حدیث نمبر :533

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اﷲ کوکون ساعمل زیادہ پیاراہے فرمایاوقت پرنماز ۱؎ میں نے کہا پھرکون سا فرمایا ماں باپ سے بھلائی میں نے کہا پھرکون سافرمایا اﷲ کی راہ میں جہاد۲؎ فرمایا مجھے حضورنے یہ باتیں بتائیں اگرزیادہ پوچھتا تو زیادہ بتاتے(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی ہمیشہ نمازیں وقت مستحبہ پر اداکرنا۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایمان کے بعدنماز کا درجہ ہے ان کی دلیل یہی حدیث ہے۔جن روایتوں میں جہادکو نمازسے پہلے بیان کیا گیا وہ بعض ہنگامی حالات میں ہے جب جہاد فرض عین ہوچکا ہو اور دشمن کی یلغار بڑھ گئی ہو،ورنہ ظاہرہے کہ جہاد نماز ہی کے لئے ہوتا ہے۔یا یوں کہا جائے کہ سائلین کے لحاظ سے حضور کے جواب مختلف ہوئے،کسی کے لئے جہاد افضل تھا،کسی کے لیے غریبوں کو کھاناکھلانا،کسی کے لیے زبان کی حفاظت،کسی کے لئے چھپ کر خیرات،لہذا احادیث متعارض نہیں۔

۲؎ یہ تربیت سیدنا ابن مسعود کے حال کے لحاظ سے ہے،ورنہ بعض روایات میں اس کے برعکس بھی آیا ہے۔

۳؎ یعنی میں نے سوال ہی اتنے کئے۔خیال رہے کہ ماں باپ کی خدمت کو نماز سے بہت مناسب ہے کہ نمازرب کی عبادت ہے اوریہ خدمت مربّی کی اطاعت اسی لیے قرآن شریف میں اس خدمت کو عبادت کے ساتھ بیان فرمایا گیا:”وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا”الایہ۔