خمس کیا ھے

خمس کیا ھے اور شعیہ اور اہل سنت کا اس سلسلہ میں موقف کیا ھے؟

:خمس

یہ بھی ان مسائل میں سے ہے جن پر شیعوں اورسنیوں میں اختلاف ہے اس لئے خمس کے موضوع پرمختصر بحث ضروری ہے ،جس کی ابتدا ہم قرآن کریم سے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔:

"وَاعْلَمُواْ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ "اور یہ جان لو کہ جو مال تمھیں حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیک وسلم کے لیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابتداروں کے لیے اور یتیموں ناداروں اورمسافروں کے لیے ہے ۔(سورہ انفال ۔ آیت )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :

” أمركم بأربعٍ :الأيمان بالله وإقام الصّلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وأن تؤدّوا الله خمس ما غنمتم .”

اللہ تعالی نے تمھیں چار چیزوں کا حکم دیا ہے : ایمان با اللہ کا ، نماز قائم کرنے کا ،زکات دینے کا اور اس کا کہ تم جو کچھ کماؤ اس کا پانچواں حصہ اللہ کو ادا کرو۔

چناںچہ شیعہ جو مال انھیں سال بھر میں حاصل ہوتا ہے اس کا خمس نکالتے ہیں ۔ اور غنیمت کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد نفع ہے جو آدمی کو عام طور پر حاصل ہوتا ہے ۔

اس کے برخلاف اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ خمس اس مال غنیمت سے مخصوص ہے جو کفار سے جنگ کے دوران میں حاصل ہو ۔ ان کے نزدیک "ماغنمتم من شیء ” کے معنی ہیں کہ جو کچھ تمھیں جنگ کے دوران میں مد مقابل کے مال سے حاصل ہو۔

(خطیب ملت مولانا سید خواجہ معز الدین اشرفی)

Credit: Yahya Ansari

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.