کنزالایمان اور تحقیقی امور

غلام مصطفیٰ رضوی نوری مشن مالیگائوں

امام احمد رضا محدث بریلوی (۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۱ء) نے علمائے عرب کو جو اجازات اور اسانید حدیث عطا کیں اس میں اپنے ۵۴؍ علوم وفنون کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ (تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمائیں : الاجازات المتینہ لعلماء بکۃ و المدینۃ (۱۳۲۴ھ)مشمولہ رسائل رضویہ، مطبوعہ اشاعت تصنیفات رضا، بریلی) علم ، تقسیم در تقسیم کے مرحلے سے گزرتے رہتا ہے ۔ علم کی فرو عات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لحاظ سے محدث بریلوی کے علوم کی تعداد ۱۰۰؍ سے متجاوز ہوچکی ہے اور فہم وفراست کے بڑھتے ہوئے تحقیقی رجحانات کے ساتھ ساتھ محدث بریلوی کے علوم کا حلقہ وسیع ہوتا رہے گا ۔ محدث بریلوی کے علوم میں سب سے نمایاں علم ’’علم قرآن و ترجمۂ قرآن‘‘ہے ۔

علم و حکمت کے سوتے قرآن مقدس سے پھوٹتے ہیں ۔ تحقیقات علمیہ کا سرچشمہ قرآن مقدس ہے ۔ تدبر و تفکر کرنے والے اس میں جستجوکرکے گوہرِ مقصود پاتے ہیں ۔ تسخیرِ کائنات کے حوالے سے جو ایجادات منصۂ شہود پر آرہی ہیں اس کی بنیادیں قرآن مقدس نے چودہ سوسال پہلے ہی فراہم کردی تھیں اور اس نے یوں دعوتِ فکر دی :

وَاَنْزَلْنَا فِیْھَآ ٰایٰتٍ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَ کَّرُوْنَo ’’ اور ہم نے اس میں روشن آیتیں نازل فرمائیں کہ تم دھیان کرو‘‘ (النور : ۱/کنزالایمان)

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُ وْامِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ط لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰن

’’ اے جن وانس کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جائو تو نکل جائو جہاں نکل کر جائو گے اسی کی سلطنت ہے ‘‘

قرآن مقدس کو کتاب مبین اور روشن کتاب کہہ کر اس سے حصولِ فیض کی تعلیم دی گئی ہے ۔ پروفیسر جمیل قلندر فرماتے ہیں :

’’قرآن حکیم نے انسانی ذات ، خارجی کا ئنات اور خالق کا ئنات سے متعلق ایک نئے اسلوب بیان اور انداز فکر کی داغ بیل ڈالی ، جسے آج کل کی اصطلاح میں Holistic یا Interdicciplinary approchکہتے ہیں ۔‘‘ (جمیل قلندر ، پروفیسر ، امام احمد رضاایک موسو عاتی سائنسداں ،مشمولہ معارف رضا سالنامہ ۲۰۰۳ء ادارۂ تحقیقات امام احمد رضاکراچی ، ص۸۴)

اردو زبان کے تراجمِ قرآن

قرآن مقدس کے مفہوم و مطلوب تک ترسیل کیلئے ترجمہ رہنمائی کرتا ہے ۔ اردو زبان میں قرآن مقدس کے جو ترجمے ہوئے ہیں ان میں اکثریت ایسے ترجموں کی ہے جو اسلامی فکر کو منہدم کرتے ہیں جس کا سبب مترجمین کی بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری ہے اسلئے مترجمین کی نگاہ لفظی معنی پر تومرکوز ہوجاتی ہے مگر روح قرآن اور اسکی تعبیر سمجھنے سے عاری ہوتی ہے بایں وجہ ان کے تراجم میں ادب و احترام کے معاملات مفقود نظر آتے ہیں ۔ لہٰذا منشائے قرآن کی پاسداری اور اندازِ فکر کی پرورش ایسے ترجموں کے مطالعہ سے نہیںہوسکتی اس پہلو سے فہم قرآن کیلئے محتاط مترجم کی ضرورت تھی جو مفہوم تک ترسیل کراسکے اور مطلوب قرآن کو واضح کرسکے ۔ امام احمد رضا محدث بریلوی کا ترجمہ ’’ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ‘‘ (۱۳۳۰ھ/۱۹۱۱ء) ایسا ہی ہے ۔ یہاں دیگر اردو تراجم سے تقابل پیش کرنا موضوع تو نہیں مگر کنزالایمان کی انفرادیت سمجھنے کیلئے دوآیات کا موازنہ دیگر ترجموں سے پیش کیاجارہا ہے :

وَ مَکَرُوْاوَمَکَرَاللّٰہُ ط وَاللّٰہُ خَیْرُالْمَا کِرِیْنَ O (آل عمران : ۵۴)

ترجمہ مولوی محمود حسن دیوبندی :

’’اور مکرکیا ان کا فروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کا دائو سب سے بہتر ہے ‘‘

ترجمہ مولوی فتح محمد جالندھری:

’’اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک ) چال چلے اور خدا بھی (عیسیٰ کو بچانے کیلئے) چال چلا اور خدا خوب چال چلانے والا ہے ‘‘

ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی : ’’اور ان لوگوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب تدبیریں کرنے والوں سے اچھے ہیں ‘‘

ترجمہ امام احمد رضا:’’ اور کافروں نے مکر کیااور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اوراللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے‘‘

