جب زردی پانی پر دیکھ لیں

الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :528

روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے عرض کیایارسول اﷲ فاطمہ بنت ابی حبیش اتنی مدت سے استحاضہ میں مبتلا ہیں۲؎ کہ نماز نہ پڑھ سکیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اﷲ۳؎ یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۴؎ وہ لگن میں بیٹھ جایاکریں ۵؎ جب زردی پانی پر دیکھ لیں ۶؎ تو ظہر و عصر کے لیئے ایک غسل کرلیاکریں اور مغرب وعشاءکے لیئے ایک غسل اورفجرکے لیئے ایک غسل۷؎ اوران کے درمیان وضوکرتی رہیں ۸؎ اسے ابوداؤدنے روایت کیا۔اور فرمایا کہ مجاہد حضرت ابن عباس سے راوی ہیں کہ جب ان پر غسل بھاری پڑا تو انہیں دونمازیں جمع کرنے کا حکم دیا ۹؎

شرح

۱؎ مشہورصحابیہ ہیں،بہت عاقلہ صالحہ عابدہ تھیں،اولًا حضرت جعفر ابن ابی طالب کے نکاح میں تھیں انہیں کے ساتھ آپ نے حبشہ کی جانب ہجرت کی،ان سے آپ کے تین بیٹے ہوئے عبداﷲ ابن جعفر،محمد،عون۔حضرت جعفر کی شہادت کے بعدحضرت ابوبکرصدیق کے نکاح میں آئیں جن سے محمدابن ابوبکر پیدا ہوئے۔حضرت صدیق کی وفات کے بعدحضرت علی مرتضی کے نکاح میں آئیں جن سے یحیی ابن علی پیداہوئے۔آپ سے حضرت عمر،عبداﷲ ابن عباس،ابوموسیٰ اشعری جیسے جلیل القدرصحابہ نے احادیث نقل کیں۔

۲؎ کیونکہ وہ سمجھیں کہ حیض کی طرح استحاضہ بھی نمازسے مانع ہے لیکن جب استحاضہ بندہی نہ ہوا تو گھبرائیں کہ کب تک نماز سے محروم رہوں تب مسئلہ پوچھا۔خیال رہے کہ اس صورت میں آپ کو استحاضہ کے زمانے کی نمازیں قضا کرنے کا حکم دیا گیا مگریہاں اس کا ذکر نہ ہوا کیونکہ مسئلہ سے بے خبری عذرنہیں،ہاں اس پر عتاب نہ ہوا کہ بے خبری کی وجہ سے قصورموجب عتاب نہیں۔

۳؎ یہ سبحان اﷲ تعجب کے لیے ہے کہ تم جیسی عاقلہ سنجیدہ بی بی نے بغیردریافت کئے نمازچھوڑدی ہم سے یا فقہاءصحابہ سے مسئلہ معلوم کرنا چاہیئے تھا۔

۴؎ یعنی استحاضہ کی بیماری شیطانی اثر سے ہے۔اس کی تحقیق پچھلی حدیث میں گزر چکی کہ جب ہوا وپانی بلکہ مٹی وغذا میں بیمار کردینے کا اثرموجود ہے توشیطان بھی اثرکرکے بیمارکرسکتا ہےیا تمہارابغیرپوچھے نماز چھوڑے رہناشیطانی اثر اوراس کی دھوکہ سے ہے۔خیال رہے کہ اﷲ کے محبوب بندوں پربھی شیطان کا داؤ چل جاتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو گندم کھانے کی رغبت شیطان ہی نے دی”فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ” ہاں ان مقبولوں کو شیطان گمراہ نہیں کرسکتاگمراہی اورچیزہے،فسق اورچیز اورخطاوغلطی اور،رب فرماتا ہے:”اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ”اورخودشیطان نے کہا تھا”لَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ”۔

۵؎ یعنی پانی کی لگن پربھرکربیٹھ جائیں تاکہ اس سے وقت ظہر کی روانگی اورعصر کی آمدمعلوم کرلیں(اشعۃ مرقاۃ وغیرہ)،یا خود اس بھری لگن میں بیٹھ جایا کریں ٹھنڈک کے لئے تاکہ اس ٹھنڈک سے مرض کا زورٹوٹ جائے۔

۶؎ یعنی پانی پر آفتا ب کی شعائیں زرد ہوکر پڑنے لگیں جس سے معلو م ہوا کہ اب وقت عصر قریب ہے تو غسل کرکے ظہر وعصر پڑھیں۔(مرقات وغیرہ)یا جب استحاضہ کے خون کا اثرپانی پرنمودارہوجائے کہ پانی کا رنگ زرد پڑجائے تب لگن سے نکل آیا کریں۔پہلی توجیہ پر یہ لگن کا عمل وقت معلوم کرنے کے لیے ہے۔دوسری توجیہ پر یہ عمل علاج کے لئے ہے۔خیال رہے کہ دھوپ کا پیلا پڑنااورہے،یہ تو عصر کے آخر وقت ہوتا ہے جب نماز مکروہ ہوجاتی ہے اور پانی پر شعاعوں کی زردی معلوم ہونا کچھ اور،یہ ظہر کے آخر وقت ہوتا ہے،لہذا حدیث بے غبار ہے۔

۷؎ یعنی روزانہ تین بارغسل کرلیا کریں تاکہ اﷲ انہیں استحاضہ کی بیماری سے شفاء دے جیسے کہ پہلے گزرچکا کہ یہ حکم علاج کے طورپر ہے،حکم شرعی نہیں اور نہ مستحاضہ پر یہ غسل شرعًا واجب۔

۸؎ یعنی اگران کے سواءاوروقت نفل یا تلاوت قرآن وغیرہ کے لئے وضوکرنا ہوتوصرف وضوکافی ہے غسل نہ کریں۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم محض علاج کے لئے ہے۔۹؎ یعنی حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے جو انہیں دن میں صرف تین غسلوں کا حکم دیا ان کی مجبوری کی وجہ سے، ورنہ پانچ بارغسل اور بھی بہتر تھا۔معلوم ہوا کہ یہ حکم علاج کے لئے ہے شرعی نہیں۔دو نمازیں جمع کرنے سے مراد صرف صورۃً جمع کرنا ہے کہ ظہر آخر وقت میں پڑھے عصر اول وقت میں نہ کہ حقیقۃً جمع کرنا،کہ مستحاضہ کے لئے نمازیں جمع کرنے کا کوئی قائل نہیں۔مسافر میں اختلاف ہے ہمارے امام صاحب کے ہاں وہ بھی جمع نہیں کرسکتا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.