اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖؕ-وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(۶۰)

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعوی ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور اُن کا تو حکم یہ تھا کہ اُسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکادے (ف۱۷۰)

(ف170)

شانِ نزول: بِشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا’ یہودی نے کہا چلوسیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طے کرالیں منافق نے خیال کیا کہ حضورتو بے رعایت محض حق فیصلہ دیں گے اس کا مطلب حاصل نہ ہوگا اس لئے اُس نے باوجود مدعیء ایمان ہونے کے یہ کہا کہ کعب بن اشرف یہودی کو پنچ بناؤ(قرآن کریم میں طاغوت سے اس کعب بن اشرف کے پاس فیصلہ لے جانا مراد ہے) یہودی جانتا تھا کہ کعب رشوت خوار ہے اِس لئے اُس نے باوجو د ہم مذہب ہونے کے اُس کو پنچ تسلیم نہ کیا ناچار منافق کو فیصلہ کے لئےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور آنا پڑا۔ حضورنے جو فیصلہ دیا وہ یہودی کے موافق ہوا یہاں سے فیصلہ سننے کے بعد پھر منافق یہودی کے درپے ہوا اور اسے مجبور کرکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا یہودی نے آپ سے عرض کیا کہ میرا اس کا معاملہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طے فرماچکے لیکن یہ حضورکے فیصلہ سے راضی نہیں آپ سے فیصلہ چاہتا ہے فرمایا کہ ہاں میں ابھی آکر اس کا فیصلہ کرتا ہوں یہ فرما کر مکان میں تشریف لے گئے اور تلوار لا کر اُس کو قتل کردیا اور فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ سے راضی نہ ہو اُس کا میرے پاس یہ فیصلہ ہے ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ(۶۱)

اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اُتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ ﳓ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا(۶۲)

کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد (مصیبت)پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا (ف۱۷۳)

(ف171)

جس سے بھاگنے بچنے کی کوئی راہ نہ ہو جیسی کہ بِشر منافق پر پڑی کہ اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قتل کردیا۔

(ف172)

کفر و نفاق اور معاصی جیسا کہ بِشر منافق نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ سے اعراض کرکے کیا۔

(ف173)

اور وہ عذر و ندامت کچھ کام نہ دے جیسا کہ بِشر منافق کے مارے جانے کے بعد اُس کے اولیاء اُس کے خُون کا بدلہ طلب کرنے آئے اور بے جا معذرتیں کرنے اورباتیں بنانے لگے اللہ تعالٰی نے اس کے خون کا کوئی بدلہ نہیں دلایا کیونکہ وہ کشتنی ہی تھا۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْۗ-فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا(۶۳)

ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم اُن سے چشم پوشی کر و اور انہیں سمجھا ؤ اور ان کے معاملہ میں اُن سے رسا (اثر کرنے والی)بات کہو (ف۱۷۴)

(ف174)

جواُن کے دِل میں ا ثر کر جائے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)

او رہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں ا ور رسول ان کی شِفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں (ف۱۷۷)

(ف175)

جب کہ رسُول کا بھیجنا ہی اس لئے ہے کہ وہ مُطَاع بنائے جائیں اور اُن کی اطاعت فرض ہو تو جواُن کے حکم سے راضی نہ ہو اُس نے رسالت کو تسلیم نہ کیا وہ کافر واجب القتل ہے۔

(ف176)

معصیت و نافرمانی کرکے۔

(ف177)

اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الہٰی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کار بر آری کا ذریعہ ہے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات شریف کے بعد ایک اعرابی روضہء اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ شریفہ کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا یارسول اللہ جو آپ نے فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ کے حضور میں اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کی گئی اس سے چند مسائل معلوم ہوئے

مسئلہ: اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعہ کامیابی ہے

مسئلہ قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی ” جَآءُ وْکَ ” میں داخل اور خیرُ القرون کا معمول ہے مسئلہ: بعد وفات مقبُولان ِحق کو( یا )کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے

مسئلہ:مقبُولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے۔

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۶۵)

تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸)

(ف178)

معنٰی یہ ہیں کہ جب تک آپ کے فیصلے اور حکم کو صدقِ دِل سے نہ مان لیں مسلمان نہیں ہوسکتے سبحان اللہ اس سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان معلُوم ہوتی ہے

شانِ نزول: پہاڑ سے آنے والا پانی جس سے باغوں میں آبِ رسانی کرتے ہیں اس میں ایک انصاری کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا ہوا معاملہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور پیش کیا گیا حضور نے فرمایا اے زبیر تم اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو یہ انصاری کو گراں گزرا اور اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ باوجودیکہ فیصلہ میں حضرت زبیر کو انصاری کے ساتھ احسان کی ہدایت فرمائی گئی تھی لیکن انصاری نے اس کی قدر نہ کی تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سیراب کرکے پانی روک لو انصافاً قریب والاہی پانی کا مستحق ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْؕ-وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ(۶۶)

اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اُس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا

(ف179)

جیسا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکل جانے اور توبہ کے لئے اپنے آپ کو قتل کا حکم دیا تھا

شانِ نزول: ثابت بن قیس بن شَمَّاس سے ایک یہودی نے کہا کہ اللہ نے ہم پر اپنا قتل اور گھر بار چھوڑ نا فرض کیا تھا ہم اس کو بجالائے ثابت نے فرمایا کہ اگر اللہ ہم پر فرض کرتا تو ہم بھی ضرور بجالاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(ف180)

یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور آپ کی فرماں برداری کی ۔

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ(۶۷)

اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم اُنہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا(۶۸)

اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹)

اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں

(ف181)

تو انبیاء کے مخلص فرمانبردار جنت میں اُن کی صحبت ودیدار سے محروم نہ ہوں گے۔

(ف182)

صدیق انبیاء کے سچے متبعین کو کہتے ہیں جو اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ پر قائم رہیں مگر اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افاضل اصحاب مُراد ہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق ۔

(ف183)

جنہوں نے راہِ خدا میں جانیں دیں ۔

(ف184)

وہ دیندار جو حق العباد اور حق اللہ دونوں ادا کریں اور اُن کے احوال و اعمال اور ظاہر و باطن اچھے اور پاک ہوں شانِ نزول: حضرت ثوبان سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کمال محبّت رکھتے تھے جُدائی کی تاب نہ تھی ایک روز اس قدر غمگین اور رنجیدہ حاضر ہوئے کہ چہرہ کا رنگ بدل گیاتھا تو حضور نے فرمایا آج رنگ کیوں بدلاہوا ہے عرض کیا نہ مجھے کوئی بیماری ہے نہ درد بَجُز اس کے کہ جب حضور سامنے نہیں ہوتے تو انتہا درجہ کی وحشت و پریشانی ہوجاتی ہے جب آخر ت کو یاد کرتا ہوں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پاسکوں گا آپ اعلی ترین مقام میں ہوں گے مجھے اللہ تعالی نے اپنے کرم سے جنت بھی دی تو اس مقام عالی تک رسائی کہاں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں تسکین دی گئی کہ باوجود فرق منازل کے فرمانبرداروں کو باریابی اور معیت کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا ۔

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠(۷۰)

یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ کافی ہے جاننے والا