اسلام کا معاشرتی نظام ایک تحقیقی جائزہ

محمد اسلم رضا قادری مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ،صدر بازار باسنی ناگور شریف

دنیا کے تمام ادیان و مذاہب میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو خیر و صلاح کا داعی، فلاح و بہبود کا ضامن ہے، اس مقدس مذہب کی تمام تر تعلیمات، احکامات و ہدایات کا مآخذ قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبوی ا ہیں، یہی وہ مہذب مذہب ہے جو ہر فرد، قوم و ملت، ملک و حکومت اور مردوزن کی جملہ ضروریات و حاجات کا کفیل اور ان کے شب و روز کو اسلامی منشور کے مابین خوشگوار و خوشحال بنانے، نیک سیرت و کردار اور عمدہ اخلاق و محاسن کا پیکرِ جمیل بنانے، سماج و معاشرہ میں لطیف فطرت و خصلت کا عادی کرنے کے لئے ایسے بے نظیر اصول و آئین متعین فرماتا ہے جو سنگِ میل اور درِ نایاب و کمیاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے اصول و ضوابط سے انحراف کر کے اگر کوئی چین و سکون، اطمینان و راحت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہے تو ہرگز اس کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

یوں تو اسلام کی پاکیزہ تدابیر و تعلیمات کا انحصار ایک نا ممکن امر ہے لیکن اسلام نے معاشرہ و سماج کے تعلق سے جو تجاویز و پیغامات بتائے ہیں وہ دنیا کے کسی مذہب میں تلاش بسیار کے بعد بھی نہیں مل سکتے کیوں کہ ایک انسان کی ذات و شخصیت پر معاشرہ کی جو اثر پذیری ہوتی ہے وہ اربابِ فکر و نظر سے مخفی نہیں۔ معاشرہ ہی سے انسان صالح و نیک بن جاتا ہے، عمدہ اور صالح فکر کا حامل، اعمالِ خیر کا خوگر، خیر و شر میں ما بہ الامتیاز فرق کرنے والا بنتا ہے، معاشرہ ہی ایک انسان کو ظالم و جابر، تند مزاج بنا دیتا ہے۔ معاشرہ میں رہ کر ایک آدمی نرم خُو بن جاتا ہے۔ معاشرہ کی زیبائی و خوش نمائی سے انسان فرائض سے غافل، بے عمل، بد کردار و بد اخلاق، بے راہ روی پہ گامزن ہو جاتا ہے۔ صحبت و معاشرت بہت اثر انداز ہوتی ہے۔ اس شعر سے معاشرہ و سماج کے حقائق پر خوب روشنی پڑتی ہے ؎

صحبتِ صالح ترا صالح کند

صحبتِ طالح ترا طالح کند

مذہبِ اسلام کے پاکیزہ افکار و نظریات، معتقدات و خیالات اور بے مثال تصورات پر عامل رہ کر ہی ایک انسان خوشحال و خوشگوار زندگی گزار سکتا ہے اور وہ اپنی زیست کے لمحات کے اندر حقیقی سکون اور دائمی اطمینان محسوس کر سکتا ہے۔ باقی جتنے بھی مذاہب ہیں سب کی تعلیمات انسانی فکر و شعور کو بے عملی و بے راہ روی پر آمادہ کرتی ہیں، انسانی زندگی کو مشقّت وتکلیف میں ڈال دیتی ہیں۔ اب یہ حقیقت آفتاب نیم روز کی مانند روشن ہو جاتی ہے کہ اسلام ہی وہ پاکیزہ اور مقدس مذہب مہذب ہے جو انسان کو ایک صالح اور صاحبِ بصیرت بنا دیتا ہے اور اس کے فکر و شعور کو پاکیزگی اور اس کے نفس و قلب کو تطہیر و پاکی کی نعمت لا زوال سے نوازتا ہے جس کی وجہ سے معاشرت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ اسلا ہی وہ مذہب ہے جس نے زیست کے تمام تر شعبوں میں ہماری رہنمائی و دستگیری فرماتے ہوئے عمدہ و یکتا اصول و قوانین متعین و معین فرمائے ہیں۔ اسلام ہی مکمل ضابطۂ حیات و مکمل دین و مذہب ہے جیسا کہ مفکرِ اسلام حضرت علامہ یٓسین اختر صاحب قبلہ مصباحی مد ظلہ النورانی ایک جگہ اسلام کے آفاقی نظام پر خامہ فرسائی کرتے ہوئے رقمطراز ہیں

’’اسلام ایک مکمل دین ہے جو فرد اور معاشرہ کو پیش آنے والے حالات و واقعات کے سلسلہ میںسبھی انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے اور ہر شعبۂ حیات کے لئے اس نے ایسے رہنما اصول و خطوط متعین کر دئیے ہیں جن کی روشنی میں ہر انسان پوری کامیابی و کامرانی کے ساتھ اپنا سفر حیات جاری رکھ کر منزلِ مقصود سے ہمکنار ہو تا رہے گا‘‘ ا ھ (نقوشِ فکر ۱۶۸)

دوسری جگہ مزید اسلام کے عالمگیر نظام، آفاقی اور ہمہ گیر تعلیمات کے عروج و ارتقا، تشہیر و پذیرائی کا تذکرہ کچھ اس طرح قبلہ موصوف مد ظلہ کے اشہبِ قلم سے سپردِ قرطاس ہوا ہے۔

’’اسلام کو دنیا کے سامنے عملی شکل میں پیش کرنے کے لئے انبیاء و مرسلین علیہم السلام کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور سب سے آخر میں سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ا کو قرآنِ حکیم کے ساتھ اس جہانِ آب و گل میں اپنا رسول بنا کر بھیجا جنہوں نے انسانی زندگی کے ہر گوشہ کی مکمل ہدایت و رہنمائی فرمائی اور اسلام کے اصول و ضوابط کی تفصیل و توضیح، اپنی عبادات و معاملات، اخلاق و کردار رفتار و گفتار کے ذریعہ فرمادی‘‘ا ھ (نقوش فکر ۱۸۹)

