اتباع رسول ﷺ ہی ذریعہ نجات ہے

محمد طاہر القادری مصباحی نظامی ٭

آج کے اس پر آشوب دور میں ہر طرف ایمان کے ڈاکو ایمان لوٹنے کے لئے سر گرم ہیں، نت نئے مسائل کے پھندے میں سادہ لوح مسلمانوں کو پھنسا کر انہیں مذہبِ اسلام سے دور کیا جا رہا ہے، انسانی آبادی میں غیر انسانی رواج، بے حیائیوں اور برائیوں کا امڈتا ہوا سیلاب نسلِ انسانی کو بربادیوں کی جانب بہا لے جانا چاہتا ہے، روٹی، کپڑا، مکان کا مسئلہ پیدا کر کے بناتِ حواء صنفِ نازک کو گھر سے باہر پھر ہوٹلوں، قہوہ خانوں اور باروں میں پہنچایا جارہا ہے وہ آج اپنے جسم کی نمائش و عصمت فروشی کرکے دولت کما رہی ہیں، نیز اقتدار اور کرسی کی لالچ میں انہیں مردوں کے شانہ بشانہ میدانِ عمل میں اتار کر ان کی عفت وحیا ختم کی جا رہی ہے، فی الوقت دولت اور اقتدار کی بھوک نے انسانوں کو اس طرح مشغول عمل کر دیا ہے کہ انہیں ان کے بچوں کے عمل کے بارے میں بھی علم نہیں رہتا، والدین کی یہی غفلتیں اور لا پرواہیاں اولاد کو غلط روش میں مبتلا کر دیتی ہیں اور وہ آگے چل کر اپنے والدین کے لئے دردِ سر بن جاتے ہیں، یوں ہی سماج میں پھیلی ہوئی غلط رسمیں انسانی آبادی کو فضول خرچی میں مبتلا کر دیتی ہیں او بے شمار مسلمان انہیں مذموم رسموں کے شکار ہوتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ اس پُر آشوب دور میں مسلمانوں نے اپنا وہ سب کچھ کھودیا جس کوانہوں نے کبھی پیٹ پر پتھر باندھ کر دن میں جہاد فی سبیل اللہ اور رات میں عبادت خداوندی کرکے کمایا تھا۔

چوں کہ یہ مضمون ’’اتباعِ رسول ہی ذریعۂ نجات ہے‘‘ کے عنوان سے لکھ رہا ہوں اس لئے میں سماج کے کچھ ایسے رسم و رواج، عادات و اطوار کی جانب قارئین کرام کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جنہیں آج بہت سے مسلمان کر رہے ہیں اور اس کازور طوفان دن بدن ترقی کر رہا ہے، جب کہ ان کا یہ عمل سیرتِ طیبہ کے خلاف اور اتباعِ رسول ا سے بہت دور ہے۔

اولاد کی پیدائش: شادی کے بعد ہر جوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ پروردگار عالم بہت جلد اس کی گود ہری بھری کردے اور آنگن بچے کی دلکش آواز سے گونج جائے، اگر کچھ دیر ہوئی اور چند سالوں کا عرصہ گزر جائے تو نہ جانے کتنے ڈاکٹروں اور دعا تعویذ کرنے والوں سے علاج و معالجہ دعا و تعویذ کے لئے رابطہ قائم کر ڈالتے ہیں، بہت دعائوں اور منت و سماجت کے بعد اگر پروردگار عالم کے رحمت کے چند چھینٹوں سے ان کی مرادیں بر آجائیں تو انہیں وہی کرنا چاہئے جو حضرت امام عالی مقام سید الشہداء امام حسین کی ولادت باسعادت کے وقت معلم انسانیت محمد عربیﷺ نے کیا تھا، فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ و الرضوان خطبات محرم میں رقم طراز ہیں:

’’سرکار اقدسﷺ نے آپ کے کان میں اذان دی، منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور آپ کے لئے دعا فرمائی، پھر ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور عقیقہ کیا۔ ‘‘

