حدیث نمبر :527

روایت ہے حضرت حمنہ بنت جحش سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ مجھے بہت سخت استحاضہ آتاتھا۲؎ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اوریہ خبردینے حاضرہوئی میں نے حضورکو اپنی بہن زینب بنت جحش کے گھر پایا۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے بہت سخت استحاضہ آتا ہے آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں مجھے تو اس نے روزہ نماز سے روک دیاہے۴؎ فرمایا میں تمہارے واسطے گدی تجویز کرتا ہوں کہ یہ خون چوس لے گی ۵؎ عرض کیا وہ تو اس سے زیادہ ہے فرمایا تو لنگوٹ باندھو۶؎ عرض کیا وہ اس سے بھی زیادہ ہے فرمایا تو کپڑا رکھ لو ۷؎ عرض کیا وہ خون اس سے بھی زیادہ ہے میں تو خون ڈالتی بہاتی ہوں۸؎ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم کو دوباتوں کا حکم دیتا ہوں ان میں جو کرلوگی وہ دوسرے سے کفایت کرے گا اگر دونوں کرسکو تو تم جانو۹؎ فرمایا یہ بیماری شیطان کے چوکھوں ہی سے ایک چوکھ ہے۱۰؎ تم چھ یا سات دن حیض کے شمار کرلیا کرو رب کے علم میں۱۱؎ پھرنہالیاکرو،پھر جب یہ سمجھو کہ تم خوب پاک اور صاف ہوگئیں تو تئیس یاچوبیس دن ورات نمازیں پڑھو،روزے رکھو۱۲؎ کہ یہ تمہیں کافی ہوگا،ہرمہینہ یوں ہی کرلیاکروجیسے عمومًاعورتیں اپنے حیض وطہرکے اوقات میں ناپاک وپاک رہتی ہیں۱۳؎ اور اگرتم اس پرطاقت رکھو کہ ظہردیر سے اور عصرجلدی پڑھوتو ایک غسل کرو اور دو نمازیں ظہرو عصرجمع کرلیاکرو اورمغرب دیرسے عشاءجلدی پڑھوتو غسل کرو اور دونمازیں جمع کرلوتو ایساکرو اورفجرکے ساتھ غسل کروتو ایساکرلیاکرو۱۴؎ اور روزے رکھو اگر اس پرقادرہو۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دونوں کاموں میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے ۱۵؎ (احمد،ابوداؤد،ترمذی)

شرح

۱؎ آپ حضرت ام المؤمنین زینب بنت جحش کی بہن اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سالی ہیں۔اولًا حضرت مصعب ابن عمیر کے نکاح میں تھیں ان کی شہادت کے بعد طلحہ ابن عبداﷲ کے نکاح میں آئیں رضی اللہ عنہما۔

۲؎ یعنی مجھے استحاضہ کا خون بہت آتا تھااوربہت عرصہ تک رہا،کثیرہ اور شدیدہ میں ان دونوں کی طرف اشارہ ہے۔یہاں استحاضہ پرمجازًا حیض بولاگیا۔

۳؎ یعنی اس دن حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی باری میری بہن زینب بنت جحش کے گھرتھی اس سے مجھے پوچھنے میں اور آسانی ہوگئی۔

۴؎ کیونکہ حضرت حمنہ سمجھی ہوئی تھیں کہ حیض کی طرح استحاضہ میں بھی نماز روزہ ممنوع ہے۔یہ عرض و معروض اپنے علم کے مطابق ہے۔

۵؎ یعنی گدی وغیرہ کا مشورہ اس لئے ہے کہ خون کپڑوں کو نہ لگے اور کپڑے خراب نہ ہوں لہذا یہ مشورہ ہے حکم نہیں۔

۶؎ اس طرح کہ نیچے گدی رکھو فرج سے متصل اس پر کپڑے کا لنگوٹ کس کر باندھو تاکہ خون نہ ٹپکے۔

۷؎ اس طرح کہ نیچے روئی کی گدی ہو اوپرلنگوٹ اورلنگوٹ پرتیسرا کپڑاجوخون جذب کرنے میں مدد دے۔

۸؎ ثج بہنے والی بارش کو کہتے ہیں۔رب فرماتا ہے:”مَآءً ثَجَّاجًا”یعنی مجھے خون ایسا آتا ہے جیسے بارش کا بہنے والاپانی جوکسی تدبیرسے نہ ٹھیرتاہے نہ کسی چیزمیں جذب ہوتاہے۔

