اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ-وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ-فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا(۳۴)

مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی (ف۱۰۰) اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱ )تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں(ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو (۱۰۴) پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللہ بلند بڑا ہے ( ف۱۰۵)

(ف99)

تو عورتوں کو اُن کی اطاعت لازم ہے اور مردوں کو حق ہے کہ وہ عورتوں پر رِعایا کی طرح حکمرانی کریں اور اُن کے مصالح اور تدابیر اور تادیب وحفاظت کا سرانجام کریں

شان ِنزول: حضرت سعد بن ربیع نے اپنی بی بی حبیبہ کو کسی خطا پر ایک طمانچہ مار ااُن کے والِد انہیں سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور انکے شوہر کی شکایت کی اِس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف100)

یعنی مردوں کو عورتوں پر عقل و دانائی اور جہاد اور نبوّت و خلافت وامامت و اذان و خطبہ و جماعت و جمعہ و تکبیر و تشریق اور حدو قصاص کی شہادت کے اور ورثہ میں دونے حصّے اور تعصیب اور نکاح و طلاق کے مالک ہونے اور نسبوں کے ان کی طرف نسبت کئے جانے اور نماز و روزہ کے کامل طور پر قابل ہونے کے ساتھ کہ اُن کے لئے کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے کہ نماز و روزہ کے قابل نہ ہوں اور داڑھیوں اور عِماموں کے ساتھ فضیلت دی ۔

(ف101)

مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے نفقے مردوں پر واجب ہیں۔

(ف102)

اپنی عفت اور شوہروں کے گھر مال اور اُن کے راز کی ۔

(ف103)

انہیں شوہرکی نافرمانی اور اُس کے اطاعت نہ کرنے اور اُس کے حقوق کا لحاظ نہ رکھنے کے نتائج سمجھاؤ جو دُنیا و آخرت میں پیش آتے ہیں اور اللہ کے عذاب کا خوف دِلاؤ اور بتاؤ کہ ہمارا تم پر شرعاً حق ہے اور ہماری اطاعت تم پر فرض ہے اگر اِس پر بھی نہ مانیں ۔

(ف104)

ضرب غیر شدید ۔

(ف105)

اور تم گناہ کرتے ہو پھر بھی وہ تمہاری توبہ قبول فرماتا ہے تو تمہاری زیردست عورتیں اگر قصور کرنے کے بعد معافی چاہیں تو تمہیں بطریق اولٰی معاف کرنا چاہئے اور اللہ کی قدرت و برتری کا لحاظ رکھ کر ظلم سے مجتنب رہنا چاہئے۔

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ-اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا(۳۵)

اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (۱۰۶) تو ایک پنچ مر دوالوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل(موافقت پیدا) کردے گا بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸)

(ف106)

اور تم دیکھو کہ سمجھانا ،علٰیحدہ سونا، مارنا کچھ بھی کار آمد نہ ہوا اور دونوں کی نااتفاقی رفع نہ ہوئی ۔

(ف107)

کیونکہ اقارب اپنے رشتہ داروں کے خانگی حالات سے واقف ہوتے ہیں اور زوجین کے درمیان موافقت کی خواہش بھی رکھتے ہیں اور فریقین کو ان پر اطمینان بھی ہوتا ہے اور اُن سے اپنے دل کی بات کہنے میں تَامل بھی نہیں ہوتا ہے۔

(ف108)

جانتا ہے کہ زوجین میں ظالم کون ہے ۔

مسئلہ: پنچوں کو زوجین میں تفریق کردینے کا اختیار نہیں۔

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙﰳ (۳۶)

اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱۴)اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱۶) بے شک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷)

(ف109)

نہ جاندار کو نہ بے جان کو نہ اُس کی ربوبیت میں نہ اُس کی عبادت میں ۔

(ف110)

ادب و تعظیم کے ساتھ اور اُنکی خدمت میں مستعِد رہنا اور اُن پر خرچ کرنے میں کمی نہ کرو۔ مُسلِم شریف کی حدیث ہے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اُس کی ناک خاک آلود ہو حضرت ابوہریرہ نے عرض کیا کِس کی یارسول اللہ فرمایا جس نے بوڑھے ماں باپ پائے یا اُن میں سے ایک کو پایا اور جنّتی نہ ہوگیا

(ف111)

