أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے یا اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے، بیشک ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے یا اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے، بیشک ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ (الانعام : ٢١) 

یہود و نصاری اور مشرکین کے لگائے ہوئے بہتانوں کی تفصیل : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے دو ظلم بیان فرمائے ہیں۔ ایک ظلم ہے اللہ پر جھوٹا بہتان لگانا اور دوسرا ظلم ہے اللہ کی آیتوں کو جھٹلانا۔ اللہ پر جھوٹا بہتان لگانے کی تفصیل یہ ہے کہ کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ بت اللہ کے شریک ہیں اور اللہ سبحانہ نے ان کی عبادت کرنے اور ان کے ذریعہ تقرب حاصل کرنے کا حکم دیا ہے ‘ نیز کفار مکہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور انہوں نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ حامی اور وصلہ سے نفع حاصل کرنے کو حرام قرار دیا تھا ‘ اور وہ اس حرمت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہودونصاری بھی اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ان کی شریعتیں غیر منسوخ ہیں اور ان کے نبیوں کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور خصوصا یہود یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور دوزخ کی آگ ہمیں صرف چند دن جلائے گی اور ان میں سے بعض جہلاء یہ کہتے تھے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘ اور خصوصا نصاری یہ کہتے تھے کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے اور اللہ تو مسیح ابن مریم ہی ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں ‘ اور یہودو نصاری ان دونوں میں سے ہر ایک اس بات کا دعوی دار تھا کہ ان کے سوا اور کوئی جنت میں نہیں جائے گا اور یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ پر افتراء اور بہتان ہیں ‘ اللہ تعالیٰ ان سے پاک ہے۔ 

ان کا دوسرا ظلم اللہ کی آیتوں کو جھٹلانا ہے۔ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے ثبوت پر اللہ تعالیٰ نے جو معجزات ظاہر فرمائے یہود و نصاری اور مشرکین نے ان کو جھٹلا دیا اور قرآن مجید جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر سب سے بڑا معجزہ ہے ‘ باوجود اس کے کہ وہ اس کی نظیر لانے کے چیلنج کو پورا نہیں کرسکے ‘ انہوں نے اس کو کھلا جادو کہا ‘ کبھی شعروشاعری کہا اور کبھی گزرے ہوئے لوگوں کی داستان کہا اور کبھی کہا یہ محض ان کے تخیلات ہیں۔ انہوں نے اس کے کلام الہی ہونے کا انکار کیا اور آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 21