لیکن عصرِ حاضر میں بہت سے مسلم بچوں کے کان بعد ولادت اذان و اقامت سننے کے لئے ترس جاتے ہیں اور ان بچوں کے نام انبیاء کرام، مرسلینِ عظام، اولیاء امت، علمائے ملت کے ناموں پر نہ رکھ کر فلمی دنیا کے ایکٹروں، کرکٹ کے کھلاڑیوں، مشہور نیتائوں اور دیگر لوگوں کے ناموں پر رکھتے ہیں اور لڑکیوں کے نام رکھنے میں انبیاء کرام و اولیاء عظام کی مقدس بیویوں اور لڑکیوں نیز صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کا مبارک ومسعودنام چھوڑ کر بازاری عورتوں کے غیر مہذب ناموںپر اپنی لڑکیوں کا نام رکھنا پسند کرتے ہیں، جب کہ مسلمانوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔

تربیتِ اولاد اور ان کی پرورش

گھر کا کفیل اور ذمہ دار ہونے کے ناطے اولاد کی تعلیم و تربیت والدین پر مذہبِ اسلام کے رو سے لازم ہے اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں ہمیشہ سینہ سپر ہونا چاہئے، چوں کہ آقائے دو جہاں ا نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ جب کہ تعلیم و تربیت کا اولین اور سب سے پہلا ادارہ بچے کے لئے اس کا گھر ہی ہوا کرتا ہے، پیدائش سے لے کر تقریباً پانچ سات سال تک اس کی ساری چیزیں گھر کی چہار دیواری ہی تک محدود رہا کرتی ہیں، گھر کے افراد اور گھریلو ماحول کا جو بھی اثر بچہ قبول کرتا ہے وہ بہت ہی دوررس اور اہم ہوتا ہے، اس لئے والدین پر انکے بچوں کی تعلیم و تربیت مذہبِ اسلام نے ضروری قرار دیا اور بہتر تہذیب و تمدن اور صحیح تعلیم و تربیت دینے پر بہتر اجر کی خوشخبری سنائی۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ’’لان یودب الرجل ولدہ خیر من ان یتصدق بصاع‘‘ کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے تو اس کے لئے ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذی شریف)

اس حدیث پاک میں امت کو اچھے علم و ادب کی اہمیت بتائی گئی ہے مگر آج کا ماحول یہ ہے کہ آدمی طلبِ معاش میں صبح گھر سے نکل جاتا ہے اور رات گئے گھر آتا ہے، اس وقت تک بچے مخملی بستر پر آرام فرما ہوجاتے ہیں یا ٹی وی اور انٹرنیٹ کا سہارا لیکرجاگتے ہیں اور والد مکرم کی آمد کے منتظر رہتے ہیں اور اسکول کے بعد ان کے اوقات دیگر خرافات میں کٹتے ہیں، بھلا جس بچے کا معلم ٹی وی اور انٹر نیٹ ہو وہ اولاد کیا اسلامی تہذیب سیکھے گی، مگر آج انسان اکتسابِ رزق میں اس قدر مصروف ہے کہ اسے اتنی بھی مہلت نہیں ملتی کہ اپنی اولاد کی نگرانی کر سکے۔

بلا شبہہ انسان اپنی اولاد ہی کے لئے کماتا ہے، زمین و جائداد، زر و جواہرات، مکان و دکان جو بھی حاصل کرتا ہے صرف اسی اولاد کے لئے، لیکن شاید اسے معلوم نہیں کہ یہ تمام چیزیں فانی ہیں اسی لئے تو معلمِ انسانیت محمد عربی ا نے والدین کی طرف سے اولاد کے لئے سب سے بہترین عطیہ اچھی تربیت کو قرار دیا اور فرمایا:

’’لا نحل والد ولدہ من نحل افضل من ادب حسن‘‘ یعنی اولاد کے لئے باپ کا کوئی عطیہ اچھی تربیت سے بہتر نہیں۔ (مشکوٰۃ)

