أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا يَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ يَسۡمَعُوۡنَ‌ ؕ وَالۡمَوۡتٰى يَـبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(دعوت اسلام کو) صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو (توجہ سے) سنتے ہیں اور مردہ دلوں کو اللہ اٹھالے گا پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (دعوت اسلام کو) صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو (توجہ سے) سنتے ہیں اور مردہ دلوں کو اللہ اٹھالے گا پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : ٣٦) 

کفار کو مردہ فرمانے کی توجیہ : 

جو لوگ آپ کی دعوت اور تبلیغ سے منہ موڑ رہے ہیں اور اللہ کی توحید اور آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لا رہے ‘ ان کے ایمان نہ لانے اور عراض کرنے سے آپ دل برداشتہ اور مغموم نہ ہوں ‘ کیونکہ آپ کے پیغام کو وہی لوگ توجہ سے سنیں گے جن کے کانوں کو اللہ عزوجل نے غور سے سننے کے لیے کھول دیا ہے اور ان کے لیے آپ کی اتباع کو آسان کردیا ہے اور وہ لوگ کے پیغام کو توجہ سے نہیں سنیں گے ‘ جن کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ سو جب آپ انہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلائیں گے تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا ‘ جس طرح مویشی اپنے چرواہوں کی آوازوں کو سنتے ہیں اور ان کے مفہوم کو نہیں سمجھتے ‘ سو یہی ان کا حال ہے جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” ومثل الذین کفروا کمثل الذی ینعق بما لا یسمع الا دعآء وندآء صم بکم عمی فھم لا یعقلون “۔ (البقرہ : ١٧١) 

ترجمہ : اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کی مثال اس طرح ہے کہ کوئی شخص ایسے کو پکارے جو چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے ‘ بہرے گونگے ‘ اندھے ہیں ‘ سو وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو موتی (مردہ) فرمایا ہے ‘ کیونکہ جس طرح مردے کوئی آواز سنتے ہیں نہ کسی پکار کا معنی سمجھتے ہیں ‘ اسی طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل میں غور وفکر نہیں کرتے اور نہ اس کی نشانیوں سے عبرت اور نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘ تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب اور مخالفت سے باز آجائیں۔ قرآن مجید کی اور آیتوں میں بھی ان کو مردہ فرمایا ہے : 

(آیت) ” انک لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعآء اذا ولوا مدبرین، وما انت بھدی العمی عن ضللتھم ان تسمع الا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون، (النمل : ٨١۔ ٨٠) 

ترجمہ : بیشک آپ مردوں کو نہیں سناتے اور نہ بہروں کو سناتے ہیں ‘ جب وہ پیٹھ پھیر کر جارہے ہوں اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ راست پر لانے والے ہیں ‘ آپ صرف ان ہی کو سناتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لانے والے ہیں ‘ سو وہی مسلمان ہیں۔ 

(آیت) ” ان اللہ یسمع من یشآء وما انت بمسمع من فی القبور “۔ (فاطر : ٢٢) 

ترجمہ : بیشک اللہ سناتا ہے جسے چاہے اور آپ قبر والوں کو سنانے والے نہیں ہیں۔ 

ان کافروں کی آنکھیں تھیں لیکن ان کو اندھا فرمایا ‘ ان کے کان تھے پھر بھی ان کو بہرہ فرمایا اور ان کی زبان تھی ‘ اس کے باوجودہ ان کو گونگا فرمایا اور یہ زندہ تھے ‘ پھر بھی ان کو مردہ فرمایا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک آنکھیں اس کی ہیں جو محبت سے آپ کا جلوہ دیکھے ‘ کان اس کے ہیں جو عقیدت سے آپ کی باتیں سنے ‘ زبان اس کی ہے جو آپ کا کلمہ پڑھے اور زندہ وہ ہے جو آپ کی غلامی میں زندہ رہے۔ جو آپ کی محبت سے جہاد میں مارا جائے ‘ جو آپ کی خاطر سرکٹائے تو اللہ کے نزدیک وہ مردہ نہیں ہے ‘ جو آپ کی غلامی میں رہے وہ زمین کے اوپر ہو ‘ پھر بھی زندہ ہے اور زمین کے نیچے ہو پھر بھی زندہ ہے اور جو آپ سے منحرف ہو اور آپ کا منکر ہو وہ زمین کے اوپر ہو ‘ پھر بھی مردہ ہے اور زمین کے نیچے ہو پھر بھی مردہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 36