اب اگر کوئی ان (اسلامی اصول) سے سر موڑ ے او ر مغربی تہذیب و تمدن پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو اطمینان و سکون سے گزارنے کا حسین خواب دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی اس کم عقلی، کج فہمی، پر جتنا ماتم کرے کم ہے کیوں کہ وہ اپنی دنیا کو برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔

ایک جائزہ:

طوفان نوح لانے سے اے چشم فائدہ

دواشک ہی بہت ہیں اگر کچھ اثر کریں

آج مسلم معاشرہ میں جس قدر بے راہ روی، بدکرداری، بد اخلاقی، راہ پا گئی ہے وہ کسی صاحب بصیرت اور اصحابِ فکر و تدبر کی دور بین و دور رس نگاہوں سے پوشیدہ نہیں، مغربی کلچر و تہذیب کا دلدادہ نوجوان فرائض سے غافل، جھوٹ، غیبت، چغلی اور آپسی اختلافات و تنازعات میں اس قدر محو ہے کہ اسے اپنی عقبیٰ کی فکر اور احساس سود و زیاں دامن گیر ہی نہیں ہے۔ مزید نہ جانے کتنے عیوب و نقائض رو پذیر ہیں جو قومِ مسلم کے عروج و ترقی میں باعثِ رکاوٹ بن رہے ہیں اور مسلمانان عالم ہر محاذ پر پستی و زبوں حالی کا شکار نظر آرہے ہیں۔ ہائے افسوس! جس امت کو خیرِ امت سے یاد کیا گیا اور جو برائیوں و بد اعمالیوں کے خلاف علم جہاد بلند کر کے دشمنانِ اسلام کو زیر کرتی تھی آج وہی قوم اپنے اسلاف کی مقدس تاریخ کو پسِ پشت ڈال کر دنیوی عیش و عشرت میں کھوئی ہوئی دکھائی دے رہی ہے اور اپنی عزت و ناموس کو بر سرِ عام نیلام کر رہی ہے اور حضور اقدس اکی پاکیزہ سیرت کے پاکیزہ نقوش کو فراموش کر چکی ہے جن کی زیست کا لمحہ لمحہ روشن و تابناک، جن کے دامن میں حیات کے تمام تر لوازمات موجود، جن کی حیات پاک کا ہر گوشہ نمونۂ عمل و لائحۂ تقلید، جن کی زندگی اسوۂ حسنہ، جو نظامِ قدرت و حیات کا تابندہ ستارہ، جن کے پہلو میں نظامِ حیات رشک و خنداں، جن کی زندگی کی ہر ساعت پاکیزہ و درخشندہ، جن کی آفاقی اور ہمہ گیر تعلیمات میں قوم کے عروج کا سرمایہ بدرجۂ اتم پایا جاتا ہے آج ہم نے ان کے نقشِ پا کو ترک کر دیا ہے اور ان کے بتائے ہوئے اصول زندگی کو بھلا دیا ہے، اسی لئے ہمارا ہر جگہ ذلت و پستی سے سامنا ہے۔ رب القدس ہمیں مدنی داتا کے اقوال نایاب اور افعالِ بے مثال پر عمل کرنے کی توفیق رفیق بخشے کیوں کہ سرکار کی زندگی ہمارے لئے ذریعۂ نجات و سامان آخرت ہے۔ ہمارے اسلاف اور بزرگانِ دین کی سیرت سے ہمیں جو نقوش ملے ہیں ان کو ہم نے کچھ اہمیت ہی نہیں دی۔ مجاہدین اسلام کی داستان وفا نے ہمیں جن اسباق کا درسِ الفت دیا تھا اسے بھی ہم فراموش کر چکے اور نصاریٰ و ہنود کی بیہودہ و بد نہاد تہذیب و ثقافت سے متأثر نظر آ رہے ہیں جن کی تہذیب سراسر دغا و فریب کا آئینہ ہے ہم نے ان کی زندگیوں کو ایک کامیاب زندگی تصور کر لیا ہے۔ قومِ مسلم کی ذلت نشینی و زوال پذیری کا حال بہت برا ہے۔ اسلام جیسا پاکیزہ مذہب خدانے ہمیں عطا فرمایا اس کے باوجود بھی ہم اغیار اورا سلام دشمن عناصر کے کردارو اخلاق کو اپنانے میں مخر محسوس کرتے ہیں کیاہماری قوت فکر وعمل فنا ہوئی ہے؟اگر نہیں تو آج ہی اسلام دشمن عناصر کے طرزِ زندگی کو چھوڑ کر اسلام کے سانچے میں ڈھل جائیے اسی میں سرخروئی و کامیابی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے بہت ہی خوب کہا ہے ؎