مقامِ غور ہے کہ ’’ مکر، دائو‘‘ اور’ ’چال چلانے والا ‘‘ جیسے الفاظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے کیا گیا ہے جس سے پاکیزگی اور ستھرائی کا اظہار نہیں ہوتا جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاکیزہ ہے ۔ مولوی اشرف علی تھانوی نے دشمنانِ خدا کے مکرو فریب کو ’’ خفیہ تدبیر‘‘ کہہ کر ان کے شرپہ پردہ ڈال دیا ہے کافروں کیلئے ’’ خفیہ تدبیر‘‘ جیسے لفظ کا استعمال موزوں نہیں ۔ امام احمد رضا محدث بریلوی نے جو ترجمہ فرمایا وہ نفس آیت کے مطابق ہے ۔

اسلام کا یہ قطعی عقید ہ ہے کہ انبیائے کرام معصوم ہوتے ہیں اور ان سے غلطیوں کا صدور ممکن نہیں اس لحاظ سے اس آیت کا ترجمہ بھی قابل غور ہے: وَ عَصٰٓی ٰ ادَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی (طٰہٰ : ۱۲۱)

ترجمہ: مولوی محمود حسن دیوبندی :

’’اور حکم ٹالا آدم نے اپنے رب کا پھر راہ سے بہکا‘‘

ترجمہ مولوی فتح محمد جالندھری:’’اور آدم نے اپنے پرور دگار کے حکم کے خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے ) بے راہ ہوگئے ‘‘

ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی :

’’اور آدم سے اپنے رب کا قصور ہوگیاسو غلطی میں پڑگئے ‘‘

ترجمہ امام احمد رضا:’’اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہاتھا اس کی راہ نہ پائی ‘‘

ترجمۂ قرآن کے لئے ادب و احترام کی ضرورت

ادب انسانیت کا اہم پہلو ہے اس سے صرف نگاہی کرکے انسانیت کے اعلیٰ مدارج کا حصول نہیں کیا جاسکتا ۔ ہر گوشہ ہائے حیات میں اس کی جلوہ گری سے کامیابی کے آبشار پھوٹتے ہیں۔ اسلام ادب کا درس دیتا ہے ۔ عقائد اسلامی کاقیام ادب و احترام اور توقیر کی بنیادوںپر ہے ۔ کتاب مبین قرآن حکیم میں جگہ جگہ ادب و احترام کا درس موجود ہے ۔

بایں ہمہ ’’ علم قرآن و ترجمۂ قرآن ‘‘ کے لئے ادب و آداب اور احترام و تعظیم مطلوب ہے کہ اس سے رو گردانی ایمان کے طوطے کو آن کی آن میں اُڑا دے گی ۔ ترجمۂ قرآن کے لئے درکار لوازمات میں ادب و احترام اور تعظیم کا پہلوسر فہرست ہے ۔

جن مترجمین نے قلب پاکیزہ اور فکر صالح سے پرے ہٹ کر ادب و آداب کی عینک کو اتار کر قرآن حکیم کا ترجمہ کیا وہ بے ادبی کے اس درجے کو جاپہنچے کہ تنقیص الوہیت و اہانت بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب ہوگئے ۔ لفظی معنی و مفہوم کو توفوقیت دی گئی لیکن منشائے قرآن تک ترسیل کرانے میں ناکام و نامراد رہے ۔ نتیجے میں ایسے مترجمین کا ترجمہ ملت بیضا کے لئے موجب نقصان ٹھہرا ۔ اور ذہنی فتور و فکری آوارگی کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔

قرآن حکیم کے اردو تراجم میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ العزیز کے ترجمۂ قرآن ’’ کنزالایمان ‘‘ کو اعتبار کا درجہ حاصل ہے ۔ اس کی شہرت و کثرت اشاعت سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں قبولیت کی سند پا چکا ہے ۔ لاریب ! امام احمد رضا محدث بریلوی کی ذات عشق و عرفان کا آئینہ دار تھی ۔ آپ کی ہر ہرادا سنت نبوی کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی۔ آپ کی فکر عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی داعی تھی ۔ جو عصمت و عظمت انبیاء کے تقدس اور آداب و احترام سے عبارت تھی اور اسی فکر کی جلوہ گری ’’ کنزالایمان‘‘ کی سطر سطر میں پنہاں اور لفظ لفظ میں عیاں ہے ۔ جسٹس میاں نذیر اختر تحریر فرماتے ہیں :

’’اعلیٰ حضرت کے افکار کی قوت ان کے عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پنہاں ہے ان کی سوچ کا مرکزی نکتہ بھی یہی ہے کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر ذکر الٰہی ہمیں منزل مقصود تک نہیں پہنچا سکتا ۔ ایسا ذکر ، ذکر حق نہیں بلکہ ’’سقر ‘‘کی کنجی ہے۔ عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ محمد احمد رضا‘‘ ’’المختار ‘‘کو’’عبدالمصطفیٰ ‘‘ بنادیا اور ان کی نگاہ میں وہ نور انیت پیدا کردی کہ آیت مبارکہ (وَوَجَدَکَ ضَآلاًّ فَھَدٰی) پڑھتے ہی انہوں نے اس کا مفہوم حقیقی ان لفظوں میں بیان فرما دیا کہ ’’ اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تواپنی طرف راہ دی ‘‘ جبکہ دیگر مترجمین اور مفسرین نے لفظ ’’ ضالا‘‘ کا ترجمہ گمراہ ، بھٹکا، راہ بھولا ہوا اور بے خبرکیا ہے ، بھلا آفتاب ہدایت کو گمراہی و بے خبری سے کیا واسطہ ۔ ایسے مترجمین کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے : چہ بے خبر زمقام محمد عربی ست ‘‘