شاید کوئی کم ظرف یہ کہے کہ پھر والد صاحب اپنے نورِ نظر کی تربیت ہی میں رہ جائیں گے اور ان کے لئے روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ نہ تو تربیت کے لئے ہمیشہ وقت دینا ضروری ہوتا ہے اور نہ ہی روزی روٹی کے لئے دوسرے ملکوں اور صوبوں کا سفر کرنا۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جن بچوں کے والد روزی روٹی کمانے کے لئے دور دراز کا سفر کر کے سالوں اور مہینوں گھر سے دور رہتے ہیں اور گھر میں کوئی دوسرا رہنمائی کرنے والا نہیں رہتا ان کے ببچے بچپنے سے ہی غلط راستے پر چل پڑتے ہیں اور وہی جوان ہو کر بے روزگاری کی مار جھیلتے ہیں اور انہیں پوری زندگی صرف افسوس ہی کرنا پڑتا ہے اور ایسے لوگ نہ صرف اپنے خاندان اور گھر پر ایک بوجھ بنے رہتے ہیں بلکہ ان کی زندگی سے ایک خاندان کی زندگی متاثر ہوتی ہے اسی ذلت و رسوائی سے نکالنے کے لئے مذہبِ اسلام نے ہمیں بہترین تربیت دینے کا حکم دیا۔

رزقِ حلال ہی بہترین غذا ہے: غذا انسان کو لازم ہوا کرتی ہے اور رزقِ حلال کا انسانی زندگی میں اہم رول ہوتا ہے، چوں کہ غذائوں سے ہی خون، گوشت، پوست و غیرہ بنتے ہیں اور اعضاء کی نشو و نما انہیںپر منحصر ہوا کرتی ہے اسی لئے خلاقِ کائنات سارے جہاں کا پالنے والا اپنے کلام مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ’’فاذا قضیت الصلوٰۃ فانتشروا فی الارض و ابتغوا من فضل اللہ‘‘ یعنی پروردگارِ عالم بعدِ نماز زمین کی وسعتوں میں پھیل کر اپنے فضل کی تلاش و جستجو کا حکم دیتا ہے، بلا شبہہ فضلِ خدا غذائے حرام نہیں بلکہ رزقِ حلال ہی ہوا کرتا ہے۔ معلم انسانیت محمد عربی ا کے نواسے حضرت امام حسین نے ایک مرتبہ ایام طفولیت میں صدقے کی کھجور کو منھ میں ڈال لیا تھا تو نبی آخر الزماں ا نے ان کے منھ سے کھجور کو نکال کر پھینک دیا اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا، چوں کہ صدقہ سادات کرام کے لئے حرام ہوا کرتا ہے اور حضور ا نے اسے ناپسند فرمایا کہ رزقِ حرام حسین کے حلق کے نیچے اترے تو پھر ہم کیوں غفلت برتتے ہیں۔

اس وقت تو ہمارا معاشرہ حلت و حرمت کی پرواہ کئے بغیر اپنے اور اپنی اولاد پر ہر اس پیسے کو خرچ کر رہا ہے جو اسے حاصل ہو جائے، کھیتوں سے اناج و پھل پیدا کئے اور اس کا صحیح عشر بھی نہیں نکالا اور اس کا استعمال شروع کر دیا، روپئے، پیسے، زرو جواہرات، سونا چاندی کا انسان مالک ہے، اس کی مکمل زکوٰۃ بھی نہ نکالی اور اس کو اپنے لئے حلال سمجھتے ہیں، اگر چہ مالک نصاب ہوں۔ آفسوں اوردیگر جگہوں پر عوام کے کام آنے والے اکثر عملہ سے کوئی بھی کام بغیر پیسے کے نہیں ہوتا، جب کہ حکومت یا انتظامیہ انہیں تنخواہیں اسی کام کے لئے فراہم کرتی ہے، خرید و فروخت میں فراڈ اور دھوکہ کرتے ہیں جب کہ اس میں ایمانداری لازم ہے، اس کے علاوہ اور دیگر معاملات ہیں جنہیں آج انسان ہلکا سمجھ کر نظر انداز کر رہا ہے، عشر و زکوٰۃ سے بغیر پاک کئے غلے، رشوت سے حاصل کی ہوئی رقمیں، غبن و دھوکہ دھڑی سے حاصل کیا ہوا مال جس سماج کی غذا ہو وہ سماج خود انسانیت اور سچائی سے کتنی قریب ہوگی کسی پر پوشیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا قوم مسلم کو رزقِ حلال ہی تلاش کرنا چاہئے اور اس عمل میں اسوۂ رسول ا کو اپنے لئے نمونہ بنا کر زندگی گزارنی چاہئے۔