طریق مصطفی کو چھوڑنا ہے وجہِ بربادی

اسی سے قوم دنیا میںہوئی بے اقتدار اپنی

اسلام کا معاشرتی نظام

یہی آئینِ قدرت ہے یہی اسلوبِ فطرت ہے

جو ہے راہِ عمل پہ گامزن محبوب فطرت ہے

اسلام چوں کہ دینِ فطرت ہے اس لئے اس نے انسان کی عادات و خصائل کی عمدگی اور پاکیزگی میں بہت مبین و مستحکم اصول مقرر فرمائے اور انسانی عقل و شعور کو بالیدگی اور کردار سازی کی لطافتوں سے محروم قسمت نہیں رکھا بلکہ بہترین اخلاق، عمدہ کردار، پاکیزہ سیرت میں ڈھلنے کے لئے لازوال قوانین متعین فرما کر ایک انسان کو اس کی اعلیٰ قدروں کا احساس دلایا ہے۔ اسلام کی آفاقیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے روزمرہ پیش آنے والی جملہ ضروریات انسانی کا حل اس خوبصورتی کے ساتھ فرمادیا ہے کہ جو بھی صاحبِ عقل و خرد مذہبِ اسلام کو عصبیت کی عینک اتار کر دیکھے گا وہ یہی صدا بلند کرتا ہوا نظر آئے گا کہ اسلام کا معاشرتی نظام حسن و کردار سازی، اخلاق حسنہ اور تہذیب حسن کا آئینہ ہے۔ یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ معاشرہ و سماج کے تعلق سے اسلام نے جو آئین و اصول مقرر فرمائے ہیں اس سے ایک صالح معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے اور اخلاق و کردار کا مثالی نمونہ بن سکتا ہے۔ اسلام کی مکمل تعلیمات کا محور معاشرہ و سماج کو خوب سے خوب تر بنا نا ہے۔ اسلام نے انسانیت کے وقار اور عظمت و بزرگی کی راہوں کو مسدود نہیں کیا ہے بلکہ اس نے اپنی اعلیٰ تعلیمات کے ذریعہ انسان کو انسانیت و شرافت، پاکیزگی و طہارت کا پتلا بنا دیا ہے۔ انسانیت کے اس کامل ترین ضابطۂ حیات میں کسی عربی کو عجمی پر، گورے کو کالے پر، تفوق نہیں دیا گیا۔ کالا ہو یا گورا، غربت و افلاک و تنگ دستی کا مارا ہو یا صاحبِ ثروت، حجازی ہو یا افریقی، اگر وہ پیکرِ تقویٰ و طہارت ہے اور شرافت و بزرگی کی راہوں پہ چلتا ہے، معاشرہ کے جملہ حقوق کی پاسداری کرتا ہے تو وہ رب القدس جل و علا کے نزدیک اقرب و اکرم ہے اور اگر وہ حقوقِ انسانی کی پامالی کر رہا ہے، عبادات و معاملات میں اس کا قدم استقامت پذیر نہیں ہے تو وہ ارذل انسان ہے۔ اسلام ہمیں ایثار و قربانی، سخاوت، امانت و دیانتداری، خدمتِ خلق، عدل و انصاف، عفو و کرم، حسنِ معاشرت و معیشت، عمدگیٔ معاملات، باہمی اتحاد و اتفاق، اخوت و بھائی چارگی، یکسانیت و یگانگت، مساوات و مواسات اور ان جیسی بے شمار خوبیوں کی تعلیم دیتا ہے۔

معاشرت اور نظام معاشرت کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مبلغ اسلام حضرت علامہ سید سعادت علی قادری (پاکستان) تحریر فرماتے ہیں ’’معاشرت کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ،اس سے زندگی کا ہر شعبہ متأثر ہوتا ہے ۔قرآن کریم جو تعمیر انسانیت کا بلاشبہ داعی اور ضامن ہے معاشرت کے ایسے اصول عطا فرماتا ہے جن کو اپنا لینا کامیاب،باوقاراور پر امن زندگی کی ضمانت ہے ،دنیا کی کوئی کتاب ایسے اصول زندگی کی تعلیم نہیں دیتی جو بظاہر نہایت معمولی ہیںلیکن قرآن کریم انہی کی تعلیم کو اہمیت دیتا ہے کہ معمولی اور چھوٹے کاموں پر عمل ہی انسان کو غیر معمولی اور بڑے کاموں کا عادی بناتا ہے ‘‘اھ

(یایھاالذین اٰمنوا ۲؍۱۸۰)

قرآنِ حکیم نے شعبۂ انسانی کے تعلق سے جو ہدایات اہلِ اسلام کو دی ہیں وہی ہمارے لئے کلاہِ افتخار و سرمایۂ آخرت ہیں اور انہی مضبوط و مبین احکامات و فرامین میں کامیابی کا راز مضمر ہے اور قرآن ہی ضابطۂ حیات و ضابطۂ اخلاق ہے، اس کے بغیر حسنِ معاشرت، عمدہ و پاکیزہ تہذیب و ثقافت کا خیال ہی باطل ہے۔ آج آپ دیارِ اغیار کی معاشرتی حیثیت کا سرسری جائزہ لیجئے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ وہاں احترامِ انسانیت اور حقوقِ انسانی کی کس انداز میں تضحیک کی جا رہی ہے اور بدکرداری و بے عملی کا بازار گرم ہے…… یہ تو اسلام کی رحمت ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو احترام و تکریمِ انسانیت کے اسباق کی جابجا تعلیم دیتا ہے اور حکم دیتا ہے ’’من لم یرحم صغیرنا و لم یوقر کبیرنا فلیس منا‘‘ (ترمذی شریف)

کیا کوئی مذہب انسانیت کے وقار کا اس طرح داعی و علمبردار ہے؟ نہیں ہرگز نہیں! بلا شبہہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو معاشرتی نظام کے حسن و نکھار میں اور زیادہ نور پھونکتا ہے۔ مزید زیست کے لمحات کو بسر کرنے کے لئے اس نے جو اصول منتخب فرمائے ہیں ان سے ایک پر امن زندگی تشکیل دی جا سکتی ہے۔ یہ اسلام کا معاشرتی نظام ہے جس نے ایک انسان کو کسی بھی موڑ پر بے سرو پا نہیں چھوڑا بلکہ ہر قدم کے لئے کچھ خطوط و نقوش متعین فرما دئے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنی معاشرتی زندگی کو عمدہ سے عمدہ اور پاکیزہ بنا سکے اور رضائے مولیٰ و رضائے محبوبِ خدا ا کو ملحوظِ نظر رکھتے ہوئے اپنے ایامِ زندگانی کو گزارنے کا عادی بن جائے۔

