اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا(۵۱)

کیا تم نے وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُؕ-وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ(۵۲)

یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اس کا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵)

(ف155)

شانِ نزول: یہ آیت کعب بن اشرف وغیرہ علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو ستّر سواروں کی جمعیّت لے کر قریش سےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے پر حَلف لینے پہنچے،قریش نے اُن سے کہا چونکہ تم کتابی ہو اس لئے تم سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہو ہم کیسے اطمینان کریں کہ تم ہم سے فریب کے ساتھ نہیں مل رہے ہو اگر اطمینان دلانا ہو تو ہمارے بتوں کو سجدہ کرو تو انہوں نے شیطان کی اطاعت کرکے بتوں کوسجدہ کیا پھر ابوسفیان نے کہا کہ ہم ٹھیک راہ پر ہیں یا محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعب بن اشرف نے کہاتمہیں ٹھیک راہ پر ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالٰی نے ان پر لعنت فرمائی کہ انہوں نے حضور کی عداوت میں مشرکین کے بتوں تک کو پُوجا

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ(۵۳)

کیا ملک میں انکا کچھ حصہ ہے (ف۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تل بھر نہ دیں

(ف156)

یہود کہتے تھے کہ ہم مُلک و نُبوّت کے زیادہ حق دار ہیں تو ہم کیسے عربوں کا اتباع کریں اللہ تعالٰی نے اُن کے اِس دعوے کو جھٹلادیا کہ اُن کا مُلک میں حِصّہ ہی کیا ہے اور اگر بالفرض کچھ ہوتا تو اُن کا بخل اس درجہ کا ہے کہ۔

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ-فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(۵۴)

یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹)

(ف157)

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ ایمان سے۔

(ف158)

نبوّت و نصرت و غلبہ و عزت وغیرہ نعمتیں ۔

(ف159)

جیسا کہ حضرت یوسف اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کو تو پھرا گر اپنے حبیب سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کرم کیا تو اس سے کیوں جلتے اور حسد کرتے ہو ۔

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُؕ-وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا(۵۵)

تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱۶۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ (ف۱۶۲)

(ف160)

جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور اُن کے ساتھ والےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔

(ف161)

اور ایمان سے محروم رہا۔

(ف162)

اس کے لئے جوسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لائے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًاؕ-كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(۵۶)

جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ٘-وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا(۵۷)

اورجو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے ان کے لیےوہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱۶۴)

(ف163)

جو ہر نجاست و گندگی اور قابل نفرت چیزسے پاک ہیں۔

(ف164)

یعنی سا یۂ جنّت جس کی راحت و آسائیش رسائی فہم و احاطۂ بیان سے بالا تر ہے ۔

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوںمیں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱۶۶) بے شک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے بے شک اللہ سنتا دیکھتا ہے

(ف165)

اصحاب امانات اور حُکام کو امانتیں دیانت داری کے ساتھ حق دار کو ادا کرنے اور فیصلوں میں انصاف کرنے کا حکم دیا بعض مفسّرین کا قول ہے کہ فرائض بھی اللہ تعالٰی کی امانتیں ہیں اُن کی ادا بھی اس حکم میں داخل ہے۔

(ف166)

فریقین میں سے اصلاً کِسی کی رعایت نہ ہو علماء نے فرمایا کہ حاکم کو چاہئے کہ پانچ باتوں میں فریقَیۡن کے ساتھ برابر سلوک کرے۔(۱) اپنے پاس آنے میں جیسے ایک کو موقع دے دوسرے کو بھی دے(۲) نشست دونوں کو ایک سی دے(۳) دونوں کی طرف برابر متوجہ رہے(۴) کلام سننے میں ہر ایک کے ساتھ ایک ہی طریقہ رکھے(۵) فیصلہ دینے میں حق کی رعایت کرے جس کا دوسرے پر حق ہو پُورا پُورا دِلائے،حدیث شریف میں ہے انصاف کرنے والوں کو قرب الہی میں نوری منبر عطا ہوں گے شانِ نزول: بعض مفسّرین نے اِس کی شانِ نزول میں اِس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ فتح مکّہ کے وقت سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ خادم کعبہ سے کعبہ معظّمہ کی کلید لے لی۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے وہ کلید انہیں واپس دی اور فرمایا کہ اب یہ کلید ہمیشہ تمہاری نسل میں رہے گی اس پر عثمان بن طلحہ حجبی اسلام لائے اگرچہ یہ واقعہ تھوڑے تھوڑے تغیرات کے ساتھ بہت سے محدّثین نے ذکر کیاہے مگر احادیث پر نظر کرنے سے یہ قابلِ وُثوق نہیں معلُوم ہوتا کیونکہ ابن عبداللہ اور ابن مندہ اور ابن اثیر کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عثمان بن طلحہ

۸ ھ؁ میں مدینہ طیبہ حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوچکے تھے اور اُنہوں نے فتحِ مکّہ کے روز کنجی خود اپنی خوشی سے پیش کی تھی بخاری اور مُسلِم کی حدیثوں سے یہی مستفاد ہوتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠(۵۹)

اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اُسے اللہ و رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ و قیامت پر ایمان رکھتے ہو (۱۶۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا

(ف167)

کہ رسول کی اِطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے بخاری و مسلم کی حدیث ہےسیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔

(ف168)

اسی حدیث میں حضورفرماتے ہیں جس نے امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی اِس آیت سے ثابت ہوا کہ مُسلِم اُمراء و حکام کی اطاعت واجب ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں اور اگر حق کے خلاف حکم کریں تو ان کی اطاعت نہیں۔

(ف169)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ احکام تین قسم کے ہیں ایک وہ جو ظاہر کتاب یعنی قرآن سے ثابت ہوں ایک وہ جو ظاہر حدیث سے ایک وہ جو قرآن و حدیث کی طرف بطریق قیاس رجوع کرنے سے اولی الامر میں اما م امیر بادشاہ حاکم قاضی سب داخل ہیں خلافتِ کا ملہ تو زمانۂ رسالت کے بعد تیس سال رہی مگر خلافتِ ناقصہ خلفاءِ عباسیہ میں بھی تھی اور اب تو امامت بھی نہیں پائی جاتی ۔ کیونکہ امام کے لئے قریش میں سے ہونا شرط ہے اور یہ بات اکثر مقامات میں معدوم ہے لیکن سلطنت و امارت باقی ہے اور چونکہ سلطان و امیر بھی اولوالامر میں داخل ہیں اِس لئے ہم پر اُن کی اطاعت بھی لازم ہے۔