حمد باری تعالیٰ

از:… استاذ زمن حضرت علامہ حسن رضا خان بریلوی ص

ہے پاک رتبہ فکر سے اس بے نیاز کا

کچھ دخل عقل کا ہے نہ کام امتیاز کا

لب بند اور دل میں وہ جلوے بھرے ہوئے

اللہ رے جگر ترے آگاہ راز کا

غَش آگیا کلیم سے مشتاق دید کو

جلوہ بھی بے نیاز ہے اس بے نیاز کا

ہر شے سے ہیں عیاں مرے صانع کی صنعتیں

عالم سب آئینوں میں ہے آئینہ ساز کا

افلاک و ارض سب ترے فرماں پذیر ہیں

حاکم ہے تو جہاں کے نشیب و فراز کا

اس بے کسی میں دل کو مرے ٹیک لگ گئی

شہرہ سُنا جو رحمتِ بے کس نواز کا

مانند شمع تیری طرف لَو لگی رہے

دے لطف میری جان کو سوز و گداز کا

تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جرم

دیتا ہوں واسطہ تجھے شاہِ حجاز کا

بندے پہ تیرے نفس لعیں ہو گیا محیط

اللہ کر علاج مری حرص و آز کا

کیوں کر نہ میرے کام بنیں غیب سے حسنؔ

بندہ بھی ہوں تو کیسے بڑے کار ساز کا