قرآن مقدس کے ترجمہ کیلئے صرف زبان و بیان اور گرامر پر عبور ہی ضروری نہیں بلکہ الوہیت کا تقدس اور انبیاو رُسل کی عصمت و عظمت کا پاس و لحاظ بھی ضروری ہے اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی، محدث بریلوی ان تمام اوصاف سے متصف تھے اور ساتھ ہی عربی نثرو نظم اور صرف ونحو پر عمیق نگاہ رکھتے تھے ، محدث بریلوی کی عربی ادب میں مہارت پر جسٹس سید عتیق الرحمن شاہ بخاری نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی Arabic Faculty سے ریسرچ کیاہے ۔ اسی طرح محدث بریلوی کی عربی دانی پر ’’ مولانا احمد رضا خان واللغۃ العربیۃ ‘‘ کے عنوان کے تحت دکتور حسین مجیب المصری نے مقالہ لکھا ہے ۔ محدث بریلوی نے مکہ معظمہ میں علم غیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر عربی زبان میں ’’ الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ ‘‘ (۱۳۲۳ھ)تصنیف فرمائی بوقت تصنیف حوالہ و ماخذ کیلئے کوئی کتاب بھی موجود نہ تھی اسکے باوجود کتاب کی منہج واسلوب اور زبان و بیان دیکھ کر محدث بریلوی کی عربی دانی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ان نکات سے محدث بریلوی کی عربی زبان وادب میں مہارت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

تقریبِ ترجمہ : مارکیٹ میں قرآن مقدس کے دستیاب ترجمے عقیدۂ تو حید و رسالت کے آداب سے یکسر خالی اور عقیدے کے بگاڑ کا سبب تھے ۔ چوں کہ یہ ترجمے قرآن مقدس سے منسوب تھے اسلئے ان کی اشاعت سے پسِ پردہ لاشعوری طور پر عقیدے میں انتشار پیدا ہورہا تھا اس سبب سے خلیفۂ امام احمد رضا صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی مصنف بہارِ شریعت (۱۳۶۷ھ /۱۹۴۸ء)نے امام احمد رضا سے ترجمے کی درخواست کی جسے امام احمد رضامحدث بریلوی نے قبول کیا ، علمی مشاغل اور کثرت کا ر کی وجہ سے محدث بریلوی کے پاس اتنا وقت میسر نہیں تھا کہ ترجمہ کیلئے کوئی اہتمام ہوتا ۔ چنانچہ مولانا بدرالدین احمد قادری رقم طراز ہیں:

’’ جب حضرت صدر الشریعہ کی جانب سے اصرار بڑھا تو اعلیٰ حضرت نے فرمایا چونکہ ترجمہ کے لئے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے اس لئے آپ رات میں سونے کے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت آجایا کریں چنا نچہ حضرت صدر الشریعہ ایک دن کا غذ ، قلم اوردوات لے کر اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور یہ دینی کام بھی شروع ہوگیا۔

ترجمہ کا طریقہ یہ تھا کہ اعلیٰ حضرت زبانی طور پر آیات کریمہ کا ترجمہ بولتے جاتے اور صدر الشریعہ اس کو لکھتے رہتے …… لیکن یہ ترجمہ اس طرح پر نہیں تھا کہ آپ پہلے کتبِ تفسیر و لُغت کو ملاحظہ فرماتے بعدہ‘ آیت کے معنی کو سوچتے پھر ترجمہ بیان کرتے بلکہ آپ قرآن مجید کافی البدیہہ برجستہ ترجمہ زبانی طور پر اس طرح بولتے جاتے جیسے کوئی پختہ یادداشت کا حافظ اپنی قوتِ حافظہ پر بغیر زور ڈالے قرآن شریف فرفر‘ فرفر پڑھتا جاتا ہے ۔ پھر جب حضرت صدر الشریعہ اور دیگر علمائے حاضرین اعلیٰ حضرت کے ترجمے کا کتب تفاسیر سے تقابل کرتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ اعلیٰ حضرت کا یہ برجستہ فی البدیہہ ترجمہ تفاسیر معتبرہ کے بالکل مطابق ہے ۔ الغرض اسی قلیل وقت میں ترجمہ کاکام ہوتا رہا پھر وہ مبارک ساعت بھی آگئی کہ حضرت صدر الشریعہ نے اعلیٰ حضرت سے قرآن مجید کا مکمل ترجمہ کرالیا۔‘‘(بدرالدین احمد قادری ، مولانا ، سوانح اعلیٰ حضرت ، مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی ، ص ۳۶۷)

صدرالشریعہ علیہ الرحمہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا مسودہ علامہ محمد عبدالمبین نعمانی نے ملاحظہ فرمایا ہے ۔ علامہ موصوف نے اپنے ایک مقالہ میں مسودے کا اجمالی جائزہ پیش فرمایا ہے ۔ ترجمے کی تکمیل کی بابت لکھتے ہیں :

