ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں

القرآن: یاایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام، کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (سورۂ بقرہ آیت 183، پارہ 2)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے

اس آیت مبارکہ میں ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا ذکر ہوا توحید و رسالت کا اقرار کرنے اور تمام ضروریات دین پر ایمان لانے کے بعد جس طرح ہر مسلمان پر نماز فرض قرار دی گئی ہے اسی طرح رمضان المبارک کے روزے بھی ہر مسلمان (مرد و عورت) عاقل و بالغ پر فرض ہیں۔ درمختار علی مع رد المحتار جلد سوم صفحہ نمبر 330 پر درج ہے کہ روزے دس شعبان المعظم 2ھ کو فرض ہوئے۔

ماہ رمضان کے روزوں کی فضیلت

حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہئے اس سے بچا تو جو (کچھ گناہ) پہلے کرچکا ہے اس کا کفارہ ہوگیا (صحیح ابن حبان جلد 5 صفحہ نمبر 183)

حدیث شریف: حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں آدمی کے ہر نیک کام کا بدلہ دس سے سات سو گناہ تک دیاجاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔ سوائے روزے کے روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا میں دوں گا۔ اﷲ تعالیٰ کا مزید ارشاد ہے بندہ اپنی خواہش اور کھانے کو صرف میری وجہ سے ترک کرتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب جل جلالہ سے ملنے کے وقت۔ روزہ دار کے منہ کی بو اﷲ کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے ۔(صحیح مسلم جلد اول صفحہ نمبر 363)

حدیث شریف: حضرت سہل بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریّان کہا جاتا ہے اس سے قیامت کے دن روزہ دار داخل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا۔کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟ پس یہ لوگ کھڑے ہوں گے ان کے علاوہ کوئی اور اس دروازے سے داخل نہ ہوگا۔ جب یہ داخل ہوجائیں گے تو دروازہ بند کردیاجائے گا پس پھر کوئی اور اس دروازے سے داخل نہ ہوگا (صحیح بخاری، جلد 2، ص 277)

حدیث شریف: حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے ماہ رمضان کا ایک روزہ بھی خاموشی اور سکون سے رکھا اس کے لئے جنت میں ایک گھر سرخ یاقوت یا سبز زمرو کا بنایا جائے گا۔ (مجمع الزوائد جلد سوم، صفحہ نمبر 346)

حدیث شریف: حضرت عبداﷲ بن ابی اوفیٰ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالمﷺ کا فرمان ہے کہ روزہ دار کا سونا عبادت اور اس کی خاموشی تسبیح کرنا اور اس کی دعا قبول اور اس کا عمل مقبول ہوتا ہے (شعب الایمان جلد 2 صفحہ نمبر 415)

روزہ چھ چیزوں کا

علماء فرماتے ہیں کہ روزہ چھ چیزوں کا ہے۔

(1) آنکھ کا بدنظری اور تاک جھانک سے بچے (2) کانوں کا کہ جھوٹ، غیبت اور گانے بجانے کے سننے سے بچائے (3) زبان کا کہ جھوٹ، غیبت، گالیوں، فضول اور بے ہودہ بکواس سے بچائے (4) باقی بدن کا کہ ہاتھوں سے چوری اور ظلم نہ کرے اور پیروں سے چل کر کسی بری اور گناہ کی جگہ نہ جائے (5) حرام غذا کا کہ اس سے پرہیز کرے اور حلال بھی جہاں تک ہو، کم کھائے تاکہ روزے کے انوار اور برکات حاصل ہوں (6) پھر ڈرتا رہے کہ خدا جانے یہ روزہ قبول بھی ہوگا یا نہیں کہ شاید کوئی غلطی ہوگئی ہو مگر اس ڈر کے ساتھ کریم پروردگار کے کرم کے بھروسہ پر امید بھی رکھے۔

اور خاص بندوں کے لئے ان چھ کے ساتھ ایک ساتویں چیز اور ہے کہ حق تعالیٰ کے سوا ہر چیز کی طرف سے دل کو ہٹالے یہاں تک کہ افطاری کا سامان بھی نہ کرے۔

احیاء کی شرح میں بعض بزرگوں کا قصہ آیا ہے کہ اگر کہیں سے افطاری آجاتی تو اس کو خیرات کر ڈالتے تاکہ دل اس میں مشغول نہ رہے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ کتب علیکم الصیام میں انسان کی ہر چیز پر روزہ فرض کیا گیا ہے۔ پس زبان کا روزہ، جھوٹ اور غیبت سے بچنا ہے اور کان کا روزہ ناجائز چیزوں کے سننے سے پرہیز ہے اور آنکھوں کا روزہ کھیل تماشے سے بچنا ہے اور نفس کا روزہ حرص اور خواہشوں سے اور دل کا روزہ دنیا کی محبت سے بچنا ہے اور روح کا روزہ یہ ہے کہ آخرت کی لذتوں کی بھی خواہش نہ ہو اور سر خاص کا روزہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے سوا کسی پر بھی نظر نہ ہو۔