۹؎ یعنی اگرہمارے بتائے ہوئے دونوں کام کرلو تو بہترورنہ ایک ہی عمل کافی ہے،یعنی ایک پرعمل رخصت ہے دونوں پرعمل عزیمت۔

۱۰؎ یعنی یہ جوخون کی زیادتی شیطان کے اثرات سے ہے کہ اس نے تیرے رحم کی رگ میں انگلی ماری جس سے یہ بیماری پیداہوگئی۔معلوم ہوا کہ جیسے انسان کی مار سے بیماریاں پیداہوجاتی ہیں،سرپھٹ جاتے ہیں،ایسے ہی شیطان کے اثر سے بعض بیماریاں پیداہوجاتی ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:”یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ”۔معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو چھوکردیوانہ کردیتاہے،فرماتا ہے:”وَمَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ”۔معلوم ہوا کہ شیطان کے اثر سے نسیان و بھول کا مرض پیدا ہوجاتا ہےیا مطلب یہ ہے کہ یہ وہم کہ مجھ پرنمازفرض نہ رہی،یااستحاضہ نمازسے روکتاہے یہ شیطان کی طرف سے ہےیاحیض ونفاس کا خلط ہوجانا اس میں فرق نہ کرسکناشیطان کی طرف سے ہے۔

۱۱؎ علم اللہ سے مراد اﷲ کا حکم ہے،یعنی اس بیماری سے پہلے تمہارے متعلق جواﷲ کا حکم تھا کہ مہینہ میں اتنے دن حیض جس میں نمازیں معاف،اتنے دن کی پاکی جن میں نمازفرض یاعلم اﷲ سے مراد اﷲ کابتاناہے،یعنی جو کچھ رب نے تمہیں اس بیماری سے پہلے اپنے ایام حیض اورزمانۂ طہارت کے متعلق علم بخشا تھا اس کا لحاظ رکھو وہ ہی حساب اب بھی ہوگا۔

۱۲؎ یعنی اگرتمہیں اس بیماری سے پہلے مہینہ میں چھ دن حیض آتا تھااورچوبیس دن پاک رہتی تھیں تو اب بھی وہ ہی حساب رکھو۔اوراگرسات دن حیض تئیس دن پاکی رہا کرتی تھی تو وہی حساب اب بھی رکھو اور ایام حیض گزرنے پرصرف ایک بارغسل کرلیاکروباقی دنوں میں ہرنمازکے وقت وضوکرکے نمازپڑھتی رہو اگرچہ خون آتا رہے تمہیں یہ کافی ہے۔

۱۳؎ یعنی اس مسئلہ میں استحاضہ کی بیماری والی کا حال تندرست عورتوں کی طرح ہی ہوگا۔

۱۴؎ یہ عمل خوب پاکی وصفائی کا ذریعہ بھی ہے اوراس بیماری کا علاج بھی،حضورحکیم جان و ایمان بھی ہیں،اور حکیم اجسام بھی۔اس عمل کا خلاصہ یہ ہے کہ مستحاضہ عورت روزانہ تین بارغسل کرے ایک تو فجر کی نماز کے لیے اور دوسرا ظہر کے آخری وقت کہ نہاتے ہی ظہر پڑھے اورظہر پڑھتے ہی وقت عصر آجائے وہ بھی پڑھ لے،ظہر آخروقت میں ادا کرے عصر اول وقت میں۔تیسراغسل مغرب کے آخر وقت میں جس غسل سے نمازمغرب وعشاءدونوں اداہوجائیں،مغرب آخر وقت عشاءاول وقت،جیسے مسافربحالت سفرنمازیں جمع کرتاہے،یہ جمع نمازبھی حکم شرعی لازمی نہیں،اگرعورت پانچوں نمازوں کے لئے پانچ غسل کرے تو بہت اچھا۔غرض کہ یہ مشورہ ہے حکم لزومی نہیں۔فقیر کی یہ شرح بفضلہ تعالٰی اس حدیث کو حل کردے گی اور مذہب حنفی کے خلاف نہ ہوگی۔امام اعظم اس عورت کو یہ اختیاردیتے ہیں رضی اللہ عنہ۔یہی قول ہے حضرت علی،ابن مسعود،ابن زبیراوراکثرتابعین کا رضی اللہ عنہم۔

۱۵؎ یعنی صرف ایک بارغسل کرنے سے روزانہ تین بارغسل کرنا مجھے بہت پسند ہے کہ اس میں پاکی وصفائی بھی زیادہ ہے اوران شاءاﷲ صحت و تندرستی بھی،لہذا روزانہ پانچ بارغسل کی ممانعت اس سے ثابت نہیں ہوتی۔