أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ قَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ‌ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰٓى اَنۡ يُّنَزِّلَ اٰيَةً وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا اس (رسول) پر اس کے رب کی طرف سے کوئی (مطلوبہ) معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ‘ آپ کہیے کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ (ان کا مطلوبہ) معجزہ نازل کر دے ‘ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے کہا اس (رسول) پر اس کے رب کی طرف سے کوئی (مطلوبہ) معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ‘ آپ کہیے کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ (ان کا مطلوبہ) معجزہ نازل کر دے ‘ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (الانعام : ٣٧) 

کفار کی مطلوبہ نشانیاں نازل نہ کرنے کا سبب : 

یہ آیت صنادید قریش کے متعلق نازل ہوئی ہے جو عناد اور سرکشی کی بنا پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی معجزہ اور نشانی کا سوال کرتے تھے۔ ورنہ اس سے پہلے بہت سی نشانیاں اور معجزے دیئے جا چکے تھے جو کسی منصف مزاج شخص کے ایمان لانے کے لیے کافی تھے اور جن نشانیوںٗ کا یہ سوال کر رہے تھے ‘ اللہ تعالیٰ ان کے نازل کرنے پر بھی قادر تھا ‘ جیسا کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ متعدد نشانیاں نازل فرما چکا تھا ‘ مثلا ان کے مطالبہ پر چاند کو شق کیا گیا ‘ لیکن یہ اس کے باوجود ایمان نہیں لائے۔ لہذا ان کے مطالبہ کے موافق نشانیاں نازل کرنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ‘ کیونکہ ہر نشانی نازل ہونے کے بعد یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے۔ سو واضح ہوا کہ یہ محض عناد اور ہٹ دھرمی سے نشانیوں کو طلب کرتے ہیں، اور ان کے اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اگر ان کے اجتماعی مطالبہ کے موافق کوئی نشانی نازل کردی جائے اور یہ بھر بھی ایمان نہ لائے تو ان پر ایسا عذاب آئے گا جس سے یہ سب ملیامیٹ ہوجائیں گے ‘ تو ان کے مطالبہ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ فرمانا اس حکمت پر مبنی ہے ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ ان کا مطالبہ پورا کرنے سے عاجز نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 37