کتاب الصلوۃ

نماز کا بیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ صَلوٰۃ صَلْیٌ سے بنا بمعنی گوشت بھوننا،آگ پرپکانا،رب فرماتا ہے:”سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ”۔نیز آگ سے لکڑی سیدھی کرنے کو تصلیہ کہاجاتاہے،چونکہ نماز اپنے نمازی کے نفس کو مجاہدہ ومشقت کی آگ پر جلاتی ہے،نیزاسے سیدھا کرتی ہے اس لئے اسے صلوٰۃ کہتے ہیں۔اب صلوٰۃ کے معنی دعا،رحمت،انزال، رحمت،استغفار،سرین ہلاناہیں۔چونکہ یہ سب چیزیں نماز میں ہوتی ہیں اس لئے نماز کو صلوٰۃ کہتے ہیں۔اسلام میں سب اعمال سے پہلے نماز فرض ہوئی،یعنی نبوت کے گیارہویں سال ہجرت سے دو سال کچھ ماہ پہلے،نیزساری عبادتیں اﷲ تعالٰی نے فرش پر بھیجیں مگر نماز اپنے محبوب کو عرش پربلاکردی اس لئے کلمہ شہادت کے بعد سب سے بڑی عبادت نماز ہے۔جونمازسیدھی کرکے پڑھے تونمازاسے بھی سیدھا کردیتی ہے۔نماز کے اسراراورنکات ہماری کتاب “اسرارالاحکام” اور”تفسیرنعیمی”پارہ اول میں دیکھو۔نمازیں چارقسم کی ہیں:فرض،واجب،سنت مؤکدہ،نفل۔

حدیث نمبر :529

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے کہ پانچ نمازیں اورجمعہ سے جمعہ تک او رمضان سے رمضان تک درمیان کے گناہ مٹانے والی ہیں ۱؎ جب کبیرہ گناہوں سے بچارہے ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی نماز پنجگانہ روزانہ کے صغیرہ گناہ کی معافی کا ذریعہ ہے،اگر کوئی ان نمازوں کے ذریعہ گناہ نہ بخشواسکاتو نمازجمعہ ہفتہ بھر کے گناہ صغیرہ کا کفارہ ہے،اگر کوئی جمعہ کے ذریعہ بھی گناہ نہ بخشواسکا کہ اسے اچھی طرح ادا نہ کیا تورمضان سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ہے،لہذا اس حدیث پریہ اعتراض نہیں کہ جب روزانہ کے گناہ پنجگانہ نمازوں سے معاف ہوگئے تو جمعہ اور رمضان سے کون سے گناہ معاف ہوں گے۔خیال رہے کہ گناہ کبیرہ جیسے کفروشرک،زنا،چوری وغیرہ یوں ہی حقوق العباد بغیر توبہ وادائے حقوق معاف نہ ہوتے۔

۲؎ خیال رہے کہ جو اعمال گنہگاروں کی معانی کا ذریعہ ہیں وہ نیک کاروں کی بلندی درجات کا ذریعہ ہیں،چنانچہ معصومین اور محفوظین نماز کی برکت سے بلند درجے پاتے ہیں۔لہذاحدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر چاہیئے کہ نیک لوگ نمازیں نہ پڑھیں کیونکہ نمازیں گناہوں کی معافی کے لئے ہیں وہ پہلے ہی سے بے گناہ ہیں۔