شفیق بلخی

نام و نسب:۔ نام، شفیق۔ کنیت، ابو علی ، والد کا نام ، ابراہیم ہے ۔ ازدی بلخی ہیں ۔

اساتذہ:۔ امام اعظم ابو حنیفہ کی بارگاہ میں حدیث وفقہ کی تعلیم حاصل کی اور امام ابو یوسف وامام زفر کی صحبت حاصل رہی ۔

حضرت اسرائیل بن یونس اور عباد بن کثیر سے بھی علم حدیث حاصل کیا ۔ انکے علاوہ خود آپ نے اپنے اساتذہ کی تعداد (۱۷۰۰) بتائی ہے ۔

تلامذہ:۔ حضرت حاتم اصم، محمد بن ابان بلخی اور ابن مردویہ آپکے مشہور تلامذہ میں سے ہیں زہد و ریاضت:۔ آپ نے جس وقت توکل و قناعت کے میدان میں قدم رکھا تو آپکے پاس تین سو گاؤں کی زمینداری تھی ، لہذا سب فقراء میں تقسیم کر دئیے حتی کی بوقت وصال کفن کیلئے بھی کچھ نہ تھا۔ ایک مدت تک حضرت ابراہیم بن ادہم کی صحبت میں رہے اورطریقت کا علم حاصل کیا۔

وصال:۔ ختلان، ترکستان جہاد کے لئے تشریف لے گئے اور ۱۹۴ میں یہاں شہادت پائی ۔ نجم اہل دنیا ۱۹۴ ، آپکی تاریخ وفات ہے ۔( انوار امام اعظم)