أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ اِعۡرَاضُهُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِىَ نَفَقًا فِى الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِى السَّمَآءِ فَتَاۡتِيَهُمۡ بِاٰيَةٍ‌ ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى الۡهُدٰى فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰهِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر ان لوگوں کی بےاعتنائی آپ پر دشوار ہے تو آپ اگر زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کرسکتے ہیں تاکہ ان کے پاس (ان کا مطلوبہ) معجزہ لے آئیں (تو لے آئیں) اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا ‘ (تو اے مخاطب) تو ہرگز نادانوں میں سے نہ ہوجانا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر ان لوگوں کی بےاعتنائی آپ پر دشوار ہے تو آپ اگر زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کرسکتے ہیں تاکہ ان کے پاس (ان کا مطلوبہ) معجزہ لے آئیں (تو لے آئیں) اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا ‘ (تو اے مخاطب) تو ہرگز نادانوں میں سے نہ ہوجانا۔ (الانعام :) 

شان نزول : 

بعض آثار میں ہے کہ حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف قریش کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس اللہ کے پاس سے کوئی نشانی لائیے جیسا کہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) نشانیاں لاتے تھے۔ پھر ہم آپ کی تصدیق کریں گے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی مطلوبہ نشانیاں عطا فرمانے سے انکار فرمایا۔ تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منہ پھیرلیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کا اعراض کرنا بہت دشوار ہوا ‘ کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوم کے ایمان لانے پر بہت حریص تھے ‘ اور وہ جب بھی کسی نشانی کا مطالبہ کرتے تو ان کے ایمان لانے کی طمع میں آپ کی یہ شدید خواہش ہوتی کہ وہ نشانی (معجزہ) نازل کردی جائے ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح المعانی ج ٧ ص ‘ ١٣٨ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

زمین میں سرنگ بنانے اور آسمان پر سیڑھی لگانے کے معانی اور توجیہات) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر آپ کو ان لوگوں کا کفر بہت دشوار معلوم ہوتا ہے اور ان کی تکذیب بہت گراں محسوس ہوتی ہے اور اس سے آپ کو بہت رنج پہنچتا ہے تو اگر آپ زمین میں سرنگ بنا کر اس میں داخل ہونے پر قادر ہوں یا سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھنے پر قادر ہوں ‘ تو آپ ایسا کرلیں اور اگر آپ اس پر قادر نہیں ہیں تو پھر آپ پر لازم ہے کہ آپ ان کے خلاف غم وغصہ کو برداشت کریں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور آپ کی نبوت اور دین اسلام کی حقانیت پر جو دلائل قائم کیے ہیں ‘ صرف ان سے استدلال کریں اور جن لوگوں میں غور وفکر کرنے کی اہلیت ہے ان کو اس کی طرف متوجہ کریں اور جو اپنی عقل سے کام لینے کے بجائے ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں ‘ ان کی پرواہ نہ کریں۔ 

اس آیت کا دوسرا معنی یہ کیا گیا ہے کہ اگر آپ کے خیال میں ان کے ایمان لانے کے لیے آپ کا زمین میں سرنگ بنا کر چلے جانا یا آسمان پر سیڑھی لگا کر چلے جانا کافی ہے تو آپ ایسا کرلیں ‘ اور اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ اگر آپ کو یہ خیال ہے کہ اگر آپ زمین میں سرنگ بنا کر چلے جائیں یا آسمان پر سیڑھی کے ذریعہ چڑھ کر ان کا مطلوبہ معجزہ لاسکیں تو آپ ایسا کرلیں ‘ اور اس کی تائید ان آیتوں سے ہوتی ہے : 

(آیت) ” وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعا اوتکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانھر خللھا تفجیرا۔ او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا او تاتی باللہ والملٓئکۃ قبیلا او یکون لک بیت من زخرف اوترقی فی السمآء ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرؤہ قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا “۔ (بنواسرائیل : ٩٣۔ ٩٠) 

ترجمہ : اور کافروں نے کہا : ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردیں یا آپ کے لئے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو ‘ پھر آپ اس کے درمیان بہتی ہوئی نہریں جاری کردیں یا جیسے آپ نے کہا ہے آپ ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرا دیں یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے بےحجاب لے آئیں یا آپ کے لئے سونے (کی دھات) کا گھر ہو ‘ یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں ‘ اور ہم آپ کے چڑھنے پر بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہم پر ایک کتاب نازل کریں جس کو ہم پڑھیں ‘ آپ کہہ دیجئے ‘ میرا رب (ایسے لا یعنی مطالبات کو پورا کرنے سے) پاک ہے ‘ میں تو صرف بشر رسول ہوں۔ 

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوی نبوت کے صدق پر بطور برھان اور معجزہ قرآن مجید نازل فرمایا اور یہ چیلنج کیا کہ اس میں ردو بدل ہوسکتا ہے ‘ نہ اس کی کوئی نظیر لاسکتا ہے اور جب تمام دنیا اس چیلنج سے عاجز ہوگئی اور قرآن مجید کا معجزہ ہونا خوب ظاہر گیا اور کفار کے لیے کسی عذر کی کوئی گنجائش نہیں رہی ‘ تو وہ لوگوں کو مغالطہ دینے کے لیے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہلوایا کہ آپ کہئے کہ میں صرف بشر اور رسول ہوں۔ یعنی میرا کام اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ وہ میں نے پہنچا دیا اور میری نبوت پر کسی شخص کے اطمینان اور یقین کے لیے جس قدر معجزات اور نشانیاں ضروری ہوسکتی تھیں ‘ وہ سب میرے رب نے ظاہر فرما دی ہیں۔ اب یہ کافر حیل وحجت اور ہٹ دھرمی کے لیے عجیب و غریب معجزات طلب کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مطلوبہ معجزات اس لیے عطا نہیں فرمائے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسی نشانی نہیں نازل فرماتا جس کے بعد عقل کی آزمائش کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب کافروں کی پوری قوم کسی معجزہ کی طلب پر اصرار کرے اور اس معجزہ کے ظہور کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ اب ان پر عذاب نازل نہیں ہوگا ‘ چناچہ فرمایا : 

