أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

اور (اے مخاطب) اگر اللہ تمہیں کوئی ضرر پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس ضرر کو دور کرنے والا نہیں ہے ‘ اور اگر وہ تمہیں کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مخاطب) اگر اللہ تمہیں کوئی ضرر پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس ضرر کو دور کرنے والا نہیں ہے ‘ اور اگر وہ تمہیں کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور وہی اپنے تمام بندوں پر غالب ہے اور وہ بہت حکمت والا بہت خبر رکھنے والا ہے۔ (الانعام : ١٨۔ ١٧) 

حقیقی حاجت روا کارساز اور مستعان صرف اللہ تعالیٰ ہے : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا آپ کہئے کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو کارساز بنا لوں جو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے ‘ اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کھلایا نہیں جاتا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی حاجت روا نہیں ہے اور اسی مطلوب پر یہ آیت دلیل ہے کہ اگر اللہ تمہیں ضرر پہنچائے تو اس کے سوا اور کوئی اس ضرر کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تمہیں نفع پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اسی مضمون کی یہ آیت ہے :

(آیت) ” ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہ وھو العزیز الحکیم “۔ (فاطر : ٢) 

ترجمہ : اللہ رحمت سے لوگوں کے لیے جو چیز کھولے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جس چیز کو وہ روکے لے تو اس کے روکنے کے بعد اسے کوئی چھوڑنے والا نہیں ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ 

یہ معنی حدیث صحیح میں بھی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد جو ذکر کرتے تھے ‘ اس میں یہ جملہ ہے۔ 

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد ذکر کرتے تھے۔ اے اللہ ! جو چیز تو عطا فرمائے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جس چیز کو تو روک لے اس کو ‘ کوئی دینے والا نہیں ہے اور کوئی طاقت سے تیرے مقابلہ میں نفع نہیں پہنچا سکتا۔ (صحیح مسلم ‘ المساجد ‘ ١٣٧‘ (٥٩٣) ١٣١٤‘ صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٦٦١٥‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٠٥‘ سنن النسائی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٤١) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں سواری پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا اے بیٹے ! میں تم کو چند باتوں کی تعلیم دیتا ہوں۔ تم اللہ کو یاد رکھو ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ کو یاد رکھو ‘ تم اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب تم سوال کرو تو اللہ تعالیٰ سوال کرو اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو۔ اور جان لو کہ اگر تمام امت کو نفع پہنچانے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ تم کو صرف اسی چیز کو نفع پہنچا سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ اگر تمام لوگ تم کو نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہوجائیں تو وہ تم کو صرف اسی چیز کا نقصان پہنچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٢٤‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٠٤‘ ٢٧٦٣‘ ٢٦٩‘ طبع قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٠٤‘ ٢٧٦٣‘ ٢٦٦٩‘ طبع جدید ‘ دارالفکر ‘ مسند احمد ج ١‘ ص ٣٠٧‘ ٣٠٣‘ ٢٩٣‘ طبع قدیم ‘ دارالفکر ‘ مسند ابو یعلی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢٥٥٦‘ المعجم الکبیر اللطبرانی ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ١١٥٦٠‘ ١١٤١٦‘ ١١٢٤٣‘ کتاب الدعا للطبرانی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤١‘ مسند الثاب ‘ ٧٤٥‘ المستدرک ‘ ج ٣‘ ص ٥٤١‘ مصابیح السنہ ‘ ج ٣‘ ص ٤٤٧‘ عمل الیوم والیلہ لابن السنی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٧‘ مطبوعہ کراچی ‘ مشکوۃ المصابیح ‘ ص ٤٥٣‘ طبع کراچی) 

قرآن مجید کی ان آیات اور احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کو فقر ‘ مرض ‘ غم اور ذلت کی وجہ سے جو مصیبت اور تکلیف پہنچتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے سوا ان مصائب اور شدائد کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے اور رنج والم کو اس کے سوا کوئی زائل کرنے والا نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہے ‘ اسی کا غلبہ اور اسی کی کبریائی ہے ‘ بڑے بڑے بادشاہوں اور جابر حکمرانوں کی گردنیں اسی کے سامنے جھکتی ہیں ‘ تمام انبیاء رسل اور فرشتے اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں ‘ سب اسی سے سوال اور دعا کرتے ہیں۔ وہی سب کا داتا ہے اور سب کی حاجتیں پوری کرتا ہے ‘ وہی کار ساز مطلق ہے اور وہی حقیقی حاجت روا ہے۔ اس لیے اسی کے سامنے دست دراز کیا جائے اور اسی سے مدد طلب کی جائے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں (ہر) ایک شخص کو چاہیے کہ اپنی تمام حاجات میں اپنے رب سے سوال کرے ‘ حتی کہ نمک کا بھی اس سے سوال کرے اور جب جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کا بھی اس سے سوال کرے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٦٢٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

