أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰٓى اَتٰٮهُمۡ نَصۡرُنَا‌ ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ‌ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِى الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ سے پہلے بھی کتنے ہی عظیم رسولوں کی تکذیب کی گئی سو انہوں نے اس تکذیب اور ایذاء رسانی پر صبر کیا حتی کہ ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی اور اللہ کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے ‘ اور بیشک آپ کے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ سے پہلے بھی کتنے ہی عظیم رسولوں کی تکذیب کی گئی سو انہوں نے اس تکذیب اور ایذاء رسانی پر صبر کیا حتی کہ ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی اور اللہ کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے ‘ اور بیشک آپ کے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں۔ (الانعام : ٣٤) 

اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوبارہ تسلی دی گئی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ مخالفوں اور کافروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا انبیاء سابقین (علیہم السلام) کا طریقہ ہے اور نبی کو چاہیے کہ ان کی بےہودہ باتوں سے اعراض کرے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرے۔ 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : 

(آیت) ” فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل “۔ (الاحقاف : ٣٥) 

ترجمہ : سو آپ صبر کیجئے جیسا کہ ہمت والے رسولوں نے صبر کیا تھا۔ 

اس قسم کی آیات سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بار بار تسلی دینے اور صبر کی تلقین کرنے کی حکمت یہ ہے کہ صبر کرنے سے مصائب کو برداشت کرنا آسان ہوجاتا ہے اور صبر کے اندر رحمت کے نزول اور کشادگی کے حصول کی بشارت ہے : 

(آیت) ” فان مع العسر یسرا، ان مع العسریسرا “۔ (الانشراح : ٦۔ ٥) 

ترجمہ : کیونکہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ 

(آیت) ” انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد “۔ (المومن : ٥١) 

ترجمہ : بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں ضرور مدد فرمائیں گے اور (آخرت میں) جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔ 

(آیت) ” ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین، انھم لھم المنصورون، اوان جندنا لھم الغلبون “۔ (الصفت : ١٧٣۔ ١٧١) 

ترجمہ : ہم اپنے ان (مقرب) بندوں سے جو رسول ہیں یہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ یقینا وہی مدد کیے ہوئے ہیں اور یقینا ہمارا لشکر ہی غلبہ پانے والا ہے۔ 

اور جو بات اللہ پہلے فرما چکا ہے اس کا کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 34