أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ نَـعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِىۡ يَقُوۡلُوۡنَ‌ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰـكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(اے رسول مکرم) ہم یقینا جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان سے آپ غمگین ہوتے ہیں ‘ دراصل یہ آپ کی تکذیب نہیں کرتے یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے رسول مکرم) ہم یقینا جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان سے آپ غمگین ہوتے ہیں ‘ دراصل یہ آپ کی تکذیب نہیں کرتے یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ (الانعام : ٣٣) 

شان نزول اور مناسبت : 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

جنگ بدر کے دن اخنس بن شریق اور ابو جہل کی ملاقات ہوئی ‘ اخنس ابو جہل کو اس جگہ لے گیا جہاں کوئی نہیں تھا۔ اس نے ابو جہل سے کہا اے ابو الحکم ‘ مجھے یہ بتاؤ کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صادق ہیں یا کاذب ؟ کیونکہ یہاں پر میرے اور تمہارے سوا قریش کا اور کوئی فرد نہیں ہے جو ہماری باتیں سن رہا ہو۔ ابو جہل نے کہا تم پر افسوس ہے ‘ بخدا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) البتہ ضرور صادق ہیں اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ‘ لیکن جھنڈا ‘ کعبہ کی دربانی اور زمزم کی سبیل پہلے ہی بنو قصی کے پاس ہیں۔ اگر نبوت بھی وہ لے گئے تو قریش کے پاس کیا باقی بچے گا ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ دراصل یہ آپ کی تکذیب نہیں کرتے ‘ یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٢٤٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ اسباب النزول ‘ ص ٢١٩‘ ٢١٨) 

مقاتل نے بیان کیا کہ یہ آیت حارث بن عامر کے متعلق نازل ہوئی ہے جو لوگوں کے سامنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتا تھا اور جب گھر والوں کے ساتھ تنہا ہوتا تو کہتا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جھوٹوں میں سے نہیں ہیں اور میرے نزدیک وہ صرف سچے شخص ہیں۔ (اسباب النزول ‘ ص ٢١٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

اس سے پہلی آیتوں میں کفار کا رد کیا جارہا تھا اور اس آیت میں بھی ان کا رد ہے۔ پہلے ان کفار قریش کا رد کیا جو توحید ‘ نبوت اور قیامت کا انکار کرتے تھے۔ پھر ان کافروں کا رد کیا جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اس لیے انکار کرتے تھے کہ آپ بشر تھے اور فرشتہ نہ تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر ہم فرشتہ کو رسول بناتے ‘ تب بھی ہم اس کو انسان کی صورت میں ہی بھیجتے اور تم پر پھر اشتباہ ہوجاتا اور اس آیت میں ان کافروں کا رد فرمایا ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی باتوں سے ایذاء پہنچاتے تھے۔ بعض آپ کو جھوٹاکہتے تھے۔ بعض آپ کو جادوگر کہتے تھے اور بعض شاعر یا کاہن یا مجنون کہتے تھے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کی آیات : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کی تکذیب اور ان کی دوسری دل آزار باتوں کی وجہ سے تسلی دی ہے۔ چناچہ فرمایا ہم یقینا جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ‘ ان سے آپ غمگین ہوتے ہیں۔ دراصل یہ آپ کی تکذیب نہیں کرتے ‘ یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی اور کئی آیتوں میں بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح تسلی دی ہے : 

(آیت) ” فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا “۔ (الکہف : ٦) 

ترجمہ : اگر وہ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو کہیں آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے بیٹھیں گے۔ 

(آیت) ” فلا تذھب نفسک علیہم حسرات “۔ (فاطر : ٨) 

ترجمہ : ان پر حسرتوں کی وجہ سے آپ کو جان نہ چلی جائے۔ 

(آیت) ” واصبر علی مایقولون واھجرھم ھجرا جمیلا، وذرنی والمکذبین اولی النعمۃ ومھلھم قلیلا “۔ (المزمل : ١١۔ ١٠) 

ترجمہ : کافروں کی باتوں پر صبر کیجئے اور ان کو خوش اسلوبی سے چھوڑ دیجئے اور ان جھٹلانے والے مالداروں کو مجھ پر چھوڑ دیجئے اور ان کو تھوڑی سی مہلت دیجئے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 33