اپنی اولاد کو نماز کا پابند بنائیں

اس وقت دنیا کے اکثر انسانوں، خاص کر نوجوانوں میں مغربی تہذیب سے قربت اور دین متین سے دوری کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، روزہ، نماز، حج زکوٰۃ اور دیگر اعمالِ صالحہ سے بیزاری اور والدین و دیگر اکابرین کی نافرمانی عام بات ہوگئی ہے، اس کے بر عکس مغربی فیشن اور دیگر مخرب الاعمال غیر اسلامی امور سے قربت مسلمانوں کو دعوت فکر دے رہی ہے۔

آج سے چودہ صدی پیشتر

تم جہاں تھے چلو وہیں لوٹ کر

کب تک آنسو بہائو گے اے مومنو

تم کو تو مسکرائے بہت دن ہوگئے

نئی نسل کو لادینیت سے بچانے کے لئے عوام و خواص سب کو آگے آنا ہوگااور شریعت مصطفوی کو خود اپنا کر اپنی اولاد کو اسی سانچے میں ڈھالنا ہوگا، اس کے لئے ہم اپنے بچوں کو سات سال ہی کی عمر میں نماز کا طریقہ سکھائیں اور دس سال کے ہو جانے پر انہیں اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے کہیں ضرورت سمجھیں تو ایک دو چپت بھی رسید کر دیں، چوں کہ جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کی تعلیم دیں اور دس سال کا ہو جانے پر اگر نہ پڑھے تو اسے مار بھی سکتے ہیں یہی شریعتِ اسلامیہ کا فرمان ہے، چوں کہ بزرگوں کا فرمان ہے کہ نماز پڑھنے سے کبر و نخوت دور ہوتی ہے اور عجز و انکساری آتی ہے، ہو سکتا ہے کہ یہی ایک بچہ آگے چل کر ایک خاندان کو راہِ راست پر لانے میں معین و مددگار ثابت ہو، لیکن والدین اپنی اولاد کو نماز کی تعلیم کیا دیں گے جب وہ خود نمازیں ادا نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ قوم مسلم کے حالات پر رحم فرمائے۔

شادی کیسے ہو: اولاد کو چاہئے لڑکی ہو یا لڑکا، بالغ ہونے کے بعد والدین ان کے تئیں فکر مند ہو جاتے ہیں، اور ان کی شادی کے لئے دوڑ بھاگ کرنے لگتے ہیں، بلا شبہہ شادی نگاہوں کو نیچی اور شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہے یہ ہر صاحبِ استطاعت کے لئے ضروری اور سنت رسول ا بھی ہے، اسی کے ذریعہ نسلِ انسانی کی افزائش ہوتی ہے، شریعت مطہرہ نے نیک عورت کو شوہر کے لئے دنیا کی سب سے بہتر پونجی قرار دیا جو نکاح ہی کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