’’ ابتدا اور انتہا کی تاریخوں سے اندازہ لگتا ہے کہ ترجمۂ کنزالایمان کی تحریر کا آغاز جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ میں ہوا اور اختتام ۲۸ ؍جمادی الآخرہ ۱۳۳۱ھ میں ‘ لیکن کام مسلسل نہیں ہوا ہے ۔ بعض صفحات مسودے کے درمیان سے غائب بھی ہیں جن کی تاریخیں معلوم کرنا مشکل ہے ، البتہ اس بات کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ یہ نادر ونایاب اور مہتم بالشان ترجمۂ قرآن موسوم بہ ’’کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ‘‘ سال کے چند مہینوں میں مکمل ہوا، پورے ایک سال بھی صرف نہ ہوئے اور وہ بھی رات میں عشاء کے بعد سوائے چند ان ایام کے جن کی صراحت ہے کہ ان میں قبل عشاء کام ہوا ، اندازہ ہے کہ یہ کام چار پانچ مہینوں میں انجام کو پہنچا غالباً اتنی قلیل مدت میں قرآن کا ایسا عظیم الشان ترجمہ بھی اعلیٰ حضرت کی خصوصیات سے ہے ۔‘‘ (محمد عبدالمبین نعمانی ، علامہ ، کنزالایمان اور صدر الشریعہ، مشمولہ ماہنامہ اشرفیہ ( صدر الشریعہ نمبر)مبارکپور، اکتوبر نومبر ۱۹۹۵ء ، ص ۲۱۱)

محدث بریلوی اور فنِ تفسیر:

امام احمد رضا محدث بریلوی فنِ تفسیر پر وسیع نگاہ رکھتے تھے فتاویٰ رضویہ میں بہت سارے مقامات پر تفسیری مباحث موجود ہیں جن کے مطالعہ سے اس فن میں محدث بریلوی کی وسعتِ فکر کا اندازہ ہوتا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رقم طراز ہیں:

’’مولانا بریلوی نے ترجمۂ قرآن کے علاوہ قرآن کریم کی جزوی تفسیر لکھی تھی چنانچہ مولانا شاہ عبدالقادر بدایونی (م ۱۳۱۹ھ/۱۹۱۲ء) کے عرس میں شرکت کے لیے بدایوں گئے تو و ہاں کا مل چھ گھنٹے سورہ ٔوالضحیٰ پر تقریر فرمائی اور بعد میں فرمایا کہ اس سورۂ مبارک کی بعض آیات کی تفسیر لکھی تھی جو اسّی جزتک لکھ کر چھوڑدی کہ اتنا وقت کہاں سے لائوں کہ پورے قرآن کریم کی تفسیر لکھ سکوں ۔‘‘(محمد مسعود احمد ، پروفیسر ڈاکٹر ، حیات مولانا احمد رضا خان بریلوی ، مطبوعہ بمبئی ، ص ۱۰۴)

چنانچہ مولانا امجد علی اعظمی فرماتے ہیں :

’’ ترجمہ ( کنزالایمان ) کے بعد میں نے چاہا تھاکہ اعلیٰ حضرت قبلہ اس پر نظر ثانی فرمائیں اور جابجا فوائد تحریر کردیں ۔ چنانچہ بہت اصرار کے بعد یہ کام شروع کیا گیا، دو تین روز تک کچھ لکھا گیا جس اندازسے لکھو انا شروع کیا اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قرآن پاک کی بہت بڑی تفسیر ہوگی ، کم از کم دس بارہ جلدوں میں پوری ہوگی ۔ اس وقت خیال پیدا ہوا کہ اتنی مبسوط تحریر کی کیا حاجت ، ہر صفحہ میں کچھ تھوڑی تھوڑی باتیں ہونی چاہئیں جو حاشیہ پر درج کردی جائیں لہٰذا یہ تحریر جو ہورہی تھی بند کردی گئی اور دوسری کی نوبت نہ آئی ‘‘(محمد عطاء الرحمن قادری ، حافظ ، تذکرۂ اعلیٰ حضرت بزبان صدر شریعت ،مطبوعہ تحریک فکر رضا بمبئی ، ص ۴۴، ۴۵)

استاذالاساتذہ علامہ عطا محمد بندیالوی فرماتے ہیں :

’’حضرت بریلوی قدس سرہٗ نے ایک ہزار کے لگ بھگ تصانیف ارقام فرمائیں اور جس مسئلے پر قلم اٹھایا ، الم نشرح کرکے چھوڑا ۔ ان تمام تصانیف کا سرتاج اردو ترجمۂ قرآن پاک ہے جس کی نظیر نہیں ہے اور اس ترجمہ کا مرتبہ اسی کو معلوم ہوتا ہے جس کی اعلیٰ درجہ کی تفاسیر پر نظر ہے ۔ اس ترجمۂ مبارک میں مفسرین کا اتباع کیا گیاہے اور جن مشکلات اور ان کے حل مفسرین نے صفحات میں جاکر بمشکل بیان فرمائے ہیں اس محسن اہلسنت نے اس ترجمہ کے چند الفاظ میں کھول کررکھ دیا ہے ۔‘‘ (محمد مسعود احمد ، پروفیسر ڈاکٹر ، حیات مولانا احمد رضا خان بریلوی ، مطبوعہ بمبئی ، ص ۲۱- ۲۲)

کنزالایمان کی طباعت:

صدر الا فاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی (م۱۳۶۷ھ / ۱۹۴۸ء) کنزالایمان کا مسودہ بغرض طباعت مراد آباد لے گئے مفتی محمد اطہر نعیمی کے مطابق پہلی مرتبہ کنز الایمان مفتی محمد عمر صاحب نعیمی کے زیر اہتمام ’’ نعیمی پریس مراد آباد ‘‘میں طبع ہوا ۔ کتابت منشی ارشاد علی نے فرمائی ۔ دوسری اشاعت صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی کے تفسیری حواشی ’’خزائن العرفان ‘‘ کے ساتھ ’’اہلسنت برقی پریس مراد آباد‘‘ میںہوئی اور تیسری مرتبہ ’’المکتبہ کراچی ‘‘ نے طباعت کی ۔ چوتھی مرتبہ ’’ ازہر بکڈپو آرام باغ کراچی ‘‘ کے زیر اہتمام اشاعت ہوئی ۔

(محمد اطہر نعیمی ، مفتی ، ماہنامہ جہان رضا لاہور ستمبر اکتوبر ۱۹۹۹ء ، ص ۲۳) علامہ محمد عبدالمبین نعمانی لکھتے ہیں:

’’ مجھے اچھی طرح یاد ہے تقسیم ہند کے بعد سب سے پہلے ترجمۂ اعلیٰ حضرت کو کتب خانہ اشاعت اسلام دہلی نے چھاپنا شروع کیا ‘‘(محمد عبدالمبین نعمانی ، علامہ ، ماہنامہ اشرفیہ (صدر الشریعہ نمبر ) مبارکپور ، ص۲۱۳)

مولانا مبارک حسین مصباحی رقم طراز ہیں :

’’ اب تو امام احمد رضا کا نام وکام اتنا دلکش اور مقبول ہوگیا ہے کہ مخالفین و معاندین بھی امام احمد رضا کی تصانیف بڑے چائو سے شائع کررہے ہیں ۔ دہلی میں قریب ۲۵؍ ناشرین ’’ کنزالایمان مع خزائن العرفان ‘‘ شائع کرکے ملک کے گوشے گوشے میں پھیلارہے ہیں ‘‘ (مبارک حسین مصباحی ، علامہ ، ماہنامہ جہان رضا لاہو ر (حکیم محمد موسیٰ امرتسری نمبر )اکتوبر نومبر ۲۰۰۰ء ، ص۲۳۰)

دہلی کے علاوہ لاہور اور کراچی سے بھی کنزالایمان کی مستقل اشاعت ہورہی ہے اور بحمدہ ٖ تعالیٰ اب سلسلۂ طباعت بھی بڑھتا جارہا ہے ۔

کنزالایمان کی تصحیح

کنزالایمان کی اشاعت تو عظیم پیمانے پر ہوتی رہی اور اس کی مانگ کا دائرہ پھیلتا رہا مگر کتابت کی بہت ساری غلطیاں اس میں درآئی تھیں ، اس طرف توجہ نہیں دی گئی ۔ علامہ محمد عبدالمبین نعمانی نے تصحیح کنزالایمان کے سلسلے میں اپنے کئی ایک مضامین میں اس کا اظہار بھی فرمایا او ر بالآخریہ عظیم کام آپ نے اپنے ذمہ لیکر پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ علامہ محمد عبدالمبین نعمانی لکھتے ہیں :

’’ میں نے ہمت کرکے اس مشکل کام کو اپنے ذمہ لے لیا، پھر جب کام کا آغاز کیا تو معلوم ہوا کہ یہ اس سے زیادہ مشکل ہے جتنا کہ سوچا تھا اور یہ کہ یہ کام اکیلے آدمی کے بس کا نہیں اس کے لئے محققین کی ایک اکیڈمی کی ضرورت ہے جو اطمینان و سکون کے ساتھ پوری توجہ سے اسے انجام دے ‘‘ ۔(محمد عبدالمبین نعمانی ، علامہ ، خاتمۃ الطبع مشمولہ کنزالایمان جدید نسخہ ، مطبوعہ دہلی)

علامہ محمد عبدالمبین نعمانی نے شب و روز کی محنت کے بعد تصحیح کاکام مکمل فرمایا اور چند سال قبل جدید تصحیح شدہ نسخہ منظر عام پر آیا جس کی اشاعت رضا اکیڈمی مالیگائوں نے کی ۔اب تک درجنوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور روز افزوں یہ سلسلہ وسعت اختیارکرتا جارہا ہے ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بعض ناشرین جو سابقہ نسخوں کی اشاعت کررہے ہیں وہ جدید ایڈیشن کو ہی شائع کریں ۔

سائنٹیفک ترجمہ:

پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری نے سائنٹیفک نقطۂ نظر سے کنزالایمان کا مطالعہ کیا ہے اور اس پر متعدد مقالے اور مضامین تحریر فرمائے ہیں۔ ایک مقام پر موصوف کنزالایمان کی روشنی میں سائنسی توضیح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰ لِکَ دَحٰھَا (النزعٰت : ۳۰)

