حکایت نمبر220: کم سِن بچوں میں بھی اولیاء اللہ ہوتے ہیں

حضرتِ سیِّدُنا ابو عبداللہ احمد بن یحیی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ” ایک مرتبہ میں حضرتِ سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس بیٹھا تھا۔ایک شخص آیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا:” اے ابو محفوظ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!آج ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پررحم فرمائے بتاؤ کیا واقعہ پیش آیا؟” اس نے اپنا واقعہ کچھ اس طر ح بیان کیا :

” میرے گھر والوں نے مجھ سے مچھلی کھانے کی فرمائش کی۔ میں نے بازار جاکر مچھلی خریدی اور اسے گھر پہنچانے کے لئے ایک کمسن مزدوربلایا، اس نے مچھلی اٹھائی اور میرے پیچھے پیچھے چل دیا ۔ راستے میں اذان کی آواز سنائی دی اس مزدور لڑکے نے کہا:” چچا جان ! اذان ہو رہی ہے کیا ہم نماز نہ پڑھ لیں؟” اس کی یہ بات سن کر مجھے ایسا لگا جیسے وہ نو عمر لڑکا مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کر رہا ہے۔ میں نے کہا :” کیوں نہیں !آؤ پہلے نماز پڑھ لیتے ہیں۔” 

اس نے مچھلی وضو خانے پر رکھی اور مسجد میں داخل ہو گیا ۔ہم نے باجماعت نماز ادا کی اور گھر کی طرف چل دئیے۔ گھر پہنچ کر میں نے گھر والوں کواس نیک کمسن مزدور کے بارے میں بتایا تو وہ کہنے لگے :” اس سے کہو آج دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھالے ۔” میں نے اسے دعوت دی تو اس نے کہا کہ :”میرا روزہ ہے۔”میں نے کہا:”افطاری ہمارے ساتھ کرلینا۔”کہا:” ٹھیک ہے ، آپ مجھے مسجد کا راستہ بتادیں۔” میں نے اسے مسجد پہنچا دیاوہ مغرب تک مسجد ہی میں رہا ۔ نماز کے بعدمیں نے کہا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے، آؤ گھر چلتے ہیں۔ اس نے کہا :” کیا ہم عشاء کی نماز پڑھ کر نہ چلیں؟” میں نے اپنے دل میں کہا ـ:” اس کی بات مان لینے ہی میں بھلائی ہے ۔” 

چنانچہ مَیں مسجد میں رُک گیا ، نمازِ عشاء کے بعد ہم گھر آئے۔ ہمارے گھر میں تین کمرے تھے ایک میں، مَیں اورمیری زوجہ رہتے تھے۔ دوسرے کمرے میں ایک پیدائشی معذور لڑکی رہتی تھی جو چلنے پھرنے سے بالکل عاجز تھی اور اسی حالت میں بیس سال گزر چکے تھے۔ تیسرا کمرہ مہمانوں کے لئے تھا ، ہم سب نے کھاناکھایا اور اپنے اپنے کمروں میں سوگئے نوعمر نیک لڑکے کو ہم نے مہمانوں والے کمرے میں سلادیا ۔ رات کے آخری پہر دروازے پر کسی نے دستک دی، میں نے کہا:” کون ہے؟۔” اس نے اپنا نام بتا کر کہا: ”میں فلاں لڑکی ہوں۔”میں نے کہا :” وہ تو چلنے پھرنے سے بالکل عاجز ہے ، گویا وہ تو گوشت کے ٹکڑے کی طر ح ہے اور ہر وقت اپنے کمرے ہی میں رہتی ہے تم وہ کیسے ہوسکتی ہو ؟” اس نے کہا:” میں وہی ہوں تم دروازہ تو کھولو۔” ہم نے دروازہ کھولا تو واقعی ہمارے سامنے وہی لڑکی موجود تھی۔ میں نے کہا:” تم ٹھیک کیسے ہوگئی ہو؟ ۔” کہا:”میں نے تمہاری آوازیں سنیں تھیں کہ آج ہمارے ہاں ایک نیک مہمان آیا ہے ، میرے دل میں خیال آیا کہ اس نیک مہمان کے وسیلے سے دعا کروں شاید اسی کے صدقے اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے شفاء عطا فرمادے۔”لہٰذامیں نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح دعا کی:” اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ! اس مہمان کے صدقے بیماری کو زائل کردے اور مجھے تندرستی عطا فرما۔”یہ دعا کرتے ہی میں فورا ٹھیک ہوگئی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے میرے ہاتھ پاؤں میں حرکت شرو ع ہوگئی ، دیکھو میں تمہارے سامنے صحیح وسالم موجود ہوں ۔ میں خود چل کر یہاں آئی ہوں ۔” لڑکی کی یہ بات سن کر میں فوراً اس کمرے کی طرف گیا جس میں وہ نوعمر مزدور لڑکا تھا۔ دیکھا توکمرہ بالکل خالی تھا اس میں کوئی بھی نہیں ۔ میں باہردروازے کی طرف گیا تو وہ بھی بند تھا ، نجانے ہمارا نوعمر مہمان کہا ں غائب ہوگیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو عبداللہ احمد بن یحیی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : ”حضرتِ سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے یہ واقعہ سن کر مجھ سے فرمایا : ” اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اولیاء میں کم عمر بچے بھی ہوتے ہیں اور بڑی عمروالے بھی وہ لڑکا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ولی تھا۔ ” (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)