مگر عوام میں رائج کچھ غلط رسمیں انسان کو نکاح کے حقیقی فائدے سے محروم کر دیتی ہیں، ہمارے ملک میں شادی سے قبل لڑکی دیکھنے کا رواج قائم ہے، مگر اکثر جگہوں پر اس وقت کچھ غیر شرعی امور کی وجہ سے کبھی کبھی عوام کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، بلا شبہہ قرآن حکیم نے شادی سے قبل لڑکی پسند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ’’فانکحوا ما طاب لکم من النساء‘‘ در حقیقت قرآن کے اس فرمان نے اپنے پسند کی عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا، لیکن ہمارے معاشرے کے حالات کچھ اور ہیں۔ آپ کو ابھی بھی بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جو اپنے لڑکوں کی شادیوں میں ان سے مشورہ بھی نہیں لیتے، چہ جائیکہ انہیں لڑکی دیکھنے کی اجازت دیں، اگر کوئی لڑکا اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنے کی اجازت طلب کرے تو سماج اسے گری نگاہوں سے دیکھتا ہے اور اس کی جگ ہنسائی ہوتی ہے، ایسا نہیں کہ لوگ بغیر لڑکی دیکھے شادی کر لیتے ہیں بلکہ لڑکی کو دیکھنے والوں میں والدین کے دوست و احباب مردوں اور عورتوں کی کل تعداد کبھی دو دو درجن سے زائد ہوا کرتی ہے، ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں از روئے شرع اس لڑکی کو دیکھنے کی اجازت بھی نہیں، پھر اکثر شادیاں نقدی روپئے اور دیگر سامان کے زور پر طے ہوتی ہیں، اس میں اسلامی روایات کا ذرہ برابر بھی پاس و لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے، اگر لڑکے کے والدین اور ان کے احباب کی بہترین مہمان نوازی کے ساتھ بھر پور نذرانے پیش کر کے واپس کیا اور مستقبل میں ان کی ہر جائز و ناجائز مانگ پورا کرنے کا وعدہ کیا تو ٹھیک ہے ورنہ اس رشتے کی بات وہیں پر ختم کر دی جاتی ہے …… لڑکی کے عادات و اطوار اور اس کے تقویٰ و پرہیزگاری کا خیال بھی نہیں کیا جاتا۔

لیکن شریعت مصطفویہ کو ملاحظہ کریں ۔محمد عربی ا روحی فداہ ، شادی کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں ’’تنکح المرأۃ لاربع لمالہا و لحسبہا و لجمالہا و لدینہا فاظفر بذات الدین‘‘ یعنی عورتوں سے لوگ چار چیزوں کی بنیاد پر شادیاں کرتے ہیں، مال کی بنیاد پر یا خوبصورتی کی بنیاد پر یا حسب و نسب کی بنیاد پر یا تو دین کی بنیاد پر۔ اے لوگو! تم دین کو ترجیح دو۔ (بخاری شریف)

لیکن آج لوگ مال و دولت کو دھیان میں رکھتے ہوئے حسن و جمال کو بھی دیکھتے ہیں، خاندانی شرافت کو بھی نظر انداز نہیں کرتے، لیکن لڑکی کی پرہیزگاری پر لوگوں کی نگاہیں نہیں رہتیں، یہی وجہ ہے کہ نہ تو لڑکیاں نماز کی پابند رہتی ہیں اور نہ ان سے پیدا ہونے والی اولاد، بلکہ ایسی لڑکیاں کبھی اپنی ساس و سسر اور شوہر محترم کو بھی کھری کھوٹھی سنانے سے نہیں چوکتیں، سچ فرمایا مخبر صادق سید کونین ا نے کہ جو لڑکی کے مال کو دیکھ کر شادی کرے گا وہ فقیر رہے گا، جو صرف خاندان دیکھ کر شادی کرے گا وہ ذلیل ہوگا، جو دین دیکھ کر شادی کرے گا اسے برکت دی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ذلت و رسوائی بڑھ رہی ہے اور دین داری کم ہو تی جا رہی ہے مگر ہم اس موضوع پر سوچنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کرتے ۔

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر کے موجوں میں اضطراب نہیں

قتل ہوتی ہوئی لڑکیاں: یقینا ہم ساری امتوں میں سب سے بہتر پیدا کئے گئے، ہمیں قرآن نے خیر امت کے لقب سے نوازا اور ہادیٔ بر حق محمد عربی ا کو اس امت کا نبی بنا کر بھیجا، آفتابِ رسالت کی جلوہ گری سے قبل اہلِ عرب لڑکیوں کی ولادت کو نہ صرف معیوب سمجھتے تھے بلکہ انہیں زندہ دفن کر دینا عام رواج تھا، لیکن جب اسلام کے امن کی ہوائیں چلیں اور خلاق کائنات نے ان مظلوموں کے حق میں قرآنِ کریم کی یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی ’’و اذا الموؤدۃ سئلت بای ذنب قتلت‘‘ یعنی جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے گا کس خطا پر ماری گئی۔

