أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلۡ اِيَّاهُ تَدۡعُوۡنَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَيۡهِ اِنۡ شَآءَ وَتَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بلکہ تم اسی کو پکارو گے، پس اگر وہ چاہے گا تو وہ اس تنگی کو کھول دے گا جس کے لیے تم اس کو پکارو گے اور تم انھیں بھول جاؤ گے جن کو (اللہ کو) شریک بناتے تھے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلکہ تم اسی کو پکارو گے، پس اگر وہ چاہے گا تو وہ اس تنگی کو کھول دے گا جس کے لیے تم اس کو پکارو گے اور تم انھیں بھول جاؤ گے جن کو (اللہ کو) شریک بناتے تھے۔ (الانعام : ٤١) 

خلاصہ یہ ہے کہ سختی ‘ مصیبت اور تنگی میں تم صرف اللہ ہی کو پکارتے ہو ‘ تاکہ تمہاری مصیبتیں اور تکلیفیں دور ہوجائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق اگر چاہے تو تم سے وہ تکلیف دور کردیتا ہے اور ایسے وقت میں تم اپنے بتوں کو بھول جاتے ہو اور اللہ کے سوا تم کو کوئی یاد نہیں آتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر تدعونہ تضرعا وخفیۃ لئن انجنا من ھذہ لنکونن من الشکرین، قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل کرب ثم انتم تشرکون “۔ (الانعام : ٦٤۔ ٦٣) 

ترجمہ : آپ پوچھئے تمہیں خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے ؟ جس کو تم عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارتے ہو۔ اگر وہ ہمیں اس (مصیبت سے) سے بچا لے تو ہم ضرور اس کے شکر گزار بن جائیں گے، آپ کہئے اللہ ہی تم کو اس (مصیبت) سے اور ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے پھر (بھی) تم شرک کرتے ہو۔ 

(آیت) ’ ’ فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجھم الی البر اذا ھم یشرکون “۔ (العنکبوت : ٦٥) 

ترجمہ : پھر وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں درآنحالیکہ وہ اخلاص سے اسی کی عبادت کرنے والے ہیں اور جب وہ اس کی عبادت کرنے والے ہوتے ہیں اور جب وہ ان کو خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے ‘ تو یکایک وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی فطرت میں اپنے خالق کی معرفت رکھی ہے اور اس کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ خدائے واحد کی پرستش کرے اور اسی کو پکارے۔ اس لیے انسان پر جب کوئی سخت مصیبت اور پریشانی آتی ہے تو اس کی امید کی نظریں اس کے سوا اور کسی کی طرف نہیں اٹھتیں ؛ 

(آیت) ” فطرۃ اللہ التی فطرالناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ “۔ (الروم : ٣٠) 

ترجمہ : اللہ کی بنائی ہوئی سرشت کو اپنے اوپر لازم کرلو ‘ جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی پیدا کی ہوئی سرشت میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 41