(آیت) ” وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم “۔ (الانفال : ٣٣) 

ترجمہ : اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ انکو عذاب دے درآنحالیکہ آپ ان میں موجود ہیں۔ 

معجزہ نبی کے اختیار میں ہے یا نہیں ؟ 

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں کسی نشان اور معجزہ کو ظاہر کرنا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اختیار میں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ کسی نشانی اور معجزہ کو ظاہر فر دیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی کوشش سے کسی معجزہ کو ظاہر نہیں کرسکتے اور یہ بالکل برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قدرت دی ہے اور اختیار عطا فرمایا ہے ‘ لیکن اس قدرت اور اختیار کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں قادر و مختار ہیں ‘ حتی کہ جس کام کو اللہ نہ کرنا چاہے آپ اس کو کرسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں نہ یہ کہنا مطلقا درست ہے کہ کوئی معجزہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اختیار میں نہیں ہے اور نہ یہ کہنا درست ہے کہ تمام معجزات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اختیار میں ہیں۔ قرآن مجید نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ ہے ‘ لیکن اس کا نزول آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے قرآن مجید کی آیات نازل فرماتا ہے۔ اسی غیب کی خبریں دینا آپ کا معجزہ ہے ‘ لیکن یہ آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو غیب پر مطلع فرماتا ہے تو آپ غیب کی خبریں دیتے ہیں اور بعض معجزات آپ کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے امام غزالی سے نقل کیا ہے کہ بعض خصائص کی وجہ سے نبی عام انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے اور ان خصائص میں سے یہ ہے کہ جس طرح عام انسانوں کے اختیار میں افعال عادیہ ہوتے ہیں ‘ اسی طرح نبی کے اختیار میں افعال غیر عادیہ (معجزات) ہوتے ہیں۔ (فتح الباری ‘ ج ١٢‘ ص ٦٧‘ طبع لاہور احیاء العلوم ج ٥‘ ص ٥٣‘ طبع بیروت) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لعاب دہن سے کئی بیماروں کو شفا عطا فرمائی۔ (الشفاء ‘ ج ١‘ ص ٢١٤۔ ٢١٢) آپ نے پانی کے برتن میں اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں سے فوارے کی طرح پانی جاری ہوگیا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث ١٦٩) معرکہ بدر میں جب جنگ کی شدت ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کفار کی طرف پھینکی اور تین مرتبہ شاھت الوجوہ ‘ فرمایا۔ اللہ کی قدرت سے کنکریوں کے ریزے ہر کافر کی آنکھ میں پہنچے اور وہ سب آنکھیں ملنے لگے۔ (روح المعانی ‘ ج ٩‘ ص ١٨٥) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ملک الموت کے ایک تھپڑ مارا اور ان کی آنکھ نکل گئی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم ١٣٣٩) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کے متعلق فرمایا ابو خیثمہ ہوجا وہ شخص جو کوئی بھی تھا ‘ وہ ابو خیثمہ ہوگیا۔ (صحیح مسلم التوبہ ‘ ٥٣‘ (٢٦٩) ٦٨٨٣) اس قسم کے معجزات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان معجزات کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قدرت اور اختیار میں دے دیا تھا۔ 

جبرا ہدایت نہ دینے کی حکمت : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو جبرا مومن بنانا چاہتا تو ان سب کو مومن بنا دیتا ‘ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے اور اس کے طریقہ کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ اس نے دنیا میں خیر اور شر دونوں چیزوں کو پیدا کردیا ہے اور شر کی ترغیب کے لیے شیطان کو پیدا کیا اور خیر کی تحریص کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو پیدا کیا اور انسان کے اندر بھی خیر اور شر کے دو محرک پیدا کیے۔ پھر انسان کو عقل سلیم عطا کی ‘ اب وہ خارجی اور داخلی تحریکات میں سے جس سے بھی متاثر ہو کر جو راستہ بھی اختیار کرتا ہے ‘ خیر اور شر میں سے جس راہ پر چلنے کا فیصلہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں وہی فصل پیدا کردیتا ہے اللہ تعالیٰ از خود اس پر کوئی راستہ مسلط نہیں کرتا اور چونکہ خیر یا شر بندہ میں اسی کے اختیار میں پیدا کی جاتی ہے ‘ اس لیے اس اختیار کی وجہ سے اس کو جزاء یا سزا دی جاتی ہے۔ 

اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتایا گیا ہے کہ کفار مکہ کو ہدایت پر لانے کے لیے تمام دلائل کھول کھول کر بیان کیے جاچکے ہیں اور بہت سے معجزات اور نشانیاں دی جا چکی ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی گمراہی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اب ان کو ہدایت پر لانے کی صرف یہی صورت رہ گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان میں جبرا ہدایت پیدا کر دے ‘ لیکن یہ اللہ عزوجل کا طریقہ نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا کرنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ از خود تمام انسانوں کو ہدایت یافتہ بنا دیتا۔ پھر کسی نبی اور رسول کو بھیجنے کی ضرورت ہوتی نہ کتاب اور صحائف نازل کرنے کی اور نہ معجزات اور نشانیاں پیش کرنے کی حاجت ہوتی اور رشد و ہدایت کا یہ حکمت پر مبنی نظام اور مربوط سلسلہ عبث اور بیکار ہوجاتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 35