نیک لوگوں کی نظرمیں عہدے کی حیثیت

حکایت نمبر223: نیک لوگوں کی نظرمیں عہدے کی حیثیت

حَمَّادبن مُؤَمَّل ابوجَعْفَرکَلْبِی کہتے ہیں کہ” مجھے میرے شیخ نے بتایا:”ایک مرتبہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا وَکِیْع علیہ رحمۃ اللہ القوی سے پوچھا:” حضور ! کچھ عرصہ قبل خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے آپ تینوں یعنی وکیع ، ابن ادریس اور حفص بن غیاث رحمہم اللہ تعالیٰ کو شاہی دربار میں کیوں بلوایا تھا ؟” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”تم نے مجھ سے وہ سوال کیاہے جوتم سے پہلے کسی نے نہیں کیا،چلو میں تمہیں سارا واقعہ بتاتاہوں:”ہوایوں کہ امیرالمؤمنین ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے ہم تینوں کو اپنے دربارمیں بلا کر شاہی مسندوں پربٹھایا،پھرمجھے اپنے پاس بلایااورکہا:” اے وکیع !” میں نے کہا :” امیر المؤمنین !وکیع حاضر ہے۔ ”
خلیفہ نے کہا :” تمہارے شہر والوں نے مجھ سے ایک قاضی طلب کیا ہے ، انہوں نے مجھے جن لوگوں کے نام دئیے ان میں تمہارا نام بھی ہے ، میں چاہتا ہوں کہ تجھے اپنی امانت اور رعایا کی بھلائی کے کاموں میں معاون بنا لوں ۔ میں تجھے قاضی بناتا ہوں ، جاؤ! اور اپنا عہد ہ سنبھالو۔ ” میں نے کہا:” اے امیر المؤمنین! میری ایک آنکھ کی بینائی ختم ہوچکی ہے او ردوسری سے بہت کم دکھائی دیتا ہے اب میری عمر بھی کافی ہوگئی ہے، لہٰذا مجھے اس عہدے سے معافی دیں۔ ” امیر المؤمنین نے کہا : ” تم یہ عہدہ قبول کر لو۔” میں نے کہا : ” اے امیر ا لمؤمنین! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر میں اپنے بیان میں سچا ہوں تو چاہے کہ میرا عذر قبول کیا جائے اور مجھے یہ عہدہ نہ دیا جائے۔ اگر جھوٹا ہوں تو جھوٹا شخص اس لائق نہیں کہ اسے قاضی بنایا جائے ۔” خلیفہ نے جھنجھلا کر کہا :” جاؤ! یہا ں سے چلے جاؤ ۔”میں نے موقع غنیمت جانا اور فوراً چلا آیا۔
پھر عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ا پنے پاس بلایا ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بہت دھیمی آواز میں خلیفہ کو سلام کیا۔ خلیفہ نے کہا :” کیا تم جانتے ہو کہ ہم نے تمہیں کیوں بلایا ؟” فرمایا :” نہیں ۔”خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجیدنے کہا:” تمہارے شہر والوں نے مجھ سے ایک قاضی طلب کیا ہے اور جن لوگوں کے نام بھجوائے ہیں ان میں تمہارا نام بھی ہے ۔ میں تمہیں تمہارے شہر کا قاضی بناتا ہوں ،جاؤ !اور اپنا عہدہ سنبھالو۔”حضرت عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:” میں اس عہدہ کے لائق نہیں۔” خلیفہ نے غضبناک ہوکر کہا : ”چلے جاؤ!میں تمہاراچہرہ بھی نہیں دیکھناچاہتا ۔” خلیفہ کی یہ بات سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی انتہائی جرأت مندی سے جواب دیا ، اے خلیفہ میر ی بھی یہ خواہش ہے کہ میں تمہاراچہرہ نہ دیکھو ں۔” اتنا کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے چلے آئے ۔
پھر حفص بن غیاث کو بلایا گیا تو انہوں نے یہ عہدہ قبول کرلیا۔پھر ہم تینوں واپس اپنے شہر کی طرف چل دئیے ۔اتنے میں ایک خادم تین تھیلیاں لے کر آیا ہر تھیلی میں پانچ پانچ ہزار درہم تھے ۔ خادم نے تھیلیاں ہمیں دیتے ہو ئے کہا:” امیر المؤمنین نے آپ تینوں کو سلام کہا ہے اور کہاہے کہ” آپ کویہاں آنے تک سفر کی صعوبتیں برداشت کرناپڑیں،یہ کچھ رقم لے لوتاکہ دورانِ سفر کام آسکے۔”
حضرتِ سیِّدُنا وَکِیْع علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”میں نے تھیلی واپس کرتے ہوئے کہا:”میری طرف سے امیر المؤمنین کوسلام کہنااورکہناکہ آپ کا ہدیہ ہم تک پہنچ چکا ہے ، فی الحال مجھے ان درہموں کی ضرورت نہیں ۔ آپ کی رعایا میں جو محتاج ہو یہ رقم اسے دے دیجئے ۔”جب خادم نے درہموں کی تھیلی عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دی تو آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک زور دار چیخ ماری اور کہا:”یہاں سے چلے جاؤ ، مجھے یہ رقم نہیں چاہے ، پھر حفص بن غیاث کو تھیلی دی گئی تو انہوں نے قبول کرلی۔

خادم نے ایک رقعہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دیاجس میں یہ کلمات لکھے تھے:

” اے عبداللہ بن ادریس !اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اور آپ کو سلامت رکھے ، ہم نے سوال کیا کہ ہمارے کاموں میں ہمارے معاون بن جاؤ لیکن تم نے انکا ر کیا ، پھرہم نے مال بھیجوایا تم نے وہ بھی قبول نہ کیا ، میری ایک بات ضرور مان لینا ، جب تمہارے پاس میرا بیٹا مامون آئے تو اسے علمِ حدیث سکھانا۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے رقعہ پڑھ کر خادم سے کہا:” خلیفہ سے کہہ دینا کہ اگر تمہارا لڑکا سب لوگو ں کے ساتھ مل پڑھنا چاہے تو اسے بھیج ديں، میں علیحدہ سے ا سے نہیں پڑھاؤں گا۔ اگر دوسرے طالب علموں کے ساتھ مل کر پڑھے گا تو ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ضرور علمِ حدیث سکھاؤں گا ۔”

پھر ہم وہاں سے چل دئیے ایک جگہ نماز کے لئے رکے تو سپاہی کوسوتے ہوئے دیکھا جو سردی سے ٹھٹھرا جارہا تھا۔میں نے اپنی چادر اس پر ڈالتے ہوئے کہا :” جب تک ہم وضو و نماز سے فراغت پائیں تب تک میری یہ چادر اس کے جسم کو سردی سے بچائے رکھے گی۔” اتنے میں حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی آگئے انہوں نے حفص بن غیاث کو مخاطب کر کے کہا: ” اے حفص ! اپنے شہر سے چلتے وقت جب تم اپنی داڑھی کو مہندی لگاکر حمام میں گئے تھے تو میں اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ عنقریب تمہیں قاضی کا عہد ہ پیش کیا جائے گا اور تم اسے قبول کر لوگے ،دیکھو ایسا ہی ہوا ۔ خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اب مرتے دم تک میں تم سے کلام نہیں کرو ں گا ۔”

حضرتِ سیِّدُنا وَکِیْع علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ:”پھر واقعی حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مرتے دم تک حفص بن غیاث سے گفتگو نہ کی ۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.