اس آیتِ کریمہ نے بے گناہ لڑکیوں کے قاتلوں کو ہلا کر رکھ دیا وہ لوگ اس فعلِ قبیح سے توبہ کر کے دامنِ اسلام سے وابسطہ ہونے لگے اور ان لوگوں نے خود غربت و افلاس کی بنیاد پرلڑکیوں کے قتل کرنے کے رجحان کی مخالفت کی اور اس جرم عظیم کی روک تھام کے لئے خلاق کائنات کے اس فرمان کو لوگوں تک پہنچایا ’’و لا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق نحن نرزقکم و ایاہم‘‘ یعنی ہر آدمی اپنی روزی لے کر آتا ہے، اے لوگو! اللہ جس طرح تمہیں روزی عنایت فرماتا ہے انہیں بھی روزی دیتا ہے۔ بلکہ تمہیں بھی روزی انہیں اولادہی کی بنیاد پر ملتی ہے، لہٰذا تم ان کے قتل سے باز آجائو، قرآن کے اس فرمان نے ان لڑکیوں کو بچا لیا جو کبھی بعدِ ولادت ہی مٹی کے حوالے کر دی جاتی تھیں۔ ان ذلیل و رسوا بچیوں کو معاشرہ میں ایک مقام دلوایا پھر جب تک لوگوں کو ذاتِ باری پر مکمل بھروسہ رہا اور اس کا خوف دل میں رکھ کر احکام الٰہیہ پر عمل پیرا رہے لڑکیوں کا ناحق قتل بند تھا، لیکن جیسے جیسے لوگوں کے دلوں سے خوف کم ہوا اور توکل علی اللہ کی بنیادیں متزلزل ہوگئیں، لوگ پھر اسی جہالت کی جانب آہستہ آہستہ بڑھ رہے ہیں جس جہالت میں صدیوں پیشتر اہلِ عرب ڈوبے ہوئے تھے، لڑکیوں کا قتل اس وقت بھی ہو رہا تھا اور آج بھی ہو رہا ہے صرف طریقہ بدلا ہوا ہے، چوں کہ اس زمانے میں مادہ جنین کے ٹسٹ کرنے کا آلہ عالم وجود میں نہیں آیا تھا اس لئے لوگ مجبور تھے اور بچے کی ولادت کا انتظار کرتے تھے بعدِ ولادت اگر بچی نظر آتی تو اس کو زندہ قبر کے حوالے کر دیتے تھے مگر اس وقت سائنس کافی ترقی کر چکی ہے، اب تو ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی جنس متعین کر دی جاتی ہے، سوئے اتفاق اگر وہ بچہ لڑکی ہے تو ماں کے پیٹ ہی میں اس کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایسا رجحان زیادہ تر پڑھے لکھے لوگوں میں (جو عمل کے اعتبار سے جاہل ہیں) فروغ پا رہا ہے، اسی طرح کا سنسنی خیز انکشاف روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو نے اپنے اداریہ میں ۱۱؍جنوری ۲۰۰۶؁ء کو برطانیہ کے میڈیکل میگزین لانسٹ کے حوالے سے شائع کیا کہ قانون ہونے کے باوجود ہندوستان میں پڑھے لکھے لوگوں میں مادہ جنین کو تباہ کرنے کا رجحان گھٹنے کے بجائے بڑھ رہا ہے، آگے لکھتے ہیں کہ جاری کئے گئے جائزے کے مطابق ہندوستان میں گزشتہ دو دہائیوں میں تقریبا ایک کروڑ مادۂ جنین تباہ کئے گئے۔