اسلام ہی وہ واحد مذہب مہذب ہے جو اپنے ماننے والوں کو پیکرِ تقویٰ و طہارت بننے کی تعلیمات فراہم کرتا ہے اور گناہوں و بد اعمالیوں سے بچنے کے لئے اس نے رہنما ضابطے بیان فرمائے، اعمال سیئہ کا انسداد فرماتے ہوئے اعمالِ خیر کی طرف رغبت دلاتے ہوئے اس کے ثواب جزا و سزا سے بھی آشنا کیا اور گناہ صغائر پر بھی اس نے سخت گرفت فرمائی اور گناہِ کبائر کے ارتکاب پر اس کا اندازِ تخاطب نہایت سخت آمیز ہو جاتا ہے اور انسانی فطرت و خصلت کے جتنے بھی تقاضے ہوتے ہیں ان کی تکمیل بھی اسلام میں حسنِ عمل ہی سے کی جاتی ہے۔ جیسا کہ مفسرِ قرآن حضرت پیر کرم شاہ ازہری (پاکستان) فطرتِ انسانی کے تقاضوں کو سپردِ قرطاس کرتے ہوئے مذہبِ اسلام کے پاکیزہ آئین و اصول پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں :

’’فطرت کا وزن اور معنی خِلقَۃٌ ہے یعنی آفرینش، اختراع۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرورِ عالم و عالمیان علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ’فطرۃ اللہ‘ کا معنی دینِ اسلام بیان فرمایا ہے عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ ا فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا دین اللہ تعالیٰ علامہ آلوسی نے اس آیت کا معنی ان الفاظ میں بیان کیا ہے المراد لفطرہم علی دین الاسلام خلقہم قابلین لہ غیر نابین عنہ و لا منکرین لہ لکونہ مجاوبا للعقل مسارقا للنظر الصحیح‘‘ (روح المعانی)

کیوں کہ یہ دین عقلِ سلیم سے کلیۃ ہم آہنگ اور فہمِ صحیح کے عین مطابق ہے اسی لئے فطری طور پر انسان نہ اس سے منہ موڑتا ہے اور نہ اس کا انکار کر سکتا ہے۔ نیز انسانی فطرت کے جتنے تقاضے ہیں وہ جنسی ہوں، معاشی ہوں، اخلاقی ہوں، عقلی ہوں یا روحانی، یہ دین ہر قسم کے تقاضوں کو صحت مند انداز میں پورا کرتا ہے جس کے باعث زندگی کا دامن سچی مسرت کو پھولوں سے بھر جاتا ہے اور ابدی سعادت کا تاج اس کے سر پر رکھ دیا جاتا ہے‘‘ اھ

چند سطور کے بعد مزید تحریر کرتے ہیں

’’دینِ اسلام نے ہمیں جو نظامِ حیات دیا ہے وہ ہماری فطرت کے عین مطابق ہے۔ اگر تم چاہو کہ اس نظام فطرت کو چھوڑ کر کوئی دوسرا نظامِ حیات تجویز کر لو جو اسلام کی طرح تمہاری فطرت کے عین مطابق ہو تو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا‘‘اھ (تفسیرِ ضیاء القرآن ۳؍۵۷۳)

برائیوں کا سدِ باب

اسلام نے فتنہ و فساد کے جتنے بھی وسائل و ذرائع تھے اور قوم و معاشرے میں جن جن افعال شنیعہ و اعمالِ قبیحہ سے انتشار و افتراق وقوع پذیر ہو سکتا تھا۔ اور جن سے برائیوں و بداعمالیوں کا دروازہ کھل سکتا تھا ان کے خلاف بھی سخت احکام جاری فرمائے تاکہ معاشرہ گناہوں کی آمیزش سے پاک و منزہ رہے اور مسلم معاشرے کے تمام افراد و اشخاص صالح فکر کے حامل ہو جائیں اور اپنی انسانی ضروریات کو اسلام کے آئین و دستور العمل کے درمیان رہ کر پوری کریں۔

دیکھئے اسلام نے شراب، جُوا، سود، رشوت، نظر بازی و عریانیت، زنا و بدکرداری اور ان جیسے بہت سے افعال رذیلہ کے خلاف سخت فرامین جاری فرمائے تاکہ معاشرہ میں امن و شانتی، صلح و آشتی، سلامتی برقرار رہے کیوں کہ مذکورہ بالا افعال رذیلہ و مذمومہ سے ایک خاندان و قبیلہ ’’معاشرہ و سماج‘‘ کی نگاہوں میں حقیر و ذلیل تصور کیا جاتا ہے اور اس کی شریفانہ روش و چلن پر یہ تمام افعال بد نماداغ ہیں جو معاشرہ کو دین داری و دین پروری کی نعمت لازوال سے کوسوں دور کر دیتے ہیں پھر ان کی طبیعتوں میں نفس و شیطان گردش کرتے ہیں اس لئے اسلام نے معاشرہ کو ان برائیوں سے پاک رکھنے کی تعلیم دی اور ان کا انسداد فرمایا۔مبلغِ اسلام حضرت علامہ سید سعادت علی قادری (پاکستان) رقمطراز ہیں۔