’’اور اس کے بعد زمین پھیلائی ‘‘

دیگر تراجم قرآن کا جب مطالعہ کیا تو اکثر مترجمین نے ’’دَحٰھا‘‘ کے معنی پھیلنے کے بجائے ’’ جمائو ‘‘ کیے ہیں جبکہ پھیلنا اور جمانا دو مختلف مفہوم رکھتے ہیں ۔ جمانے سے جو مفہوم ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ کوئی چیز تہہ بہ تہہ ایک کے اوپر ایک جم رہی ہو جس طرح سمندر کے اندر مٹی تہہ بہ تہہ جمتی ہے اور اس طرح آبی چٹا نیں (Sedimentary Rocks) بنتی ہیں اور یہ عمل دراصل پہاڑوں کے بننے یا جمائے جانے کا تصور پیش کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں لفظ پھیلنے سے جو مفہوم ایک علم ارضیات کے طالب علم کے ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ کسی چیز کے پھیلنے سے اس کا حجم (یہاں رقبہ مراد ہے ) بڑھے ۔ علم ارضیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین جب سے وجود میں آئی ہے برابر پھیل رہی ہے ۔ یہ عمل اسی طرح جاری ہے کہ دنیا کے تمام بڑے بڑے سمندروں (Oceans) یعنی بحرہند ، بحر اوقیانوس وغیرہ میںبیچ بیچ میں ۵ تا ۶ میل گہرے پانی کے نیچے سمندری خندقیں ، جن کو Oceanic Trenches بھی کہا جاتا ہے ، موجود ہیں ۔ یہ خندقیں ہزاروں میل لمبی ہیں ۔ خندقوں سے ہر وقت گرم گرم پگھلا ہوا لاوا (Lava) نکل رہا ہے ۔ جب یہ لاوا خندق کے دونوں سروں پر آتا ہے تو جلد ٹھنڈا ہو جاتا ہے ۔ جب نیا لاوا پھر نکلتا ہے تو وہ پہلے سے جمع شدہ لاوے کی تہہ کو دونوں جانب سرکاتا ہے ۔ خندق کے کنارے پر جو یہ عمل ہوتا ہے تو اس سرکنے سے پورا خشک براعظم بھی سرکتا ہے۔ اور سمندر پیچھے کی جانب چلا جاتا ہے یعنی زمین کی سطح بلند ہوجاتی ہے یہ عمل اگر چہ بہت خاموشی کے ساتھ اور بہت آہستہ ہوتا ہے مگر برابر جاری رہتا ہے۔‘‘ (مجید اللہ قادری ، پروفیسر ڈاکٹر ، کنزالایمان کی امتیازی خصوصیات ،مشمولہ معارف رضا کراچی سالنامہ،۲۰۰۴ء ، ص۱۵-۱۶)

پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری نے ۱۹۹۳ء میں کراچی یونیورسٹی سے ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی نگرانی میں ’’کنزالایمان اور دیگر معروف اردو قرآنی تراجم کا تقابلی جائزہ ‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ، ایچ ، ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔

روہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی شریف سے لیڈی اسکالر مِس حامدہ ’’اردو نثر اور مولانا احمد رضا خاں‘‘ عنوان پر ڈاکٹریٹ کررہی ہیں۔ مقالۂ تحقیق کے چوتھے باب میں ایک گوشہ کنزالایمان کی علمی و ادبی اہمیت سے متعلق ہے ۔ اس ریسرچ کا خاکہ (Synopsis) ڈاکٹرعبدالنعیم عزیز ی نے تیار کیا ہے ۔

عرب میں کنزالایمان کی مقبولیت

۱۹۸۲ء میں حاسدین نے کنزالایمان مع خزائن العرفان پر رابطہ عالم اسلامی ( واقع جدہ) کے توسط سے سعودی عرب میں پابندی عائد کروادی اور عذریہ بتا یا کہ اس میں قابلِ اعتراض مواد ہے جبکہ کسی اعتراض کی نشاندہی بھی نہیں کی گئی ۔ یہ ایک زیادتی اور سازش تھی جس کا مقصد حق کے آگے رکاوٹ کھڑی کرنا تھابہر حال حق واشگاف ہو کر رہتا ہے ۔ پروفیسر محمد مسعود احمد مظہری رقم طراز ہیں :

’’ امام احمد رضا کا ترجمۂ قرآن ’’کنزالایمان ‘‘ جب لاکھوں کی تعداد میں مشرق و مغرب میں پھیلنے لگاتو بڑی تشویش ہوئی ۔ کوشش کی گئی کہ الزام تراشیوں کا سہارالے کرکم از کم عرب ملکوں میں اس پر پابندی لگوادی جائے اور بالآ خر پابندی لگادی گئی… جبکہ ایسے مترجمین کے ترجموں پر پابندی نہ لگی … جو قرآن کی ادائوں کے راز دار نہیں … جو ترجمے کے مزاج سے واقف نہیں ۔‘‘(محمد مسعود احمد ، پروفیسر ڈاکٹر ، آئینۂ رضویات ( جلد چہارم )مرتبہ عبدالستار طاہر ،مطبوعہ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ، ص ۴۳)

معاندین کی باتوں میں آکررابطہ عالم اسلامی نے کنزالایمان پرعرب میں پابندی لگائی ۔ وہ اردو سے نابلد تھے اسلئے وہ کنزالایمان کو نہیں پڑھ سکے اگر وہ مطالعہ کیے ہوتے تو اس کی خوبیوں سے واقف ہوتے ۔ ضرورت مطالعہ کی ہے جبھی کوئی رائے قائم ہوسکتی ہے ۔ سُنی سُنائی باتوں کو تسلیم کرلینا انصاف و دیانت نہیں بقول پر وفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد: ’’ مطالعہ ہی غیر محبوب کو محبوب بنا دیتا ہے اور سچ کو جھوٹ سے الگ کردیتا ہے ‘‘۔(محمد مسعود احمد ، پروفیسر ڈاکٹر ، آئینۂ رضویات ( جلد چہارم )مرتبہ عبدالستار طاہر ،مطبوعہ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ، ص ۱۲۱)

