أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُ اِلَيۡكَ‌‌ ۚ وَجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا ‌ؕ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا‌ ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡكَ يُجَادِلُوۡنَكَ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو کان لگا کر آپ کی باتیں سنتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں تاکہ وہ آپ کی باتیں سمجھ نہ سکیں اور ہم نے ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے ‘ اور اگر وہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ جب وہ آپ کے پاس بحث کرتے ہوئے آئیں گے تو کہیں گے کہ یہ قرآن تو محض پہلے لوگوں کا قصہ کہانی ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو کان لگا کر آپ کی باتیں سنتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں تاکہ وہ آپ کی باتیں سمجھ نہ سکیں اور ہم نے ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے ‘ اور اگر وہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ جب وہ آپ کے پاس بحث کرتے ہوئے آئیں گے تو کہیں گے کہ یہ قرآن تو محض پہلے لوگوں کا قصہ کہانی ہے۔ (الانعام : ٢٥) 

شان نزول : 

امام ابو الحسن علی بن احمد واحدی متوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب ‘ ولید بن مغیرہ ‘ نضر بن الحارث ‘ عتبہ شیبہ بن ربیعہ کے دونوں بیٹے ‘ امیہ اور ابی بن خلف۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں کان لگا کر سن رہے تھے تو انہوں نے نضر سے کہا اے ابو قتیلہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کہتے ہیں ؟ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے میرے اور ان کے کلام سننے کے درمیان کوئی چیز حائل کردی ہے ‘ میں نہیں سمجھ سکا کہ وہ کہ وہ کیا کہتے ہیں ؟ میں صرف ان کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں اور وہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ‘ وہ پچھلے لوگوں کی داستانیں ہیں جیسا کہ میں تمہیں گزرے ہوئے لوگوں کی داستانیں سناتا ہوں اور نضر پچھلے لوگوں کے قصے بہت زیادہ بیان کرتا تھا۔ وہ قریش کو واقعات بیان کرتا تھا اور وہ اس کی باتیں غور سے سنتے تھے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (اسباب النزول ‘ ٢١٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

کفار کے کانوں پر ڈاٹ لگانے پر اعتراضات کے جوابات : rnٓاس آیت میں فرمایا ہے اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ آپ کے بات سمجھ نہ سکیں اور ہم نے ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے اس آیت پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اگر ان کے کانوں میں ڈاٹ (گرانی) تھی اور ان کے دلوں پر پردے تھے تو چاہیے تھا کہ وہ کوئی بات نہ سنتے اور کسی بات کو نہ سمجھتے۔ حالانکہ وہ لوگوں کی باتیں سنتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے۔ اگر اس کا یہ جواب دیا جائے کہ وہ نبی کریم کی باتوں کو نہیں سنتے تھے اور نہ سمجھتے تھے تو اس کے معارض اس آیت کا آخری حصہ ہے جس میں فرمایا ہے جب وہ آپ کے پاس بحث کرتے ہوئے آئیں گے تو کہیں گے کہ یہ قرآن تو محض پہلے لوگوں کا قصہ کہانی ہے اس سے معلوم ہوا کہ وہ آپ کے کلام کو سنتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے ‘ البتہ مانتے نہیں تھے۔ 

اس اعتراض کا صحیح جواب یہ ہے کہ سننے سے مقصود یہ تھا کہ وہ سن کر اس سے نفع حاصل کرتے اور اس پر ایمان لاتے اور سمجھنے سے مقصود یہ تھا کہ وہ اس میں غور وفکر کرکے صحیح نتیجہ نکالتے اور یہ اعتراف کرلیتے کہ واقعی یہ اللہ کا کلام ہے اور کوئی انسان اس کی نظیر نہیں لاسکتا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو مان لیتے اور جب انہوں نے سننے اور سمجھنے کے مقصود کو پورا نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں ‘ تاکہ وہ آپ کی بات سمجھ نہ سکیں اور ہم نے ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے ‘ پھر اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ آیت کفار کی مذمت میں وارد ہوئی ہے اور جب ان کے کانوں میں اللہ نے گرانی رکھی ہے اور ان کے دلوں میں اللہ نے پردے ڈال دیئے ہیں تو وہ ایمان نہ لانے میں معذور ہوئے ‘ پھر ان کی مذمت کی کیا وجہ ہے ؟ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ جب ان کے کانوں میں اللہ نے ڈاٹ لگا دی اور ان لگا دی اور ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے تو اب ان کا ایمان لانا ممکن نہیں رہا ‘ پھر ان کو ایمان لانے کا مکلف کرنا کس طرح درست ہوگا ؟ جب کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے : 

(آیت) ” لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا “۔ (البقرہ : ٢٨٦) 

ترجمہ : اللہ ہر شخص کو اس کی طاقت کے مطابق ہی مکلف کرتا ہے۔ 

اس کا جواب یہ ہے کہ ان کافروں نے اپنے عناد اور بغض کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں ایسی شدید گستاخی کی ‘ جس کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حق کو سننے کے لیے ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی اور حق کو سمجھنے کے لیے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ‘ جیسا کہ ان آیات سے واضح ہے : 

