أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلۡ بَدَا لَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَـكٰذِبُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

بلکہ ان پر اب وہ حقائق منکشف ہوگئے ہیں جن کو وہ پہلے چھپاتے تھے، اور اگر وہ دنیا کی طرف لوٹا دیے گئے تو پھر وہی کام کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلکہ ان پر اب وہ حقائق منکشف ہوگئے ہیں جن کو وہ پہلے چھپاتے تھے، اور اگر وہ دنیا کی طرف لوٹا دیے گئے تو پھر وہی کام کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔ (الانعام : ٢٨) 

یعنی ان کی حالت نہیں بدلے گی اور وہ اسی طرح کفر اور معصیت پر برقرار رہیں گے۔ اب وہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے دلوں میں جو کفر اور معصیت چھپائی تھی وہ سب قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” وبدالھم سیات ما کسبوا وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون “۔ (الزمر : ٤٨) 

ترجمہ : اور ان کی ‘ کی ہوئی تمام برائیاں ظاہر ہوجائیں گی اور انہیں وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ 

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ندامت یا تمنا کا صراحتا رد فرمایا ‘ یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹا دیئے گئے تو ان کو جس کفر ‘ عناد ‘ معصیت اور نفاق سے منع کیا گیا تھا ‘ وہ پھر اسی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ کیونکہ کفر وہ عناد ان کی طبیعت میں رچ چکا ہے۔ وہ دنیا کی رنگینیوں اور زیب وزینت کو دیکھ کر ایک بار پھر آخرت کا انکار کردیں گے اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے ‘ حساب و کتاب اور جزاء اور سزا کی پھر تکذیب کریں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 28