عالمی سطح پر حکمرانِ عرب کے نام مکتوبات بھیج کر مطالبہ کیا گیا کہ کنزالایمان پر لگائی گئی پابندی ختم کی جائے ۔ اب صبح نمودار ہورہی ہے اور عالمِ عرب میں محدث بریلوی پر انتہائی منظم اور علمی انداز میں کام ہورہا ہے ۔ قاہرہ مصر اور بغداد شریف کی دانش گاہوں میں محدث بریلوی کے علوم و فنون اور دینی و ادبی خدمات پر با ضابطہ تحقیق و ریسرچ ہورہی ہے اور اس میں روز افزوں وسعت ہورہی ہے ۔ اور تصنیفات امام احمدرضا کے عربی تراجم اور ان کی اشاعت بھی ۔ محدث بریلوی کی کتابوں پر علمائے عرب نے تقاریظ اور مقدمے بھی قلم بند فرمائے ہیں ۔

ایک نشست میں علامہ شمس الہدیٰ مصباحی ، استاذ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور نے راقم سے فرمایا کہ ان کے دورۂ دبئی پر وہاں کے وزیر اوقاف فضیلۃ الشیخ عیسیٰ بن مانع الحمیری نے کنزالایمان کی تقسیم کا اعلان فرمایا اور اپنی وزارت کی مہر کے ساتھ کنزالایمان کے ۵۰۰؍ نسخے تقسیم کیے۔

چند سال قبل شیخ الازھر دکتور محمدسید طنطاوی کی سرپرستی میںچلنے والا تحقیقی ادارہ ’’مجمع البحوث الاسلامیہ ‘‘ قاھر ہ مصر نے کنزالایمان کو تحقیق و تمحیص کے بعد اردو زبان کا مستند ترجمۂ قرآن قرار دیا اور اس کی اشاعت و ترویج کی ترغیب بھی دی ۔ اس سلسلے میں الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کی سعی وکاوش رہی ہے ۔

ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی کے صدر سیدوجاھت رسول قادری نے ۱۹۹۹ء میںقاھرہ مصر کا دورہ علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری کی معیت میںکیا اس دورے میںجامعۃ الازہر کے شیخ الازھر کی خدمت میں ۳۵۰؍ کتابیں پیش کی تھیں جن میں پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری کامقالۂ ڈاکٹریٹ ’’ کنز الایمان اور معروف تراجم قرآن ‘‘ بھی شامل تھا۔

مصر سے کنزالایمان سے متعلق سند کے اجراء کی خبر ’’جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ العالمیۃ‘‘ لیبیا کے اہتمام سے عربی ، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبار ہفت روزہ ’’الدعوۃ‘‘ نے ۲۶؍ربیع الاول ۱۴۲۱ھ کے شمارے میں شائع کی ۔

لسانی جائزہ اور خصوصیات

ڈاکٹر صابر سنبھلی (وظیفہ یاب ریڈر و صدر شعبۂ اردو ایم ۔ ایچ ۔ (پی ۔ جی ) کالج ، مرادآباد) نے اپنے مقالہ’’ ترجمۂ کنزالایمان کا لسانی جائزہ ‘‘ میں کنزالایمان کی زبان و بیان میں انفرادیت کو اجاگر کیا ہے ۔ اس مقالہ کی بابت علامہ محمد عبدالمبین نعمانی رقم طراز ہیں:

’’ ادیب شہیر صابر سنبھلی صاحب کا مسلسل مضمون کنزالایمان کا ادبی و لسانی جائزہ اپنی روایتی شان سے جاری و خوب ہے ۔ خدا کرے یہ مکمل طور پر کنزالایمان کو محیط ہو کر جلد منظر عام پر آئے اور ادبی دنیا کو متاثر کرے ۔ صحیح پوچھیے تو اس جہت سے یہ کام پہلا کارنامہ ہے جو اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ اور کنزالایمان کے تعلق سے منظر عام پر آرہا ہے ۔‘‘ (سہ ماہی افکار رضابمبئی، جولائی تا ستمبر ۲۰۰۳ء، ص ۷۶)

ڈاکٹر صابر سنبھلی کا یہ مقالہ سہ ماہی مجلہ افکار رضا ممبئی میں قسط وار مکمل شائع ہوچکا ہے ۔ ڈاکٹر صابر ؔسنبھلی نے اپنے مقالہ میں کنزالایمان کی آٹھ خصوصیات رقم کی ہیں :

(۱) آیات کے تراجم میں ربطِ باہمی (۲)روانی(۳)سلاست (۴) اردو کا روز مرّہ (۵) اللہ اور رسول کے مراتب کا لحاظ (۶) احتیاط (۷) سوقیانہ اور بازاری الفاظ سے اجتناب (۸)سہل ممتنع۔

