کن صورتوں میں صرف قضاء لازم ہے

کن صورتوں میں صرف قضاء لازم ہے

مسئلہ : یہ گمان تھا کہ ابھی صبح نہیں ہوئی ا س لئے کھا لیا یاپیا یا جما ع کرلیا اوربعد میں معلوم ہو ا کہ 

صبح ہو چکی تھی تو قضا لازم ہے۔ یعنی ا س روزے کے بدلے بعد رمضان ایک روزہ رکھنا پڑے گا۔

مسئلہ : مسا فر نے اقا مت کی، حیض ونفاس والی عورت پاک ہو گئی، مریض تھا اچھا ہو گیا، کافر تھا 

مسلمان ہو گیا، مجنون کو ہوش آگیا، نا بالغ تھا بالغ ہو گیا ان سب صورتوں میں جو کچھ دن کا حصہ باقی رہ گیا ہو اسے روزہ کی مثل گزارنا واجب ہے۔ 

مسئلہ : حیض و نفاس والی عورت صبح صادق کے بعد پاک ہو گئی اگر چہ ضحوۂ کبریٰ سے پیش تر ہو اور 

روزہ کی نیت کر لی تو آج کا روزہ نہ ہوا نہ فرض نہ نفل اور مریض یا مسافر نے نیت کر لی یا مجنون تھا ہوش میں آکر نیت کر لی تو ان سب کا روزہ ہو گیا۔

مسئلہ : صبح سے پہلے یا بھول کر جماع میں مشغول تھا، صبح ہوتے ہی یاد آنے پر فورا جدا ہو گیا تو کچھ 

نہیں۔ اور اسی حالت پر رہا تو قضا واجب، کفارہ نہیں۔

مسئلہ : میت کے روزے قضا ہو گئے تھے تو اس کا ولی اس کی طرف سے فدیہ ادا کرے یعنی جب 

کہ وصیت کی اور مال چھوڑا ہو ورنہ ولی پر ضروری نہیں کر دے تو بہتر ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.