حدیث نمبر :531

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ایک مرد نے کسی عورت کا بوسہ لیا ۱؎ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ کو یہ خبر دی ۲؎ تب اﷲ تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ دن کے کناروں اور رات کی ساعتوں میں نمازقائم کرو۳؎ نیکیاں گناہ دورکرتی ہیں اس نے کہایارسول اﷲ!کیایہ صرف میرے لیئے ہے فرمایامیری ساری امت کے لیئے اور ایک روایت میں ہے کہ میری امت سے جو یہ عمل کرے ۴؎ (مسلم وبخاری)

شرح

۱؎ ان مرد کا نام ابوالیسر ہے،کھجوروں کی دکان کرتے تھے،ایک عورت خریدنے کے لئے آئی،ان کا دل اس کی طرف مائل ہوگیا،بولے اچھی کھجوریں گھر میں ہیں،اس بہانے سے اندر لے جاکربوسہ لے لیا،وہ بولی اﷲ کے بندے خدا سے ڈر،یہ سخت نادم ہوئے اس لئے ثابت ہو اکہ اجنبی عورت سے تنہائی بڑی خطرناک ہے۔(اشعۃ مرقاۃ)

۲؎ صحابہ کرام خطائیں معاف کرانے کے لئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اس آیت پر یہ عمل کرتے ہوئے “وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ” الا یہ۔اب بھی ہم گنہگاروں کو معافی کے لیے اس آستانے پر حاضری ضروری ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ وہ صرف مدینہ میں رہتے ہیں بلکہ مؤمن وں کے سینے ان کا کاشانۂ رحمت ہیں۔

۳؎ مرقاۃ نے فرمایا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایامیں اپنے رب کے حکم کا انتظارکرتا ہوں عصر کے بعد یہ آیت اتری۔خیال رہے کہ نماز فجراورظہر دن کے اس کناروں کی نمازیں ہیں اورعصرومغرب دوسرے کنارے کی اورعشاءرات کی،لہذا یہ آیت پانچویں نمازوں کو شامل ہے،زلف زلفت سے بنا،بمعنی قرب یعنی رات کا وہ ٹکڑا جو دن سے قریب ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:”وَ اِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ”۔

۴؎ یعنی یہ آیت اگرچہ تیرے بارے میں اتری مگر اس کا حکم عام ہے۔کوئی مسلمان کوئی گناہ صغیرہ کرے اس کی نمازیں وغیرہ معافی کا ذریعہ ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اجنبیہ سے خلوت اور بوس وکنار گناہ صغیرہ ہے،ہاں یہ جرم بار بارکرنے سے کبیرہ بن جائے گا کیونکہ صغیرہ پر دوام کبیرہ ہے اوریہ جان کربوس وکنارکرنا کہ نماز سے معاف کرالیں گے کفر ہے،کہ یہ اﷲ پر امن ہے۔یہ حدیث اس کے لئے ہے جو اتفاقًا ایسا معاملہ کر بیٹھے پھر شرمندہ ہوکر توبہ کرے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اس میں ان حرکتوں کی اجازت دے دی گئی۔یہاں مِنْ اُمَّتِی فرمانے سے معلوم ہوا کہ یہ آسانیاں صرف اس امت کے لئے ہیں گزشتہ امتوں کی معافی بہت مشکل ہوتی تھی۔