حدیث شریف میں ہے رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے والوں کی عمر دراز اور رزق وسیع ہوتا ہے۔(بخاری و مسلم)

(ف112)

حدیث : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی سرپرستی کرنے والا ایسے قریب ہوں گے جیسے اَنگشت شہادت اور بیچ کی انگلی (بخاری شریف)حدیث: سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیوہ اور مسکین کی امداد و خبر گیری کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کے مثل ہے۔

(ف113)

سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل مجھے ہمیشہ ہمسایوں کے ساتھ احسان کرنے کی تاکید کرتے رہے اِس حد تک کہ گمان ہوتا تھا کہ ُان کو وارث قرار دیں ( بخاری و مسلم)

(ف114)

یعنی بی بی یا جو صحبت میں رہے یا رفیق ِسفر ہو یا ساتھ پڑھے یا مجلس و مسجد میں برابر بیٹھے۔

(ف115)

اور مسافر و مہمان حدیث: جو اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھے اُسے چاہئے کہ مہمان کا اکرام کرے۔(بخاری ومسلم)

(ف116)

کہ انہیں اُن کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دواور سخت کلامی نہ کرو اور کھانا کپڑا بقدر ضرورت دو ۔حدیث: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں بدخُلق داخل نہ ہوگا۔(ترمذی)

(ف117)

مُتکبِّر خودبیں جو رشتہ داروں اور ہمسایوں کو ذلیل سمجھے ۔

الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ(۳۷)

جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لیے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اُسے چھپائیں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لیے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے (آیت ۳۷)

(ف118)

بخل یہ ہے کہ خود کھائے دُوسرے کو نہ دے شُحْ یہ ہے کہ نہ کھائے نہ کھلائے سخایہ ہے کہ خود بھی کھائے اور دُوسروں کو بھی کھلائے ، جو د یہ ہے کہ آ پ نہ کھائے دوسرے کو کھلائے ۔

شانِ نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے تھے

مسئلہ : اس سے معلُوم ہوا کہ علم کو چھپانا مذموم ہے ۔

(ف119)

حدیث شریف میں ہے کہ اللہ کو پسند ہے کہ بندے پر اُس کی نعمت ظاہر ہو ۔

مسئلہ: اللہ کی نعمت کا اظہار اخلاص کے ساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے اور اس لئے آدمی کو اپنی حیثیت کے لائق جائز لباسوں میں بہتر پہننا مستحب ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا(۳۸)

اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر اور جس کا مُصاحب(ساتھی ومشیر) شیطان ہوا (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے

(ف120)

بخل کے بعد صرفِ بیجا کی برائی بیان فرمائی کہ جو لوگ محض نمود و نمائش اور نام آوری کے لئے خرچ کرتے ہیں اور رضائے الہٰی اِنہیں مقصُود نہیں ہوتی جیسے کہ مشرکین و منافقین یہ بھی اِنہیں کے حکم میں ہیں جن کا حکم اُوپر گزر گیا۔

(ف121)

دنیاو آخرت میں دنیا میں تو اس طرح کہ وہ شیطانی کام کرکے اُس کو خوش کرتا رہا اور آخرت میں اس طرح کہ ہر کافر ایک شیطان کے ساتھ آتشی زنجیر میں جکڑا ہوا ہوگا۔(خازن)

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا(۳۹)

اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دئیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے

(ف122)

اس میں سَراسر اُن کا نفع ہی تھا۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ-وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا(۴۰)

اللہ ایک ذرّہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اُسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)

تو کیسی ہوگی جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں (ف۱۲۴)

(ف123)

اُس نبی کو اور وہ اپنی امت کے ایمان و کفر و نفاق اور تمام افعال پر گواہی دیں کیونکہ انبیاء اپنی اُمتوں کے اَفعال سے باخبر ہوتے ہیں۔

(ف124)

کہ تم نبیُ الانبیاء اور سارا عالَم تمہاری اُمّت ۔

یَوْمَىٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُؕ-وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠(۴۲)

اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے(ف۱۲۵)

(ف125)

کیونکہ جب وہ اپنی خطاء سے مُکْریں گے اور قَسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مُشرِک نہ تھے اور ہم نے خَطا نہ کی تھی تو اُنکے مونہوں پر مُہر لگادی جائے گی اور اُن کے اعضاء وجَوارح کو گویائی دی جائے گی وہ اُن کے خلاف شہادت دیں گے۔