’’ان لوگوں کے انجام کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے جو معاشرے میں لوگوں کو دین سے دور کرنے، اپنی روزی کمانے یا امتِ مسلمہ میں انتشار و افتراق پیدا کرنے اور انہیں کمزور کر دینے یا کسی غرض سے فاحشہ برائی پھیلاتے ہیں مثلا ایسے کلب اور دوکانیں کھول دیتے ہیں جن میں لوگوں کو شراب، جوا وغیرہ کی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں یا ایسا لباس مہیا کرتے ہیں جس سے عریانیت عام ہوتی ہے یا لوگوں کے کاموں میں سہولت مہیا کرکے ان سے دولت حاصل کرتے اور پورے معاشرے میں رشوت کی لعنت پھیلا دیتے ہیں اور ان جیسی تمام برائیاں فاحشہ کے ضمن میں آتی ہیں جو معاشرے کو برباد کر دیتی ہیں اور معاشرتی نظام کو تہس نہس کر ڈالتی ہیں اسی لئے اسلام ان کو مٹانے اور روکنے کا بے حد اہتمام کرتا ہے اور ان کو پھیلانے والوں کے لئے دنیا و آخرت میں عذاب الیم کا اعلان کرتا ہے۔ آخرت کا عذاب تو اللہ ہی جانے کہ اس کی کیا صورت ہوگی لیکن وہ دنیا میں جس عذابِ الیم میں مبتلا رہتے ہیں اور بیرونِ خانہ ان پر یہ عذابِ الیم طرح طرح کے مقدمات لوگوں کی دشمنی اور ان سے جان کو خطرہ وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ اللہ محفوظ رکھے بد کاریوں کا ڈھنڈورا پیٹنے والے یہ لوگ جیسے دردناک اور گھنائونے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں کوئی مانے یا نہ مانے ہمیں یقین ہے کہ یہ بھی ان پر عذاب الیم ہی کی ایک صورت ہے۔ پس ایمان والوں کو ایسی حرکتوں سے بچنا اور دور رہنا چاہئے تاکہ اللہ رئوف ورحیم کا ہم پر فضل و کرم جاری رہے اور ان پر اس کی رحمت برستی رہے کہ اللہ کا خصوصی کرم اہلِ ایمان پر ہی ہوتا ہے‘‘اھ (یاایہا الذین آمنوا، ۲؍۳۷۲)

نایاب فیصلہ: وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروںمذہبِ اسلام جس طرح مردوں کے لئے شریعت مطہرہ کے احکام و اصول نافذ کرتا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی اس نے بے سرو پا نہیںچھوڑا ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں جتنا وقار اور مرتبہ اسلام نے عورت کو عطا فرمایا ہے وہ تو کیا اس کا ادنیٰ مقام بھی کسی مذہب نے عورت کو نہیں دیا ہے۔ مرتبہ و مقام اور عزت و عظمت تو کجا اس صنفِ نازک کو ذریعۂ تفریح اوقات، جذبۂ شہوانی کی تکمیل سمجھا گیا۔ گلی و کوچہ و بازار کی زینت و زیبائش اس عورت کو بنایا گیا، ستم بالائے ستم یہ کہ ایک کھلونا بنا کر جس طرح چاہا استعمال کیا۔ لیکن واہ رے اسلام تو نے اس غم کی ماری کی جو رہنما ئی فرمائی اس کو صدہاسلام۔ قرآن حکیم اور احادیثِ نبوی ا کے پاکیزہ و نایاب قواعد نے اس کے حق میں جو احکام نافذ و جاری کئے ان کی تابانیوں اور عظمتوں کو سلام نیاز۔

آج یہ حقیقت اصحابِ علم و فضل، اربابِ فکر و نظر کی عقابی نگاہوں سے مبہم و مخفی نہیں ہے کہ جہاں بھی بے پردگی و آزادیٔ نسواں کی جمال آرائیاں پائی جاتی ہیں وہاں اس صنفِ نازک کے ساتھ کیا سے کیا نہیں کیا جاتا۔ لیکن اسلام نے اس کے جسم نازنین کی حفاظت و عفت کے لئے پردہ جیسا بے مثال و بے نظیر نظریہ پیش کر کے اس کی عزت عظمت میں مزید اضافہ کر دیا اور اہلِ مغرب کی ساری سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔ آزادیٔ نسواں کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ذرا ایک نظر اسلام کے اس پاکیزہ فیصلہ کا مطالعہ کریں اور اپنی اس کج فہمی و کم عقلی کا خود محاسبہ کریں تاکہ وہ اسلام کے معاشرتی نظام کی پاکیزگیوں اور لطافتوں سے خوب بہرہ ور ہو سکیں اور پیغمبرِ اسلام حضور اقدس ا کے نافذ کردہ فرامین کو وہ کبھی مشقّت و آزمائش کے قوانین نہ کہہ سکیں۔ میری ناقص رائے میں یہ بھی مذہبِ اسلام کی حقانیت و صداقت پر دلیل ہے کہ ستر پوشی بھی اسلام دشمن عناصر کی نگاہوں میں کھٹکتی ہے کیوں کہ اسلام نے یہ قانون جاری کر کے ان کے تمام ناپاک عزائم کا پردہ چاک کر دیا اور ان کی بد نما سازشوں کا آئینہ سامنے رکھ دیا۔ یہودیت و عیسائیت کا بد نما چہرہ اسلام کی تعلیمات میں عیاں ہے جو اربابِ فکر و نظر، اصحابِ علم و دانش کی نگاہِ بصیرت سے پوشیدہ نہیں۔

دیکھئے دینِ اسلام نے عورت کو کس قدر عزت و وقار، پر سکون، عفت مآب زندگی بخشی اور اس کی عفت و پاکدامنی کی صیانت و حفاظت کس طرح فرمائی ہے ارشادِ ربانی ہے ’’اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور اپنے دوپٹے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یااپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پائوں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار‘‘ (النور: ۲۴؍۳۱)

سبحان اللہ! اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کا کیا پوچھنا جن پر عمل پیرا ہو کر جہاں ایک مرد اپنی حیات کے لمحات کو خوشگوار بنا سکتا ہے وہیں پر ایک عورت اپنی عصمت و عفت، عزت و آبرو کی بخوبی حفاظت کر سکتی ہے۔ دوبارہ نظر ڈالئے حکمِ خداوندی پر اور قربان ہو جائیے اس پاک مذہب پر جس نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا تاکہ تمہارا دامن عفت پاک رہے اور تمہاری آبرو ریزی نہ ہو۔ علامہ قرطبی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

