عقیدت کی جبیں اُن ڈھیریوں کو بوسہ دیتی ھے، جن کے دامن میں شہدائے بدر محوِ استراحت ہیں

*عقیدت کی جبیں اُن ڈھیریوں کو بوسہ دیتی ھے، جن کے دامن میں شہدائے بدر محوِ استراحت ہیں*

غلام مصطفٰی رضوی

(نوری مشن مالیگاؤں)

وادیِ بدر میں عزیمت و استقامت کی وە تاریخ مرتب کی گئی کہ جس کے دوش پر اسلامی فتوحات کا کارواں آگے بڑھا- آفاق و انفس پر جو نغمۂ توحید و رسالت گونج رہا ھے؛ بلا شبہ یہ اصحابِ بدر کے جذبۂ عشق رسول میں جاں نثاری کا نتیجہ ھے- بدر کے 313 مجاہدین نے اللہ کی مدد سے عدیم المثال تاریخ رقم کی- فرشتگانِ الٰہی ان کی مدد کو اُترے- اسلامی صداقت کے فروغ کا یہ معرکہ اخلاص و ایمان کی عظیم کامیابی کا زریں باب ھے؛ جس کے دوش پر سرخروئی کی تاریخ رقم ہوئی-

ھم اپنے انھیں آثار کی تلاش میں 16 رمضان المبارک 1437ھ کی صبح بدر کے مقام جا پہنچے- عالم تصور میں آج بھی محسوس ھو رہا ھے جیسے ابھی معرکہ جاری ھے- جذبہ ایمانی سے سرشار اصحاب رسول کی سنانیں، شمشیریں باطل کی تیز و تند یلغار کو پامال کر رہی ھیں- وادیِ بدر میں نصرت و کامرانی کی مشکبار فضا آج بھی دھڑکتے قلب کے ساتھ محسوس کی جا سکتی ھے- دین متین کا گلستاں یوں ھی نہیں لہلہایا ھے، اسلام کی تابشیں بدر کے ستاروں کے ایثار کا نتیجہ ھیں- 17 رمضان المبارک کو وقوع پذیر یہ معرکہ ھماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر ھے- بدر ھماری تاريخ کا تابندہ باب ھے-

دھڑکتے دل کے ساتھ ھم اپنے آثار کی جانب رواں دواں ھیں- مدینہ منورە سے ھم نے سفر کا آغاز کیا- طویل راە طے کرنے کے بعد جبلِ ملائکہ پہنچے؛ جہاں بلبل سدرە حضرت جبریل سپاەِ ملائکہ کے ساتھ حمایتِ اصحابِ بدر کو اترے- پہاڑوں سے گھری وادی جلالت کا احساس دلا رہی تھی- ابھی چند ساعتوں کی منزل طے نہ ہوئی تھی کہ میدانِ بدر سامنے تھا- اس وادی نے فتح و نصرت کے وە پھریرے لہرائے که آج بھی اصحابِ بدر کی تعلیمات پر عمل آوری سے ھر معرکۂ حق و باطل میں حق کی فتح حاصل کی جا سکتی ھے، لیکن ضروری ھے کہ:

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ھیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

(اقبال)

یہاں ھم نے اصحاب بدر کے مزارات پر حاضری دی- جن کی شہادت حق کی علامت بن چکی ھے، ان کے مزارات کو ڈھیریوں میں بدل دیا گیا ھے- حیاتِ ظاہری میں کفارِ مکہ نے ستم ڈھایا؛ بعدِ شہادت کلمہ گویوں نے (بیسویں صدی میں) اصحابِ بدر کے مدفن پر بلڈوزر/کدال چلا کر کیا پیغام دیا! اس مقام پر آنکھیں چھلک پڑیں تو اسے صحابۂ کرام سے محبتوں کی سوغات کہیے- اپنی تاریخ کھدیڑنے کا یہ عمل کسی قوم میں نھیں بتا سکتے- قومیں ویرانے دریافت کر کے تاریخی آثار محفوظ کر رہی ھیں- جن کی تاریخی اہمیت نھیں وە اپنے آثار کی تلاش میں سرگرداں ھیں- جن کی تاریخ آئیڈیل اور نمونۂ جہاں بانی ھے؛ وە اپنے ھی تاریخی مقامات مسخ کریں یہ المیہ ھے- عالی شان تعمیرات اور حرمین کی توسیعات سے بدر کی تاراجی کے جرائم پر پردە نھیں ڈالا جا سکتا- ترکوں نے اسلامی تاریخی آثار کو چن چن کر محفوظ کیا تھا- آج معاملہ برعکس ھے-

عقیدت کی جبیں ان ڈھیریوں کو بوسہ دیتی ھے، جن کے دامن میں شہیدان وفا آرام کر رہے ھیں- اسلامی تاریخ کے سیکڑوں گوشے بدر کی وادی میں وا ھوتے گئے- آج یہود و نصارٰی کی پیروی نے مسلم مملکتوں کو شکست و ریخت سے دوچار کر رکھا ھے- اسلاف کے پاکیزە نقوش سے منھ موڑنے والے فتح و نصرت سے دور جا پڑتے ھیں- اپنے تاریخی آثار سے ایسی کدورت یہود و نصارٰی کی فکری غلامی کا نتیجہ ھے- اللہ تعالٰی ھمیں صحابہ کرام کی راە چلائے اور مغرب کی غلامی سے بچائے:

جاں نثاران بدر و احد پر درود

حق گزاران بیعت پہ لاکھوں سلام

(اعلٰی حضرت)

***

(مرقوم: 17 رمضان المبارک 1437ھ- یہ تحریر مسجد نبوی کی بہاروں میں لکھی گئی-)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.