أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ تَرٰٓى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ‌ ؕ قَالَ اَلَـيۡسَ هٰذَا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا‌ ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور (اے مخاطب) کاش تو وہ منظر دیکھتا جب ان کو ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا : اللہ فرمائے گا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں، اے ہمارے رب : اللہ فرمائے گا پس اب تم اپنے کفر کی وجہ سے عذاب (کامزہ) چکھو۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مخاطب) کاش تو وہ منظر دیکھتا جب ان کو ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا : اللہ فرمائے گا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں، اے ہمارے رب : اللہ فرمائے گا پس اب تم اپنے کفر کی وجہ سے عذاب (کامزہ) چکھو۔ (الانعام : ٣٠) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حشر کے دن کافروں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح پیش کیا جائے گا جس طرح مجرموں کو حاکم کے سامنے پیش کا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان سے باز پرس فرمائے گا ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” وقفوھم انھم مسئولون “۔ (الصفت : ٢٤) 

ترجمہ : ان کو کھڑا کرو ان سے سوال کیا جائے گا۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ولا یکلمھم اللہ یوم القیامۃ “۔ (البقرہ : ١٧٤) 

ترجمہ : اور اللہ ان سے قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا۔ 

اور اس آیت میں ان سے کلام فرمانے کا ذکر ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بلاواسطہ کلام نہیں فرمائے گا اور اس آیت میں جس کلام فرمانے کا ذکر ہے وہ فرشتوں کے واسطے سے ہے ‘ یا اللہ تعالیٰ ان سے رحمت کے ساتھ کلام نہیں فرمائے گا اور یہ کلام غضب کے ساتھ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کے واسطے سے ان سے فرمائے گا کہ کیا یہ مر کر دوبارہ اٹھنا حق نہیں ہے ‘ جس کا تم انکار کرتے تھے ہو۔ وہ قسم کھا کر کہیں گے کہ یہ بالکل حق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب تم اپنے کفر اور تکذیب کی وجہ سے عذاب کا مزہ چکھو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 30