’’البصر ہو الباب الاکبر الی القلب و بحسب ذلک کثر السقوط من جہتہ و وجب التحذیر منہ و غضہ واجب عن جمیع المحرمات و قل ما تخشی الفتنۃ من اجلہ‘‘ اھ نظر دل کی طرف کھلنے والا سب سے بڑا دروازہ ہے، نگاہ کی بے راہ روی کے باعث ہی اکثر لغزشیں ہوتی ہیں اس لئے اس سے بچنا چاہئے اور تمام محرمات سے انہیں روکنا چاہئے۔ رسولِ محترم ا کا ارشادِ مبارک ہے ’’النظر سہم من سہام ابلیس مسموم‘‘ نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے ’’من ترکہا مخافتی ابدلتہ ایمانا یجد حلاوتہ فی قلبہ‘‘ جو میرے خوف کے باعث اسے (غیر محرم) سے پھیر لے تو میں اسے ایسا پختہ ایمان دوں گا جس کی لذت وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا۔ غرضیکہ نظر بازی ہی سے گناہوں کے دروازے کھلتے ہیں اور جملہ مفاسد کی جڑ یہی ہے اس لئے اسلام نے اس کے تعلق سے بھی احکام جاری فرمائے اور جہاں عورتوں کو نظر پست رکھنے کا حکم دیا وہیں پر مردوں کو بھی اس سے بچنے کا حکم دیا گیا جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے ’’اور مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے‘‘ (النور، ۲۴؍۳۰)

ابھی تک ہے پردے میں اولادِ آدم

کسی کی خودی آشکارہ نہیں ہے (اقبال)

اب آئیے آپ کو ارشاداتِ رسول گرامی کے جام سے سیراب کرتے ہیں جہاں آپ کو’’ حسنِ معاشرت‘‘ کی جلوہ باریاں نظر آئیںگی اور عورت کے حقوق و ناموس کی کس طرح پاسداری کی گئی ہے اس کے جلوے قدم قدم پر آنکھوں کے سامنے آئیں گے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ا نے مجھ سے فرمایا عورت واجب الستر ہے جب عورت گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اپنے ابرو پر ہاتھ رکھ کر اس کو دیکھتا رہتا ہے۔(جامع ترمذی، ۱۸۹)

حیاء ایمان کا جزء ہے اور ایماندار جنت میں جائے گا اور بے حیائی جفا ہے اور جفا کار جہنم میں داخل ہوگا۔ (مشکوٰۃ ؍۴۳۱)

بے شک ہر دین میںایک خاص خصلت ہوتی تھی اور اسلام کی سب سے خاص اور اہم خصلت حیاء ہے۔ (مشکوٰۃ ۴۳۲)

عورت، عورت یعنی چھپانے کی چیز ہے جب وہ نکلتی ہے تو اسے شیطان جھانک کر دیکھتا ہے۔ (ترمذی شریف)

حضرت مولائے کائنات علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ ایک روز حضور اکرم سیدِ عالم ا نے اپنی مجلس میں دریافت فرمایا عورت کے لئے کون سی چیز بہتر ہے؟ کسی نے جواب نہ دیا، سب کے سب خاموش رہے، یہاں تک کہ میں بھی کوئی جواب نہ دے سکا جب گھر آیا تو سیدہ فاطمہ سے پوچھا کہ عورتوں کے لئے کون سی چیز سب سے بہتر ہے تو حضرت سیدہ فاطمہ نے فورا جواب دیا کہ عورتوں کے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ ان کو غیر مرد نہ دیکھیں۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور جا کر رسول اللہ ا کو یہ جواب سنا دیا تو حضورا بھی خوش ہوئے اور فرمایا فاطمہ میرا ایک حصہ ہے۔ (جمع الفوائد ۱؍۳۱۷)

اسلام نے عورت کی ستر پوشی کے تعلق سے کیسے پیارے پیارے فرامین نافذ فرمائے ہیں جن پر عامل رہ کر ایک عورت جہاں اطمینان و سکون کی زندگی گزار سکتی ہے وہیں پر وہ اپنے معاشرے و سماج میں بھی اچھی نگاہ سے دیکھی جانے کے لائق بن جاتی ہے۔ یہ اس پاکیزہ مذہب مہذب کا کتنا پاکیزہ نظریہ ہے کہ پردہ جیسی عظیم دولت سے نواز کر اسے باعزت بنا دیا اور اس کی زندگی کو پر سکون کر دیا۔

شارحِ صحیح مسلم حضرت علامہ غلام رسول سعیدی صاحب (پاکستان) اسلامی پردہ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔

’’جو عورت مکمل پردہ میں باہر نکلتی ہے وہ کسی شخص کی ہوا و ہوس کا نشانہ نہیں بنتی اس پر کوئی بری نظر نہیں ڈالتا ہے نہ کوئی آوازہ کستا ہے نہ اس کا پیچھا کرتا ہے اور جو عورت بے پردہ تنگ اور چست لباس پہن کر سرخی پائوڈر سے میک اپ کر کے اور اپنے لباس پرفیوم، اسپرے کر کے خوشبوئوں کی لپٹوں میں گھر سے نکلتی ہے وہ تمام ہولناک نگاہوں کا ہدف بنتی ہے، اوباش لوگ اس پر آواز کستے ہیں اور چھیڑ خوانی کرتے ہیں اور بسا اوقات اس کی عزت پامال ہو جاتی ہے۔ العیاذ باللہ……… ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام عورت کو پردے کی بوبو بنانا چاہتا ہے، مغربی ممالک میں جہاں کوئی پردہ ہے کوئی حدود و قیود ہیں، لڑکیاں نیم عریاں لباس میں بر سرِ عام پھرتی ہیں اور راہ چلتے بر سرِ عام مرد اور عورت بوس و کنار کرتے ہیں، پارکوں اور تفریح گاہوں میں بغیر کسی پردے اور حجاب حیوانوں کی طرح مرد اور عورتیں ہم آغوش ہوتے ہیں اور جنسی عمل کرتے ہیں، ایک لڑکی کئی کئی بوائے فرینڈرکھتی ہے ، دفتروں، کارخانوں، ہوٹلوں اور سیر گاہوں میں ہر جگہ مرد اور عورت ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور ایک ساتھ کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ناجائز بچوں سے ان کی سڑکیں بھری رہتی ہیں اور ہسپتالوں میں اسقاطِ حمل کرانے والی عورتوں کی بھر مار رہتی ہے اور اس جنسی بے راہ روی سے ان کا ذہنی سکون جاتا رہتا ہے اور وہ لوگ مالیخوسیائی کیفیات میں مبتلا ہوجاتے ہیں پھر وہ سکون کی تلاش میں سستے نشوں کی تلاش میں پھرتے ہیں، پہلے وہ اپنے آپ کو شراب میں ڈبو دیتے تھے لیکن اس سے بھی ان کو سکون نہیں ملا اب وہ چرس، کوکین، ہیروئین اور راکٹ کی پناہ لیتے ہیں۔ وہ ایسا تیز سے تیز نشہ چاہتے ہیں جو ان کے ذہن کو زیادہ سے زیادہ دیر تک سلا دے، بے حس کردے اور دنیا و ما فیہا سے بے خبر کر دے۔ مغربی ممالک کی حکومتیں ان منشیات پر پابندیاں لگا رہی ہیں اس کے باوجود منشیات کی کھپت بڑھتی جا رہی ہے، پابندیوں سے کام نہیں چلے گا، لوگ سکون چاہتے ہیں ان کو سکون مہیا کیجئے، راکٹ اور مارفیا کا سکون ناپائیدار اور عارضی ہے، صحت کے لئے تباہ کن ہے، حقیقی سکون صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں ہے۔ ‘‘اھ(شرحِ صحیح مسلم۵؍۶۲۶)

