أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡۤا اِنۡ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی صرف اسی دنیا میں ہے اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی صرف اسی دنیا میں ہے اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ (الانعام : ٢٩) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کا صراحتا رد فرمایا ہے کہ اگر ان کو دنیا میں دوبارہ بھیج دیا گیا تو وہ پھر دنیا کی لذتوں میں مشغول ہوجائیں گے اور پھر کفر کریں گے ‘ وہ صرف دنیا کی زندگی کا اقرار کریں گے اور آخرت کا انکار کریں گے اور کہیں گے کہ صرف یہی دنیاوی زندگی ہے جس میں ہم زندہ ہیں اور ہم صرف طبعی حیات کو پورا کرتے ہیں۔ اس کے بعد نہ کوئی ثواب ہے نہ عذاب ہے۔ یہ لوگ مادہ پرست اور ملحد ہیں جو غیب پر ایمان نہیں لاتے ‘ ان کا نفس امارہ ان کا کفر ‘ گمراہی اور برے کاموں پر قائم رہنے کا حکم دیتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 29