*اشاعتی میدان میں اہلسنّت کی عظیم خدمات*

ہمہ جہت عنوانات پر اہلسنّت نے قابلِ قدر لٹریچر شائع کیے

٭اردو ترجمہ قرآن کریم ’’کنزالایمان‘‘ سب سے زیادە چھپتا اور عام ہوتا ہے۔ جس کے ترجمے کئی زبانوں میں دستیاب ہیں۔ اور اس کی اشاعت لاکھوں میں ہے۔

٭علم تفسیر میں نعیمی علما نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ جوعلامہ نعیم الدین مرادآبادی کے توسط سے امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت سے فیض یافتہ ہیں۔ شیخ الاسلام علامہ سید مدنی میاں نے بھی تفسیر لکھی؛ علامہ فیض احمد اویسی رحمۃاللہ علیہ نے تفسیر روح البیان کا اردو ترجمہ 15 جلدوں میں کیا-

٭سیرت طیبہ کے اہم عنوان پر بھی پاک و ہند کے درجنوں علمائے اہلسنّت نے قابلِ قدر کتابیں لکھیں۔ فضائل سیرت، عقائد اہلسنّت، دفاعِ اہلسنّت، فتنوں کی سرکوبی، تعلیماتِ رضا کی اشاعت، گستاخِ رسول جماعتوں کے تعاقب میں بھی تحریری کام انجام پذیر ہوا۔

٭علم حدیث میں صدرالشریعہ، ملک العلماء، علامہ محمود رضوی، علامہ سعیدی، علامہ اختر شاہ جہاں پوری، علامہ حنیف خان رضوی، علامہ صدیق ھزاروی جیسی شخصیات نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

٭عرب و عجم میں ہمہ جہت و آفاقی خدمات کے لیے حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔آپ کے اثرات بڑے ہمہ گیر ہیں۔ آپ کے وصال پر جہان اُمڈ آیا-

٭بیعت و طریقت کے میدان میں مارہرہ مطہرہ، کچھوچھہ مقدسہ، مسولی شریف، بلگرام شریف، کالپی شریف، شرقپور شریف، علی پور شریف، بندیال شریف، گولڑہ شریف کی خانقاہوں نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ اور سلسلۂ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ و ان کی شاخوں سے لاکھوں تشنہ کام سیراب ہوئے۔تصوف و طریقت پر کتابیں لکھی گئیں، چھاپی گئیں، ترجمے بھی ہوئے۔

٭درس و تدریس کے میدان میں جامعہ منظر اسلام، مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃالرضا، جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف،الجامعۃالاشرفیہ مبارک پور، الجامعۃالاسلامیہ روناہی، جامعہ امجدیہ گھوسی، جامعہ علیمیه جمداشاھی، جامعہ امجدیہ کراچی، جامعہ نظامیہ رضویہ، جامعہ نعیمیہ لاہور، جامعہ اویسیہ بہاولپور،جامعۃ المدینہ سمیت سیکڑوں مدارس نے اہم کارنامے انجام دیے، علما نے نصابِ تعلیم مرتب فرمایا۔ درسی کتابیں شائع کیں۔ شروحات کے میدان میں بھی کام کیا۔

٭رضا اکیڈمی ممبئی، کتب خانہ امجدیہ، رضوی کتاب گھر دہلی، المجمع الاسلامی مبارک پور، مرکز برکات رضاپوربندر، تاج الفحول اکیڈمی بدایوں، نوری مشن، مکتبۃالمدینہ، مکتبۂ طیبہ نیز لاہور وکراچی کے درجنوں اشاعتی اداروں نے نماز، مسائل، وضو، غسل اور اصلاحی عنوانات پر سیکڑوں کتابیں شائع کیں اور اہلسنّت کے اصلاحی خزانے میں عمدہ اضافہ کیا۔جن سے معاشرتی اصلاح کا کام تیزگام ہوا۔

٭رضویات کے موضوع پر 30سے زیادہ پی ایچ ڈی۔ درجن بھر سے زائد ایم فل ہوئیں۔ کئی سو تحقیقی کتب نیز 500سے زائد مقالہ جات لکھے گئے۔ سفر تحقیق به حسن و خوبی ابھی جاری ہے۔ اس میں ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی، مجلس رضا لاہور، رضا اکیڈمی ممبئی/لاہور/ڈربن، امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف، ادارۀ اشاعت تصنیفات رضا بریلی شریف، امام مصطفیٰ رضا ریسرچ سینٹر ڈربن کا نام نمایاں ھے-

٭اس زمانے میں گستاخ جماعتوں کے بطن سے ’’دھشت گردی‘‘ کا فتنہ شباب پر ہے۔ کام وہابی فکر کا اور بدنامی اسلام کی۔ اس لیے اہلسنّت کو چاہیے کہ ہر مناسب موقع پر وہابی دھشت گرد جماعتوں کی کھلی مخالفت کریں اور اہلسنّت کو ان کے فتنوں سے باخبر کریں۔ کتابوں کی تصنیف بھی اس رخ سے ہونی چاہیے۔

٭مسلک اعلیٰ حضرت جو اہلسنّت کی شناخت ہے اس پر سختی سے گامزن رہتے ہوئے سرگرم عمل رہیں۔ اعلیٰ حضرت کی ذات وہ ہے جن سے دھشت گردوں کے چہرے زرد ہوتے ہیں۔اس لیے امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت کا نام دھشت گردوں کے مقابل امن کا نشانِ امتیاز ہے۔

*اھلسنت نے بہت سے شعبوں میں کامیابی و کامرانی کے پھریرے لہرائے ھیں جن پر مستقبل میں مزید خامه فرسائی کی جائے گی- ان شاء الله

*مستقبل میں فروغ حق و صداقت کے نئے امکانات عزم و یقیں کے ساتھ تلاشے جائیں- فتوحات اسلامی کے پھریرے سمتوں میں لہرا کر فکر و نظر کی تازگی کا ساماں کریں-*

*شذرہ:* یہ کوائف قلم برداشتہ لکھے گئے اس لیے کئی عناوین و احوال کا احاطہ باقی ہے جن پر پھر کبھی روشنی ڈالی جائے گی-

بقلم: غلام مصطفٰی رضوی

***

٭ترسیل فکر و نظر:

نوری مشن مالیگاؤں