یہی حکم ہے جیسے نکسیر،سلسل بول والے لوگ۔