أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡۤا اَيۡنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس دن ہم سب کو جمع کریں گے، پھر مشرکین سے کہیں گے تمہارے (وہ) شرکاء کہاں ہیں جن پر تم گھمنڈ کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس دن ہم سب کو جمع کریں گے، پھر مشرکین سے کہیں گے تمہارے (وہ) شرکاء کہاں ہیں جن پر تم گھمنڈ کرتے تھے۔ پھر وہ صرف یہی فتنہ اٹھا سکیں گے کہ کہیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔ دیکھیے انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ باندھا اور (دنیا میں) جو وہ افتراء باندھتے تھے وہ سب گم ہوگئے۔ (الانعام : ٢٤، ٢٢) 

روز قیامت مشرکین کی ناکامی اور نامرادی : 

اس آیت میں ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کو ملامت کرنے اور ان کی مذمت کرنے کے لیے ان سے سوال فرمائے گا تمہارے وہ شرکاء اور جھوٹے معبود اور پتھر کی مورتیاں کہاں ہیں جن کے متعلق تم دنیا میں یہ زعم کرتے تھے کہ یہ تمہارے کارساز ہیں اور مددگار ہیں اور وہ تمہیں اللہ کے قریب کردیں گے اور اللہ تعالیٰ سے تمہاری شفاعت کرکے تمہیں عذاب سے چھڑالیں گے ‘ اب وہ کہاں ہیں۔ وہ تمہارے ساتھ کیوں دکھائی نہیں دیتے ؟ اس کی نظیر یہ آیتیں ہیں : 

(آیت) ” ویوم ینادیھم فیقول این شرکآءی الذین کنتم تزعمون “۔ (القصص : ٦٢) 

ترجمہ : اور جس دن اللہ ان کو ندا کرکے فرمائے گا ‘ میرے وہ شرکاء کہاں جن کو تم (میرا شریک) زعم کرتے تھے۔ 

(آیت) ” وما نری معکم شفعآء کم الذین زعمتم انھم فیکم شرکآء لقد تقطع بینکم وضل عنکم ما کنتم تزعمون “۔ (الانعام : ٩٤) 

ترجمہ : ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارش کرنے والوں کو نہیں دیکھ رہے جن کے متعلق تم یہ زعم کرتے تھے کہ وہ تمہارے کاموں میں (ہمارے) شریک ہیں ‘ بیشک تمہارا (خود ساختہ) ربط ٹوٹ گیا اور تم دنیا میں جو زعم کرتے تھے وہ ٹوٹ گیا۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا قرآن مجید میں جہاں بھی زعم کا لفظ آیا ہے اس کا معنی ہے جھوٹا قول۔ 

جب اللہ تعالیٰ ان کو رسوا کرنے کے لیے یہ سوال فرمائے گا تو وہ اس کے جواب میں حیران اور پریشان ہوں گے اور کوئی صحیح اور معقول جواب ان کی سمجھ میں نہیں آئے گا اور اس کے سوا نہیں کوئی بات نہیں سوجھے گی کہ وہ دنیا میں اپنے کیے ہوئے شرک کا انکار کردیں یا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کی مغفرت اور بخشش ہو رہی ہے تو وہ کہیں گے کہ ہم بھی مشرک نہیں تھے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے گناہوں کو بخش دے گا اور اس کے نزدیک ان کا کوئی گناہ بھاری نہیں ہوگا۔ جب مشرکین یہ ماجرا دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش رہا ہے اور شرک کو نہیں بخش رہا ‘ آؤ ہم بھی یہ کہیں کہ ہم گنہ گار ہیں ‘ مشرک نہیں ہیں۔ جب وہ اپنے شرک کو چھپائیں گے تو ان کے مونہوں پر مہر لگ جائے گی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے ‘ اس وقت مشرکین یہ جان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکتے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا “۔ (النساء : ٤٢) 

ترجمہ : جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی ‘ اس دن وہ تمنا کریں گے ‘ کاش ان پر زمین ہموار کردی جائے اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔ 

بعض مفسرین نے کہا یہ آیت منافقین کے متعلق ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا ‘ یارسول اللہ ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تو سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے ؟ صحابہ نے کہاں نہیں ! آپ نے فرمایا چودھویں رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا چاند کو دیکھنے سے تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے ؟ صحابہ نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں صرف اتنی تکلیف ہوگی جتنی تکلیف تم کو سورج یا چاند کو دیکھنے سے ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ بندہ سے ملاقات کرے گا اور اس سے فرمائے گا ‘ اے فلاں ! کیا میں نے تجھ کو دیکھنے سے ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ بندہ سے ملاقات کرے گا اور اس سے فرمائے گا ‘ اے فلاں کیا میں نے تجھ کو عزت اور سرداری نہیں دی ؟ کیا میں نے تجھ زوجہ نہیں دی اور کیا میں نے تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے اور کیا میں نے تجھ کو ریاست اور آرام کی حالت میں نہیں چھوڑا وہ بندہ کہے گا ‘ کیوں نہیں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو یہ گماں کرتا تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے ؟ وہ کہے گا نہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ میں نے بھی تجھ کو اسی طرح بھلا دیا ہے جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ دوسرے بندہ سے ملاقات کرے گا اور فرمائے گا ‘ کیا میں نے تجھ کو عزت اور سیادت نہیں دی ؟ کیا میں نے تجھ کو زوجہ نہیں دی ؟ کیا میں نے تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے ؟ اور کیا میں نے تجھ کو ریاست اور آرام کی حالت میں نہیں چھوڑا ؟ وہ شخص کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ کیا تو یہ گمان کرتا تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے ؟ وہ کہے گا نہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے بھی تجھ کو اسی طرح بھلا دیا جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ تیسرا بندہ کو بلا کر اس سے اسی طرح فرمائے گا۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! میں تجھ پر ‘ تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا ‘ میں نے نماز پڑھی ‘ روزہ رکھا اور صدقہ دیا اور وہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ابھی پتا چل جائے گا ‘ پھر اس سے، کہا جائے گا ہم ابھی تیرے خلاف اپنے گواہ بھیجتے ہیں ‘ وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا ‘ میرے خلاف کون گواہی دے گا ؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران ‘ اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں سے کہا جائے گا ‘ تم بولو ! پھر اس کی ران ‘ اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بیان کریں گی اور یہ اس لیے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات میں اس کے خلاف حجت قائم ہو۔ یہ وہ منافق ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔ (صحیح مسلم ‘ الزہد ‘ ١٦‘ (٢٩٦٨) ٧٣٠٤‘ سن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٤٧٣٠) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھئے انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ باندھا مشرکین کا جھوٹ یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ بتوں کی عبادت ہمیں اللہ کے قریب کردیتی ہے اور منافقین کا جھوٹ یہ تھا کہ انہوں نے جھوٹے عذر پیش کیے اور اپنے نفاق کا انکار کیا۔ 

پھر فرمایا اور (دنیا میں) جو وہ افتراء باندھتے تھے وہ سب گم ہوگئے ‘ یعنی دنیا میں ان کا جو یہ گمان تھا کہ ان کے بت ان کی شفاعت کریں گے وہ باطل ہوگیا۔ یا اللہ کو چھوڑ کر وہ جن بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ وہ انکے کسی کام نہ آسکے اور ان سے کسی عذاب کو دور نہ کرسکے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 22