تراویح کا بیان

تراویح کا بیان

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ کے پیارے محبوب دانائے غیوب ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’رمضان میری امت کا مہینہ ہے‘‘ اس حدیث کی ایک تشریح یہ بھی کی گئی ہے کہ رمضان اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس لئے عطا فرمایا ہے تاکہ وہ اس میں خوب خوب عبادت کریں اور رضائے الٰہی حاصل کریں، دن میں روزہ رکھیں، رات میں نوافل ادا کریں، قرآنِ مقدس کی تلاوت کریں، اللہ کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کریں، غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی مدد کریں اور اللہ کی رحمتوں کے حقدار بن جائیں۔

چوں کہ پورے سال مذکورہ بالا اعمال کا کرنا ایک مشکل امر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوایک ایسا مہینہ عطا فرمایا کہ کم از کم مسلمان اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت پر خصوصی توجہ دیں۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! جس طرح دیگر ساری عبادتیں ایک اہم مقام رکھتی ہیں اسی طرح نمازِ تراویح کی بھی بے شمار فضیلتیں احادیث میں منقول ہیں اور نبی کریم رئوف و رحیم ﷺ کا اس پر مداومت کرنا بھی منقول ہے۔ اس کا بغور مطالعہ کریں اور نمازِ تراویح کو ادا کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔

تراویح کا معنی

لفظِ تراویح ’’تَرْوِیْحَۃٌ‘‘ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ’’کچھ دیر آرام کرنا‘‘ چوں کہ اس نماز میں ہر چار رکعات کے بعد اسی کی مقدار بیٹھنے کا حکم ہے اسی وجہ سے اسے تراویح کہتے ہیں۔

نبیٔ اکرم نورِ مجسم ﷺ کا معمول

نبی کریم ﷺ سے بھی تراویح کا ثبوت منقول ہے جیسا کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ رمضان میں بیس رکعات تراویح پڑھتے تھے۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ، ج:۲، ص:۳۹۴)

تراویح پر صحابہ کرام کی مداومت

نبی کریم ﷺ کے دور میں تراویح ادا کی جاتی تھی مگر اس دور میں اس کا ایسا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا جیسا اب کیا جاتا ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں بالکل اہتمام کے ساتھ اس نماز کو ادا کیا جانے لگا اور آج تک اس کا رواج مسلمانوں میں باقی ہے۔ جیسا کہ ایک روایت حضرت عبد الرحمن بن عبد قاری سے ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ میں رمضان المبارک میں حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مسجد میں گیا، وہاں لوگ الگ الگ نماز پڑھ رہے تھے، حضرت عمر نے کہا بخدا! میں نے سوچا ہے کہ اگر ان تمام لوگوں کو ایک قاری کی اقتداء میں جمع کر دوں تو بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابی بن کعب کی اقتداء میں ان کو جمع کر دیا پھر ایک رات دیکھا کہ لوگ اپنے قاری کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے، حضرت عمر نے فرمایا یہ اچھی بدعت ہے اور لوگ تراویح اولِ وقت میں پڑھتے تھے۔

تراویح کی رکعات

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! تراویح بیس رکعات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کے دور سے پڑھی جارہی ہے۔ بے شمار احادیث کریمہ میں یہ بات مذکور ہے کہ صحابہ کرام بیس رکعات تراویح پڑھا کرتے تھے۔ اسی سلسلے کی چند احادیث ہم ذکر کر رہے ہیں۔

’’عن یزید بن رومان انہ قال کان الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان بثلٰث و عشرین رکعۃ‘‘ یزید بن رومان بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں لوگ (بشمولِ وتر) تیئس رکعت پڑھتے تھے۔

اسی طرح ایک اور روایت ابنِ نصر نے سائب سے کی ہے کہ صحابہ کرام رمضان میں بیس رکعت قیام کرتے تھے اور حضرت عمر کے عہد میں (شدتِ قیام سے) لاٹھیوں سے ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔

اسی طرح ایک اور روایت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعض اصحاب سے ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان المبارک میں بیس رکعات تراویح پڑھاتے اور تین رکعت وتر۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ بالا روایتیں اور ان کے علاوہ بھی روایتیں ہیں جن سے تراویح کی رکعات کے بیس ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

تراویح کی فضیلت

’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رسول اللہ ا قال من قام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا جس شخص نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے پچھلے گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! علامہ نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ قیامِ رمضان سے مراد تراویح ہے اور اس بات پر اُمت کا اجماع ہے کہ تراویح پڑھنا مستحب ہے۔ مذکورہ حدیث میں اللہ کے پیارے حبیب ا نے بیان فرمایا کہ تراویح پڑھنا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ کیوں کہ تراویح نفلی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ’’ان الحسنات یذہبن السیئات‘‘ بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ ہم جانے انجانے میں بے شمار گناہ کر بیٹھتے ہیں۔ اللہ کے پیارے حبیب ا نے گناہوں کی معافی کا ایک بہترین نسخہ ہمیں عطا فرمایا ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ماہِ رمضان المبارک میں تراویح کا اہتمام کر کے اپنے گناہوں کو معاف کرائیں۔

مگر ایک بات اور یاد رہے کہ مذکورہ حدیث شریف میں گناہوں کی معافی سے مراد صغیرہ گناہوں کی معافی یا کبیرہ گناہوں میں تخفیف ہے۔ کیوں کہ کبائر کی معافی یا توبہ سے ہوتی ہے یا شفاعت سے یا اللہ کے فضل محض سے۔ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں ماہِ رمضان المبارک میں خوب سے خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تراویح میں ختم قرآن

مستحب یہ ہے کہ رمضان المبارک میں تراویح میں کم از کم ایک مرتبہ قرآنِ مقدس کا ختم کیا جائے۔ روایات میں صحابہ کرام کا اس پر معمول بھی منقول ہے اور اس پر تاکید بھی آئی ہے۔ جیسا کہ حضرت حسن سے روایت ہے کہ جو شخص رمضان میں امامت کرے وہ مقتدیوں پر آسانی کرے اگر وہ آہستہ قرأت کرتا ہو تو رمضان المبارک میں ایک قرآن ختم کرے اور اگر درمیانی قرأت کرتا ہو تو ڈیڑھ قرآن ختم کرے اور اگر تیز قرأت کرتا ہو تو رمضان المبارک میں دو ختم کرے۔

مذکورہ بالا روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کم از کم تراویح میں ایک ختم کرنا چاہئے۔ اسی طرح ایک اور روایت میں حضرت ابو عثمان بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان میں تین قاری نماز پڑھانے کے لئے مقرر فرماتے، جو سب سے تیز قرأت کرنے والا ہوتا اس کو (ایک رکعت میں) تیس آیات پڑھنے کا حکم دیتے، درمیانی رفتار سے قرأت کرنے والے کو پچیس آیات پڑھنے کا حکم دیتے اور آہستہ قرأت کرنے والے کو بیس آیات پڑھنے کا حکم دیتے۔

لہٰذا ہمیں بھی کم از کم تراویح میں ایک ختم قرآن کر ہی لینا چاہئے اور اللہ تعالیٰ توفیق دے تو ڈیڑھ یا دو ختم کر لیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.