اگر کسی شخص کی دعا فورا قبول نہ ہو تو اس کو مایوس ہو کر دعا ترک نہیں کرنی چاہیے بلکہ مسلسل دعا کرتے رہنا چاہیے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بھی اس قدر ہاتھ بلند کرکے اللہ سے سوال کرتا ہے کہ اس کی بغلیں ظاہر ہوجائیں اللہ اس کا سوال پورا کردیتا ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ! جلدی کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ یہ کہے کہ میں نے سوال کیا اور میں نے سوال کیا اور مجھے کچھ نہیں دیا گیا۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ تم میں سے کسی شخص کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے۔ وہ کہتا ہے میں نے دعا کی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٦١٩‘ کنزالعمال ‘ رقم الحدیث : ٣٢٤١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بھی اللہ سے کوئی دعا کرتا ہے اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ یا تو اس کا مطلوب اسے فورا دنیا میں دے دیا جاتا ہے یا اس کے لیے آخرت میں اس کا اجر ذخیرہ کیا جاتا ہے یا اس دعا کے بہ مقدار اس کے گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ گناہ کی یا قطع رحم کی دعا نہ کرے اور عجلت نہ کرے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ، عجلت کیسے کرے گا ؟ آپ نے فرمایا وہ کہے میں نے اپنے رب سے دعا کی ‘ اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦١٨‘ صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٦٣٤٠‘ صحیح مسلم ‘ (٢٧٣٥) سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٨٤‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٥‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٠٠٧‘ طبع جدید ‘ دارالفکر ‘ بیروت) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا ہے ‘ اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیا گیا۔ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ سوال یہ ہے کہ اس سے عافیت کا سوال کیا جائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو مصائب نازل ہوچکے ہیں اور جو نازل نہیں ہوئے ان سب میں دعا سے نفع ہوتا ہے۔ اے اللہ کے بندو ! دعا کیا کرو۔ امام ترمذی نے کہا اس حدیث کی سند غریب ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٥٥٩ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ مصیبتوں کے وقت اس کی دعا قبول کی جائے ‘ اس کو چاہیے کہ راحت کے وقت بہ کثرت دعا کرے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٣٩٣‘ المستدرک ‘ رقم الحدیث : ١٩٩٧) 

حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ حیا دار کریم ہے۔ وہ اس سے حیا فرماتا ہے کہ کوئی شخص اس کی طرف ہاتھ اٹھائے اور وہ ان ہاتھوں کو نامراد اور خالی لوٹا دے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث ج : ٣٥٦٧‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ١٤٨٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٣٨٦٥) 

انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام اللہ کی دی ہوئی طاقت اور اس کے اذن سے تصرف کرتے ہیں : 

اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مصیبت اور ضرر کو دور نہیں کرسکتا ‘ حالانکہ انسان کبھی خود اپنی کوشش سے مصیبت کو دور کرلیتا ہے ‘ کبھی اس کے دوست اور رشتہ دار اس مصیبت کو دور کردیتے ہیں ‘ انسان بیمار پڑجاتا ہے تو ڈاکٹر دوا کے ذریعہ اس کی بیماری اور تکلیف کو دور کردیتا ہے ‘ قیامت کے دن انبیاء (علیہم السلام) عموما اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خصوصا گناہ گاروں کی شفاعت فرما کر ان سے عذاب کی مصیبت کو دور کریں گے ‘ بلکہ آپ نے دو گنہ گاروں کی قبر پر شاخ کے دو ٹکڑے نصب کرکے ان سے برزخ کا عذاب دور کردیا۔ (صحیح بخاری ‘ ٢١٦) حضرت علی (رض) کی دکھتی ہوئی آنکھ میں ‘ حضرت سلمہ بن اکوع کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی میں اور حضرت زید بن معاذ کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ میں لعاب دہن لگایا اور ان سے دنیا کی تکلیف کو دور کردیا اور وہ شفایاب ہوگئے۔ (شفاء ‘ ج ١‘ ص ٢١٣) امام بخاری نے بھی حضرت علی (رض) کی آنکھوں کی شفا کی حدیث روایت کی ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٣٧٠١) نیز امام بخاری نے حضرت سلمہ بن اکوع کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی کی حدیث بھی روایت کی ہے۔ (ج ٥‘ رقم الحدیث : ٤٢٠٦) اور امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن عتیک گئے اور اس مہم میں ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ اس طرح درست ہوگئی کہ کبھی ٹوٹی ہی نہ تھی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٤٠٣٩) 