یہ رپورٹ کناڈا اور ہندوستان کی تحقیقاتی ٹیم نے پیش کیا تھا، جو ہندوستان میں مادۂ جنین کو قتل کئے جانے کے رجحان کا مطالعہ کر رہی تھی اس ٹیم نے تو یہاں تک تشویش کا اظہار کیا کہ مادۂ جنین کے قتل کئے جانے کا رجحان اگر اسی طرح جاری رہا تو پہلے سے غیر متوازن چل رہے عورت اور مرد کا تناسب اور زیادہ غیر متناسب ہو جائے گا جس کے سبب متعدد مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور بہت سارے لڑکوں کو شادیوں کے لئے لڑکیاں نہیں ملیں گی بلکہ انہیں کنوارا ہی رہنا پڑے گا۔

ٹسٹ کے بعد جس مادہ جنین کا قتل ہوتا ہے اس میں اکثر لڑکیاں ہی ہوتی ہیں، کیوں کہ آج کا ترقی یافتہ سماج لڑکیوں کو دوسرے درجے ہی میں رکھنا چاہتا ہے اور ان کی ولادت کو خاندان میں ایک غیر ضروری اضافی ذمہ داری کے طور پر لیا جاتا ہے، لڑکی کی پیدائش پر آج بھی بیشتر خاندانوں میں ماتم کا ماحول ہوتا ہے اور اسے پرایا دھن سمجھ کر پرورش کی جاتی ہے اگر چہ وہ لڑکی اپنے والدین کے لئے لڑکے سے بہتر ثابت ہو۔

مجھے کہنا یہ ہے کہ اس برے عمل کی روک تھام کی خاطر آج ہندوستان نے قانون بنایا ہے مگر صدیوں پہلے آقائے دوجہاں ا نے اخلاقی و مذہبی اعتبار سے قانون بنا کر روکا تھا، اس وقت لوگ نہ صرف رک گئے تھے بلکہ جنت حاصل کرنے کے لئے دوسری لڑکیوں کو گود لے کر ان کی پرورش کرتے تھے، سماج جس کو آج دوسرے درجے میں رکھ رہی ہے نبی آخر الزماں ا نے انہیں اول درجے میں رکھا تھا، بلا شبہہ آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبوی ا نے انسانوں کو لڑکیوں کے ناحق قتل سے روکا ہے مگر مسلمان ہے کہ اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔

قتل اولاد گناہِ عظیم ہے: اولاد چاہے ماں کے پیٹ میں ہو یا پیدا ہو گئی ہو اگر اسے ناحق قتل کیا گیا تو قتل کرنے والے اور کرانے والے سب کے سب گناہِ عظیم کے مرتکب اور عند اللہ ماخوذ ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں بھی اس طرح کے قتل کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس لئے اس مسئلہ میں ہم فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ و الرضوان کا تحریر کردہ ایک فتویٰ نقل کر رہے ہیں۔

مسئلہ: عورت کا حمل ساقط کرنا کیسا ہے؟

الجواب: چار مہینے میں جان پڑ جاتی ہے اور جان پڑ جانے کے بعد حمل ساقط کرنا حرام ہے۔ ایسا کرنے والا گویا قاتل ہے اور جان پڑنے سے پہلے اگر ضرورت ہو تو حرج نہیں۔ (فتاویٰ فیض الرسول ج؍۲)

عصرِ حاضر میں مادۂ جنین کی جانچ کرا کر لڑکیوں کو قتل کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ایسے لوگ خدا سے ڈریں کیوں کہ ع

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

در حقیقت انسانوں کے لئے رسولِ اعظم ؑ ہی کی سیرت نمونہ ٔ عمل ہے، یہی قرآن پاک کا فرمان اور نبی آخر الزماں ا کا اعلان ہے، اللہ تعالیٰ تمامی مسلمانوں کو سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بحرمۃ سید المرسلین ا

پیارے حبیب کو پکار

پیارے نبی کا نام لے

دامنِ مصطفی میں آ

پائے رسول تھام لے