(آیت) ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم “۔ (النساء : ١٥٥) 

ترجمہ : بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی۔ 

(آیت) ” ذلک بانھم امنوا ثم کفروا فطبع علی قلوبھم فھم لا یفقھون “۔ (المنافقون : ٣) 

ترجمہ : یہ اس لیے کہ وہ ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا ‘ سو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ 

ان کے کانوں میں ڈاٹ لگانے اور دلوں پر پردے ڈالنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ حسی طور پر ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی تھی اور ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے تھے ‘ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کفار کفر اور معصیت کو اچھا جاننے اور ایمان اور اطاعت کو برا جاننے کے خوگر اور عادی ہوگئے تھے ‘ کیونکہ اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کرنے اور دلائل میں صحیح طریقہ سے غور وفکر کرنے سے مسلسل اعراض کرنے کی وجہ سے ان میں گمراہی اس قدر راسخ ہوچکی تھی کہ ان پر کوئی بات اثر نہیں کرتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں انکار کی ایسی حالت پیدا کردی جس کی وجہ سے ان میں حق نافذ نہیں ہوسکتا تھا اور ان کے کانوں میں ایسی کیفیت پیدا کردی کہ حق بات کو سننا انہیں بہت ناگوار تھا اور ان کے دلوں اور کانوں میں اس کیفیت کا پیدا کرنا ان کو کفر اور گمراہی پر مجبور کرنا نہیں تھا ‘ بلکہ انہیں نے اپنے اختیار سے دلائل میں غور وفکر کرنے کی بجائے اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کو جو اختیار کیا تھا ‘ یہ اس کی سزا اور تعزیر تھی ‘ تو چونکہ ہر ممکن اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے وجود میں آتا ہے اور ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ہم نے ان کے کانوں میں گرانی رکھی ہے اور چونکہ اس کو پیدا کرنے کا سبب ان کافروں کا اپنا ارادہ ‘ اختیار اور کسب تھا ‘ اس وجہ سے ان کی مذمت فرمائی اور آیت سے قطع نظر کرکے فی نفسہ ان کا ایمان لانا ممکن ہے ‘ اس لیے ان کو ایمان کا مکلف کرنا بھی صحیح ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان کا ایمان لانا ممکن بالـذات اور ممتنع بالغیر ہے۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ کفار از راہ تکبر خود کہتے تھے ہم آپ کی بات نہیں سنتے۔ آپ کی باتیں سننے کے لیے ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے اور آپ کے اور ہمارے درمیان مضبوط پردہ حائل ہے۔ 

(آیت) ” بشیرا ونذیرا فاعرض اکثرھم فھم لا یسمعون، وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعانا الیہ وفی اذاننا وقرو من بیننا و وبینک حجاب فاعمل اننا عملون “۔ (حم السجدہ : ٥۔ ٤) 

ترجمہ : بشارت دیتا ہو اور ڈراتا ہوا ‘ سو اکثر کافروں نے منہ پھیرلیا پس وہ نہیں سنتے، اور انہوں نے کہا جس چیز کی طرف تم دعوت دیتے ہو ‘ ہمارے دلوں میں اس کے لیے پردے ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان مضبوط حجاب ہے تو آپ اپنا کام کریں ‘ بیشک ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔ 

کفار یہ ظاہر کرتے تھے کہ رسول کا کلام ان کے سننے کے قابل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر فرمایا نہیں بلکہ تم اس قابل نہیں ہو کہ تم کو ہمارے رسول کا کلام سنایا جائے ‘ تو جس طور سے انہوں نے کہا تھا ‘ کہ ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور ہمارے دلوں پر پردے ہیں ‘ اسی طور سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہارے کانوں میں ڈاٹ ہم نے لگائی ہے اور تمہارے دلوں پر پردے ہم نے ڈالے ہیں۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ جب کافروں نے حق کو سننے اور اس کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے دلائل میں غور وفکر کرنے سے مسلسل اعراض کیا اور اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید پر اصرار کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے انکے اس انکار اور اعراض کی حالت کو اس شخص کے حال سے تشبیہ دی جس کے دل پر پردے ہوں اور اس کے کانوں میں گرانی ہو ‘ سو اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حقیقتا ان کے دلوں پر اللہ نے پردے ڈال دیئے اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی ‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق سے ان کی مسلسل روگردانی ایسی ہے جیسے ان کے دلوں پر پردے ہوں اور ان کے کانوں میں گرانی ہو ‘ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ 

(آیت) ” واذا تتلی علیہ ایتنا ولی مستکبرا کان لم یسمعھا کان فی اذنیہ وقرا “۔ (لقمان : ٧) 

ترجمہ : اور جب اس پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو اس نے تکبر کرتے ہوئے پیٹھ پھیرلی ‘ گویا اس نے سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں گرانی ہے۔ 

سورة بقرہ کی آیت ” ختم اللہ علی قلوبھم “ کی تفسیر میں ‘ میں نے اس پر مفصل لکھا ہے۔ وہاں پر میں نے صرف پہلے جواب کو زیادہ تفصیل اور وضاحت سے لکھا ہے اور یہاں پر دو مزید جواب ذکر کیے ہیں :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 25