مبلغِ اسلام حضرت علامہ سید سعادت علی قادری (پاکستان) ایک تاریخی شہادت پیش کرتے ہوئے مزید مذہبِ اسلام کے پاکیزہ آئین ’’پردہ‘‘ کی اہمیت پر خامہ رسائی کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’تاریخ شاہد ہے کہ جن مذہب، جن اقوام یا جن ادوار میں عورت کی عزت و ناموس کا احساس کیا گیا اور اسے کوئی وقعت، کوئی حیثیت دی گئی اس کے مرتبہ و مقام کو بلند کرنے کی کوشش کی گئی تو اس پر پردہ ہی کی پابندی عائد کی گئی، فریدی وجدی افندی کی مشہور تصنیف ’’المرء ۃ المسلمۃ‘‘ کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو’’رومن حکومت اپنے ابتدائی دور میں ایک چھوٹی سی کمزور حکومت تھی۔ پھر کئی صدیوں تک رفتہ رفتہ ترقی کرتی ہوئی تمدن و تہذیب کے اعلیٰ درجہ پر پہونچ گئی، اس حکومت میں بھی عورتیں پردہ کیا کرتی تھیں‘‘اھ (یاایہا الذین آمنو، ۲؍۱۹۵)

اس تاریخی حقیقت و شہادت سے یہ امر بخوبی عیاں ہو جاتا ہے کہ اسلام نے خواتین کو پردہ و حجاب جیسی نعمت عطا فرما کر انہیں صرف باعزت، باوقار نہ بنایا بلکہ پوری قوم و ملت کی ترقی و عروج کا سبب بھی بنا دیا، اب جن اقوام نے اس پاکیزہ دستور کو اپنایا اور پردہ کا اہتمام کیا وہ عروج کرتی رہیں، ترقی کرتی رہیں اور جنہوں نے اس سے صرفِ نظر کیا وہ دنیا سے مٹتی چلی گئیں۔ خوشا قسمت ہیں ہم کہ اسلام نے ہمارے عروج کے حق میں کتنا نایاب فیصلہ فرمادیا اور مسلم خواتین کی عزت و آبرو، عفت و پاکدامنی کی حفاظت و صیانت فرمائی۔ اسلام کے معاشرتی نظام کا یہ ایک اہم پہلو ہے جس پر اسلام کی مقدس تعلیمات حق و صداقت کی آئینہ دار ہیں۔

دل سے لگنے والی بات:مذہبِ اسلام کے پاکیزہ مبادی و اصول، ضابطے و قانون، جتنے مستحکم و محکم ہیں اور فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں اس سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کا منشاء و مقتضیٰ یہی ہے کہ جس ملک پر بھی اس کا پرچم لہرا رہا ہے وہاں امن و سکون ہو، مساوات و مواسات کا ماحول ہو، محبت و پیار کے گیت گائے جا رہے ہیں، تاکہ وہاں کے رہنے والے اپنی صلاحیتوں کو نیکی اور اصلاحی سرگرمیوں میں خرچ کر سکیں۔

ملاحظہ ہو اسلام کا لا جواب نظریہ، ارشادِ ربانی ہے ’’اور نکاح کرو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ تعالیٰ انہیں غنی کر دے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ (کنز الایمان، النور: ۲۴؍۳۲)

اس آیتِ کریمہ کے تحت مفسرِ قرآن، حضرت علامہ پیر محمد کرم شاہ الازہری (پاکستان) دینِ اسلام کے اس نایاب حکم کو معاشرتی نظام کے ایک اہم پہلو کی حیثیت سے اجاگر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ’’دینِ اسلام جو دینِ فطرت ہے وہ معاشرے کو پاکیزہ رکھنے اور بے حیائی سے بچانے کے متعلق صرف وعظ نہیں کرتا بلکہ وہ عملی تجاویز اور مشکلات کا صحیح حل پیش کرتا ہے۔ آپ ذرا غور کریں جس معاشرے میں بن بیاہی عورتیں بکثرت ہوں گی وہاںجذبات کو کب تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ بڑے تحفظ و احتیاط کے با وجود شدت جذبات سے مجبور ہو کر وہ غلط قدم اٹھا سکتی ہے۔ شیطان بڑی آسانی سے انہیں ورغلا کر گمراہ کر سکتا ہے۔ بدکاری کا یہ بھی ایک دروازہ تھا جس کی طرف سے اسلام اگر اغماض کرتا تو اسے حقیقت پسندی نہ سمجھا جاتا‘‘ اھ(ضیاء القرآن، ۳؍۳۲۰)

