یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۲۶)

اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لیے صاف بیان کردے اورتمہیں اگلوں کی رَوِشیں(طور طریقے) بتاوے(ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے

(ف87)

انبیاء و صالحین کی ۔

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ-وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا(۲۷)

اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ(ف۸۸)

(ف88)

اور حرام میں مبتلا ہو کر اِنہیں کی طرح ہوجاؤ۔

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْۚ-وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا(۲۸)

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف(آسانی) کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (آیت ۲۸)(ف۹۰)

(ف89)

اور اپنے فضل سے احکام سَہل کرے ۔

(ف90)

اس کو عورتوں سے اور شَہوات سے صبر دُشوار ہے حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورتوں میں بھلائی نہیں اور اُن کی طرف سے صبر بھی نہیں ہوسکتا نیکوں پر وہ غالب آتی ہیں بداُن پر غالب آجاتے ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(۲۹)

اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو (ف۹۲) اوراپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بے شک اللہ تم پر مہربان ہے

(ف91)

چوری خیانت غصب۔ جوا، سُود جتنے حرام طریقے ہیں سب ناحق ہیں سب کی مُمانعت ہے۔

(ف92)

وہ تمہارے لئے حلال ہے۔

(ف93)

ایسے اَفعال اختیار کرکے جو دنیا یا آخرت میں ہلاکت کا باعث ہوں اس میں مسلمانوں کو قتل کرنا بھی آگیا اور مؤمن کا قتل خود اپنا ہی قتل ہے کیونکہ تمام مومن نفس واحد کی طرح ہیں مسئلہ : اِس آیت سے خودکُشی کی حُرمت بھی ثابت ہوئی اور نفس کا اِتبّاع کرکے حرام میں مبتلا ہونا بھی اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے۔

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًاؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(۳۰)

اور جو ظلم وزیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اُسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا(۳۱)

اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹۴) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے

(ف94)

اور جن پر وعید آئی یعنی وعدۂ عذاب دیا گیا مثلِ قتل زنا چوری وغیرہ کے۔

(ف95)

صغائر مسئلہ کفر و شرک تونہ بخشا جائے گا اگر آدمی اِسی پر مرا(اللہ کی پناہ) باقی تمام گناہ صغیرہ ہوں یا کَبیرہ اللہ کی مشیت میں ہیں چاہے اُن پر عذاب کرے چاہے معاف فرمائے۔

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْاؕ-وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَؕ-وَ سْــٴَـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا(۳۲)

اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹۶) مردو ں کے لیے ان کی کمائی سے حصّہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بے شک اللہ سب کچھ جانتا ہے

(ف96)

خواہ دُنیا کی جہت سے یا دین کی کہ آپس میں حسد و بغض نہ پَیدا ہو حسد نہایت بری صفت ہے حسد والا دوسرے کو اچھے حال میں دیکھتا ہے تو اپنے لئے اس کی خواہش کرتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا بھائی اس نعمت سے محروم ہوجائے۔ یہ ممنوع ہے بندے کو چاہئے کہ اللہ کی تقدیر پر راضی رہے اُس نے جس بندے کو جو فضیلت دی خواہ دولت و غنا کی یا دینی مَناصب و مدارج کی یہ اُس کی حکمت ہے شانِ نزول: جب آیتِ میراث میں ” لِلذَّکَرِمِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ط” نازل ہوا اور میت کے تَرکہ میں مرد کا حصّہ عورت سے دُو نامقرر کیا گیا تو مَردُوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ آخرت میں نیکیوں کا ثواب بھی ہمیں عورتوں سے دونا ملے گا اور عورتوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ گناہ کا عذاب ہمیں مردوں سے آدھا ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اِس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالٰی نے جس کو جو فضل دیا وہ عین حکمت ہے بندے کو چاہئے کہ وہ اُس کی قضا پر راضی رہے ۔

(ف97)

ہر ایک کو اُس کے اعمال کی جزا ء ۔ 

شان نزول : اُمّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ ہم بھی اگر مرد ہوتے تو جہاد کرتے اور مَردوں کی طرح جان فدا کرنے کا ثواب عظیم پاتے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اِنہیں تسکین دی گئی کہ مَرد جہاد سے ثواب حاصل کرسکتے ہیں تو عورتیں شوہروں کی اطاعت اورپاکدامنی سے ثواب حاصِل کرسکتی ہیں۔

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَؕ-وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠(۳۳)

اور ہم نے سب کے لیے مال کے مستحق بنادئیےہیں جوکچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں اُن کا حصّہ دو بے شک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے

(ف98)

اس سے عقدِ موالات مراد ہے اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی مجہولُ النّسب شخص دُوسرے سے یہ کہے کہ تو میرا مولٰی ہے میں مرجاؤں تو تو میرا وارث ہو گا اور میں کوئی جِنَایَتۡ ن کروں تو تجھے دِیَت دینی ہوگی دُوسرا کہے میں نے قبول کیا اِس صورت میں یہ عقد صحیح ہوجاتا ہے اور قبول کرنے والا وارث بن جاتا ہے اور دِیّت بھی اُس پر آجاتی ہے اور دوسرا بھی اِسی کی طرح سے مجہولُ النَسب ہو اور ایسا ہی کہے اور یہ بھی قبول کرلے تو اُن میں سے ہر ایک دوسرے کا وارث اور اُس کی دِیّت کا ذِمہ دار ہوگا یہ عقد ثابت ہے صحابہ رضی اللہ عنہم اِس کے قائل ہیں۔