الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :539

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا ۱؎ بولا یارسول اﷲ میں نے مدینہ کے کنارے میں ایک عورت کو گلے لگالیا اورصحبت کی حد تک نہ پہنچا تو میں یہ ہوں میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کریں۲؎ حضرت عمر نے فرمایا اﷲ نے تیری پردہ پوشی کی تھی کاش کہ تو بھی اپنے پر پردہ پوشی کرتا۳؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کا کچھ جواب نہ دیا وہ شخص کھڑاہوکرچل دیا۴؎ اس کے پیچھے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کوبھیجا اسے بلایا اس پرآیت تلاوت فرمائی کہ نماز قائم کرو دن کے کناروں اوررات کی ساعتوں میں یقینًا نیکیاں گناہ مٹا دیتی ہیں یہ ماننے والوں کے لئے نصیحت ہے ۵؎ قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا ۶؎ کہ یا نبی اﷲ کیا یہ اسی کے لیئے ہے فرمایا سارے لوگوں کے لیئے۷؎ (مسلم)

شرح

۱؎ غالب یہ ہے کہ یہ صاحب ابوالیسر کے علاوہ اورکوئی ہیں کیونکہ دونوں قصوں میں فرق ہے۔

۲؎ یعنی زنا کے سواءاور سب کچھ کرلیا جو شرعی سزاتجویزہومیں حاضر ہوں،وہ یہ سمجھ کر آئے ہوں گے اس کی سزابھی رجم ہے کہ اسباب زنا گویا زنا ہی ہیں۔سبحان اﷲ!یہ ہے قوتِ ایمانی اورخوفِ الہٰی۔

۳؎ یعنی خفیہ گناہ کی توبہ بھی خفیہ کرلیتا تو اچھا تھا کیونکہ چھپے گناہ پر اعلان کرنابراہے ۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ چھپے گناہ کی توبہ چھپ کرکرے اورعلانیہ کی توبہ علانیہ کرے ۔دوسرے یہ کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نیکیاں پیش کرنا ریا نہیں اورحضورپراپنے گناہ ظاہرکرنابخشوانے کے لئے گناہ نہیں۔بیماراپنی بیماری طبیب پرظاہرکرتا ہے علاج کے لیے،اس لیے حضور نے ان پر ملامت نہ فرمائی کہ تو نے اپنا گناہ کیوں ظاہر کیا،لہذا عمرفاروق کا فرمانابھی برحق اورسرکار کی خاموشی بھی۔

۴؎ یہ چل دینا بھاگنے کے لئے نہ تھا بلکہ وہ سمجھے کہ شاید میرے بارے میں کوئی آیت کریمہ آئے گی تب مجھے بلا کر فیصلہ کردیا جائے گا اگر معافی ہوگی شکر کروں گا،سزاتجویز ہوگی تو برداشت کروں گا،لہذا ان صاحب پر یہ اعتراض نہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے بغیرپوچھے کیوں چل دیئے کیونکہ یہ کام منع جب ہے جب لوٹنے کا ارادہ نہ ہو،جیسے اذان کے بعدمسجد سے نکلنا اس وقت ممنوع ہے جب لوٹنے کا قصد نہ ہو،یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ حضورکی مجلس سے بغیرپوچھے نہ جاؤ۔

۵؎ اس آیت کی تفسیرابھی کچھ پہلے گزر گئی۔مقصد یہ ہے کہ اس گناہ پرسزاکوئی نہیں کیونکہ یہ صغیرہ ہے جو تجھ سے اتفاقًا سرزدہوگیا۔خیال رہے کہ حضورنے پہلے ہی اسے یہ آیت نہ سنادی بلکہ چلے جانے کے بعد اسے واپس بلاکرسنائی کیونکہ غالبًا حضورکو امیدتھی کہ شایداس کے بارے میں کوئی اورآیت اترے۔

۶؎ عرض کرنے والے عمر فاروق ہیں یا معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہما۔

۷؎ کیونکہ اگرچہ اس آیت کا نزول خاص موقع پرہوالیکن اس کے الفاظ عام ہیں۔خیال رہے کہ یہاں اَلنَّاس سے مرادمسلمان ہیں،یعنی جو مسلمان پابندئ نماز کرے گا اس کے صغیرہ گناہ معاف ہوتے رہیں گے۔