أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ تَرٰٓى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَى النَّارِ فَقَالُوۡا يٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور (اے مخاطب) کاش تو دیکھتا جب ان (کافروں) کو دوزخ پر کھڑا کیا جائے گا ‘ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں لوٹا دیا جائے اور ہم اپنے رب کی نشانیوں کی تکذیب نہ کریں اور مومنوں میں سے ہوجائیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مخاطب) کاش تو دیکھتا جب ان (کافروں) کو دوزخ پر کھڑا کیا جائے گا ‘ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں لوٹا دیا جائے اور ہم اپنے رب کی نشانیوں کی تکذیب نہ کریں اور مومنوں میں سے ہوجائیں۔ (الانعام : ٢٧) 

قیامت کے دن کافروں کے عذاب کی کیفیت : 

قرآن مجید میں وقوف کا لفظ ہے ‘ یعنی ان کافروں کو جب دوزخ پر واقف کیا جائے گا۔ اس کا معنی قیام بھی ہے اور جاننا بھی ‘ اس صورت میں اس کے کئی معنی ہیں۔ 

(١) وہ دوزخ کے پاس کھڑے ہوں اور دوزخ کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ 

(٢) دوزخ کے اوپر جو پل صراط ہے ‘ وہ اس کے اوپر کھڑے ہوئے دوزخ کو دیکھ رہے ہوں۔ 

(٣) وہ دوزخ کے عذاب پر واقف اور مطلع ہوں۔ 

(٤) ان کو دوزخ میں ڈال دیا گیا ہو اور وہ اس حال میں دوزخ میں کھڑے ہوئے ہوں کہ وہ ہر طرف سے دوزخ میں کھڑے ہوئے ہوں کہ وہ ہر طرف سے دوزخ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہوں۔ 

اس آیت میں جزا محذوف ہے اور حاصل معنی یہ ہے کہ اے مخاطب ! جب تو یہ دیکھے گا کہ فرشتے کافروں کو دوزخ کے پاس کھڑا کردیں گے تو ان کو اس قدر خوف اور دہشت میں دیکھے گا جس کو منضبط کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس وقت یہ کافر نادم ہوں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ کاش انہیں پھر دنیا میں لوٹا دیا جائے اور پھر ہم اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور مومنوں میں سے ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں اور دلیلوں کی تکذیب نہ کریں جو اس کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی تصدیق پر دلالت کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ‘ فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں پر ایمان لائیں اور گناہوں سے توبہ کریں اور نیک عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کا رد فرماتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 27