سبحان اللہ! اسلام کتنا پیارا مذہب ہے جو مکمل نظامِ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل رحمت و برکت ہے۔ سورۂ نور کی آیت ۲۶ سے ۳۵ تک معاشرت کے جو آئین و اصول بتائے گئے ہیں اگر ان پر ہم عامل ہو جائیں تو دنیا کی زندگی سنور سکتی ہے، سدھر سکتی ہی ہے، عقبیٰ میں بھی سرخروئی و کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ دیکھئے سورۂ نور کی آیت ۲۷ میں اہلِ ایمان کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ کسی کے گھر میں بے اجازت داخل نہ ہوں پہلے سلام کرو پھر اجازت مانگو اور اسلام ہی نے اجنبیہ کی طرف دیکھنے سے منع کیا اور اس کے بارے میں سخت قانون صادر فرمائے۔ ارشادِ رسولِ گرامی وقار ا ہے ’’ان لم یامن من الشہوۃ و ان امن منہا فالممنوع النظر الی ما سوی الوجہ و الکف و القدم و من یامن فان الزمان زمان الفساد فلا یحل النظر الی الحرۃ الاجنبیۃ مطلقا من غیر ضرورۃ‘‘ (خزائن العرفان ۶۳۶)

مزید اسلام کے معاشرتی نظام کی خوبیوں اور اس کی حیرت انگیز اثر آفرینیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مبلغِ اسلام حضرت علامہ سید سعادت علی صاحب قادری (پاکستان) رقمطراز ہیں ۔

’’اسلام بلا شبہہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کے فطری تقاضوں کا احترام بھی کرتا ہے اور ان کی تکمیل کا اہتمام بھی کرتا ہے لیکن اس طرح کہ انسان کا دامن اس چمن کے کانٹوں سے تار تار نہ ہونے پائے، انسانیت کی تذلیل نہ ہونے پائے، انسان جانوروں جیسی زندگی نہ اختیار کرنے پائے، اسی لئے اسلام نے ان تمام چیزوں کو حرام قرار دیا جو انسان کے لئے مہلک، مضر اور تکلیف دہ ہیں، اسلام عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے کو ممنوع قرار نہیں دیتا بلکہ اس عیش و آرام میں جو کانٹے ہیں ان کے قریب جانے سے روکتا ہے۔ شراب، جو سود، رشوت، زنا وغیرہ انسان کا عیش و آرام نہیںکانٹے ہیں جو انسان کے جسم کو ایسا چھلنی کر دیتے ہیں کہ وہ زخموں کی اذیت سے تڑپ تڑپ کر ذلت و خواری کی موت مر جاتا ہے، ان مہلک امراض سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے دواعی سے بچایا جائے۔

جس طرح جسمانی امراض سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ صفائی کا اہتمام کیا جائے، صاف ستھری غذائیں استعمال کی جائیں تاکہ بیماری کے جراثیم پیدا نہ ہونے پائیں، اسی طرح برائیوں کے جراثیم کی پیدائش کو روکنے کے لئے لاز می ہے کہ برائی سے پہلے ہی جرثومہ کا خاتمہ کر دیا جائے، یعنی ایسے عوامل ہی کو ممنوع قرار دے دیا جائے جو انسان سے برائیوں کا تعارف کراتے ہیں اور ان کی طرف مائل کرتے ہیں، ان کی دعوت دیتے ہیں۔ دیکھئے اسلام شراب کو حرام قرار دیتا ہے تو اس کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عائد کرتا ہے۔ سود، رشوت، جوا اور دیگر غیر قانونی ذرائعِ آمدنی حرام قرار دئے گئے تو فضول خرچی، عیاشی وغیرہ کی راہوں پر جانے کو بھی ممنوع قرار دیا کہ یہی راستے انسان کو حرام کی دولت حاصل کرنے کی طرف لے جاتے ہیں، اسلام زنا کو حرام قرار دیتا ہے تو اس کے دواعی مثلا عریانیت، غیر محرم مرد و عورت کا اختلاط، ان کا آپس میں بے تکلفی سے ملنا جلنا بھی ممنوع قرار دیتا ہے، غرضیکہ اسلام کے احکام نہایت ہی مکمل اور مؤثر ہیں‘‘اھ (یاایہا الذین آمنوا ۲؍۱۸۶)

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ایک شخص اسلام کے منتخب شدہ احکام پر رو بعمل ہوکر ہی اپنی زیست کے ایام و ادوار اور لمحات کو چین و سکون، دائمی اطمینان سے گزار سکتا ہے، اس کا تصور بھی دوسرے مذاہب و ادیان میں محال و ناممکن ہے۔ کیوں کہ ہر شخص (مردوزن) کے حقوق کیا ہیں جو اسے ہر قیمت پر ملنے چاہئے ان کا تعین صرف دینِ اسلام ہی کرتا ہے جو دینِ فطرت ہے، جو اس خالق و مالک کا دین ہے جس نے کائنات کی ہر چیز کے فطری تقاضوں کو پورا کیا اور ان کی تسکین کے سامان بڑی فیاضی سے مہیا فرما دئے۔ جہاں بھی کسی قوم نے اس نظامِ حیات کو اپنایا اسی قدر ان کی زندگیاں اور ان کا ماحول خوشی اور مسرت سے ہمکنار ہوا اور جس جگہ بھی کسی قوم نے اس مکمل دستور حیات سے روگردانی کی وہاں اسی انداز سے امن و سکون رخصت ہوا۔ بے چینی اور اضطراب کے اندھیرے پھیلنے لگے۔ جس معاشرہ و سماج میں انسان کی جان، عزت و ناموس اور مال محفوظ و سلامت رہتا ہے وہ صرف اور صرف اسلام کا معاشرتی نظام ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اسلام کے پاکیزہ نظامِ زندگی کو سمجھنے کی توفیق خیر بخشے اور اسی نظامِ حیات پر کامل طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

٭٭٭