ایسے بکثرت واقعات ہیں ‘ اسی طرح اولیاء اللہ کی کرامتوں سے بھی لوگوں کی بیماریاں اور ان کے مصائب دور ہوجاتے ہیں اور یہ تمام امور اس آیت کے مخالف ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذاتی قدرت سے اپنے بندوں کے مصائب اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے ‘ اس کے برخلاف لوگ جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ان کی مشکلات میں کام کرتے ہیں اور ان کے مصائب کو دور کرتے ہیں ‘ وہ اللہ کی توفیق اور اس کی دی ہوئی طاقت سے کرتے ہیں اور دواؤں میں شفا کی تاثیر اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔ وہ محض سبب ہیں شفا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ چاہے تو بغیر دوا کے شفا دے دے اور اگر وہ نہ چاہے تو کسی دوا سے شفا نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام ‘ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور اس کے اذن سے تصرف کرتے ہیں۔ بیماروں کو شفا دیتے ہیں اور گنہ گاروں کی شفاعت کرتے ہیں اور تنگ دستوں کو غنی کرتے ہیں اور ان افعال کی ان کی طرف نسبت کرنا جائز ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وما نقموا الا ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ “۔ (التوبہ : ٧٤) 

ترجمہ : اور ان کی صرف یہ برا لگا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا۔ 

دیکھئے حقیقت میں غنی کرنے والا صرف اللہ ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا “ سو معلوم ہوا ایسا کہنا جائز ہے۔ البتہ یہ اعتقاد ضروری ہے کہ اللہ نے اپنی ذاتی قدرت سے غنی کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اس کے اذن سے غنی کیا۔ اسی طرح قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ “۔ (الاحزاب : ٣٧) 

ترجمہ : اور جب آپ اس شخص سے کہتے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے (بھی) انعام فرمایا۔ 

ظاہر ہے کہ اللہ منعم حقیقی ہے اور آپ نے اللہ کی دی ہوئی قدرت اور اس کے اذن سے انعام فرمایا ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے انعام کرنے کی نسبت دونوں کی طرف کی ہے اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم سے کہا : 

(آیت) ” قال انما انا رسول ربک لاھب لک غلاما زکیا “۔ (مریم : ١٩) 

ترجمہ : (جبرائیل نے) کہا میں نے صرف آپ کے رب کا فرستادہ ہوں ‘ تاکہ میں آپ کو پاک بیٹا دوں۔ 

حقیقت میں بیٹا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے بیٹا دینے کی نسبت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف کی ہے ‘ کیونکہ اللہ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اس کا سبب اور ذریعہ بنایا تھا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی دعاؤں سے بھی بیٹا ہوجاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا سے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے۔ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔ (مسند احمد ج ٤‘ ص ١٢٨‘ ١٢٧‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١٨‘ ص ٢٥٢‘ مسند البراز ‘ ج ٣‘ ص ١١٣‘ موارد الظمان ‘ ص ٥١٥‘ المستدرک ‘ ج ٢‘ ص ٦٠٠‘ حلیہ الاولیاء ‘ ج ٦‘ ص ٨٩‘ دلائل النبوۃ ‘ ج ٢‘ ص ١٣٠‘ شرح السنہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٢٦‘ مصابیح السنہ ‘ ج ٤‘ ص ٣٨) 

اور قرآن مجید میں مذکور ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا سے پیدا ہوئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اولیاء کرام کی دعا منظور فرما لے تو ان کی دعا سے بھی اولاد ہوسکتی ہے ‘ لیکن صحیح طریقہ یہ ہے کہ اولیاء کرام سے دعا کی درخواست کی جائے ‘ کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کریں کہ ہمارا فلاں مطلوب پورا ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اولیاء کرام کی ایسی عزت ‘ وجاہت اور مقبولیت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کرم اور فضل سے ان کی دعا قبول فرما لیتا ہے اور رد نہیں فرماتا۔ اس نے خود فرمایا ہے کہ میں اپنے مقرب بندہ کو جب اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس سے سوال کو رد نہیں کرتا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٢٤٣‘ محصلا) 

حدیث میں بھی غنی کرنے کا اسناد اللہ اور رسول اللہ دونوں کی طرف کیا گیا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ وصول کرنے کا حکم دیا ‘ آپ کو بتایا گیا کہ ابن جمیل ‘ حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابن عبد المطلب (رض) نے صدقہ دینے سے منع کیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابن جمیل کو تو یہ صرف یہ بات ناگوار ہوئی ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ اور اس کے رسول نے اس کو غنی کردیا اور رہا خالد تو تم اس پر ظلم کرتے ہو ‘ اس نے اپنی زرہ محفوظ رکھی ہے اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف کیا ہوا ہے ‘ اور رہے حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عم (محترم) ہیں۔ جتنا صدقہ ان پر واجب ہے ان سے اتنا وصول کیا جائے (یعنی ان کے بلند رتبہ کی وجہ سے ان سے دگنی زکوۃ وصول کی جائے۔ سعیدی غفرلہ) 

ان تصریحات سے واضح ہوگیا کہ حقیقتا بلاواسطہ اور بالذات مصائب کو دور کرنے والا اور نعمتیں عطا فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہے ‘ تاہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اس کے اذن سے مقربان حضرت رب العزت ‘ خصوصا ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی عذاب اور مصائب کو دور کرتے ہیں اور دنیا اور آخرت میں غنی اور شاد کام کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 17