حدیث نمبر :542

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے ایک دن نماز کا ذکرکیاتھافرمایا کہ جو اس پرپابندی کرے گا ۱؎ نماز اس کے لیئے قیامت کے دن روشن دلیل اور نجات ہوجائے گی ۲؎ اور جو اس پر پابندی نہ کرے گا تو اس کے لیئے نہ نور ہوگا نہ دلیل نہ نجات اور وہ قیامت کے دن قارون،فرعون،ہامان اورابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۳؎ (احمد،دارمی،بیہقی،شعب الایمان)

شرح

۱؎ اس طرح کہ نمازہمیشہ پڑھے،صحیح پڑھے،دل لگا کر اخلاص کے ساتھ ادا کیا کرے۔یہی معنی ہیں نماز قائم کرنے کے جس کا حکم قرآن کریم نے بارہا دیا:”اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ”۔

۲؎ قیامت میں قبربھی داخل ہے کیونکہ موت بھی قیامت ہی ہے۔مطلب یہ ہے کہ نمازقبرمیں اور پل صراط پر روشنی ہوگی،کہ سجدہ گاہ تیز بیٹری کی طرح چمکے گی،اورنماز اس کے مؤمن بلکہ عارف باﷲ ہونے کی دلیل ہوگی،نیز اس نماز کے ذریعہ سے اسے ہر جگہ نجات ملے گی کیونکہ قیامت میں پہلا سوال نماز کا ہوگا اگر اس میں بندہ کامیاب ہوگیاتو ان شاءاﷲ آگے بھی کامیاب ہوگا۔

۳؎ ابی ابن خلف وہ مشرک ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ہاتھ سے قتل فرمایا۔مرقاۃ میں ہے اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ بے نمازی کاحشران کافروں کے ساتھ ہوگا اورنمازی مؤمن کاحشر ان شاءاﷲنبیوں،صدیقوں،شہداءاورصالحین کے ساتھ ہوگا۔اس سے یہ لازم نہیں کہ بے نمازی کافر ہوجائے اورنمازی نبی،بلکہ بے نمازکوقیامت میں ان کفارکے ساتھ کھڑاکیاجاوے گا جیسے کسی شریف آدمی کو ذلیل کے ساتھ بٹھادینا اس کی ذلت ہے،لہذا حدیث واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔خیال رہے کہ قیامت میں ہرشخص کا حشر اس کے ساتھ ہوگا جس سے اسے دنیا میں محبت تھی۔اور جس کی طرح وہ کام کرتا تھا،بے نماز چونکہ کافروں کے سے کام کرتا ہے لہذا اس کا حشر بھی ان کے ساتھ ہوگا،نمازی نبیوں،صدیقوں کی نقل کرتا ہے لہذا ان کا حشر ان کے ساتھ ہوگا،اسی لئے کہتے ہیں کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی اور بروں کی نقل بھی بری۔