بعض خصوصیات کی نشاندہی مولانا بدرالدین احمد قادری نے فرمائی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’دور حاضرمیں اردو کے شائع شدہ ترجموں میں صرف ایک ترجمہ کنزالایمان ہے جو ’’ قرآن کا صحیح ترجمان ‘‘ ہونے کے ساتھ (۱) تفاسیر معتبرہ قدیمہ کے مطابق ہے (۲) اہل تفویض کے مسلک اسلم کا عکاس ہے (۳) اصحاب تاویل کے مذہب سالم کا مؤید ہے (۴) زبان کی روانی اور سلاست میں بے مثل ہے (۵) عوامی لغات و بازاری بولی سے یکسر پاک ہے (۶) قرآن حکیم کے اصل منشاء و مراد کو بتاتا ہے (۷) آیات ربانی کے انداز خطاب کو پہچنواتاہے (۸) قرآن کے مخصوص محاوروں کی نشاندہی کرتا ہے (۹) قادرِ مطلق کی ردائے عزت و جلال میں نقص و عیب کا دھبّا لگانے والوں کیلئے شمشیر براں ہے (۱۰) حضرات انبیا کی عظمت و حرمت کا محافظ ونگہبان ہے (۱۱) عامۂ مسلمین کیلئے بامحاورہ اردو میں سادہ ترجمہ ہے (۱۲) لیکن علماء و مشائخ کیلئے حقائق و معرفت کا امنڈ تا سمندر ہے۔‘‘(بدرالدین احمد قادری ، مولانا ، سوانح اعلیٰ حضرت ، مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی ، ص ۳۶۶)

کنزالایمان کی علمی و ادبی اہمیت اور انشاء پردازی پر ڈاکٹر غلام غوث قادری کے پی، ایچ،ڈی مقالہ ’’ امام احمد رضا کی انشاء پردازی ‘‘ میں ایک گوشہ شامل ہے ۔

کنزالایمان کے دوسری زبانوں میں تراجم

یہ اعزاز صرف کنزالایما ن کو حاصل ہیکہ دنیا کی بہت سی زبانوںمیں اس کا ترجمہ کیا جاچکا ہے اور مزید تراجم کی اطلاعات مل رہی ہیں ۔

مولاناعبدالغفار حلیمی مہتمم دارالعلوم غوثیہ رحیمیہ(بلوچستان) نے ’’ بروھی ‘‘ زبان میں ترجمہ کا کام شروع کیا ہے اب تک ۱۴؍ پاروں کا ترجمہ مکمل ہو گیا ہے ۔ اس کے مسودے کے ایک صفحہ کا عکس ماہنامہ ’’معارف رضا ‘‘کر اچی کے جولائی ۲۰۰۴ء کے شمارے کے پسِ سرورق شائع ہوا تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعوداحمد نے لکھا ہے کہ عنقریب فارسی زبان میں ترجمہ کاکام بھی شروع ہونے والا ہے ۔ (معارف رضا کراچی سالنامہ ۲۰۰۴ء، ص ۸۶کنزالایمان اور تحقیقی امور)

برطانوی انگریز نو مسلم دانشور ڈاکٹر محمد ہارون نے انگریزی میں کنزالایمان پر مع تفسیر کام شروع کیا تھا مگر ۱۹۹۸ء میں آپ کے انتقال سے یہ کام ادھورا ہی رہا۔

اب تک جن زبانوں میں کنزالایمان کا ترجمہ مکمل ہو کر شائع ہو چکا ہے اس کی ایک فہرست ذیل میں دی جارہی ہے :

زبان مترجم

(۱)

انگریزی

پروفیسر محمد حنیف اختر فاطمی ( انگلینڈ)

پروفیسر شاہ فرید الحق( کراچی)

ڈاکٹر اے ۔ مجید اے ۔ اولک ( لاہور)

ڈاکٹر سید جمال الدین اسلم مارہروی

(۲)

بنگلہ

مولانا عبدالمنان ( چٹاگانگ ، بنگلہ دیش)

(۳)

ڈچ

مولانا غلام رسول قادری سروری

(۴)

ترکی

اسماعیل حقی

(۵)

ہندی (بنام کلام الرحمن)

سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی

ہندی(مع تفسیر)

مولانا نور الدین نظامی (رامپور)

(۶)

کرول

مولانا نجیب ضیائی مصباحی ( ماریشس)

(۷)

گجراتی

مولانا حسن آدم گجراتی

(۸)

سندھی

مفتی محمد رحیم سکندری ( پیر جوگوٹھ ،سندھ)

عبدالوحید سرہندی (۱۸)

علامہ عبدالحکیم خاں اختر شاہجہانپوری نے ’’ باغِ کنزالایمان ‘‘ کے عنوان سے کنزالایمان سے متعلق تحقیقی کام کا آغاز فرمایا تھا مگر صدافسوس کہ آپ کا ۱۴۱۴ھ /۱۹۹۳ء میں وصال ہو گیا جس کی وجہ سے یہ کام تشنہ ہی رہا ۔

ماہررضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے اپنی انگریزی کتاب The Reformer of the Muslim World کے ایک باب میں دیگر تراجمِ قرآن سے ترجمۂ اعلیٰ حضرت کا موازنہ پیش کیا ہے ۔ یہ کتاب ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کر اچی سے ۲۰۰۴ء میں شائع ہوئی ہے۔

مولانا عبدالہادی قادری رضوی نے اپنی انگریزی کتاب The life and work of the Muslim Revivalistمیں کنزالایمان پر ایک باب قائم فرمایا ہے جس کا عنوان ہے: Translation and Commentary of the Holy Quran کتاب کی اشاعت ۲۰۰۱ء میں رضا اکیڈمی بمبئی نے کی ہے ۔