:: حدیث کی تعریف اور قسمیں ::

جمہور علماء کی اصطلاح میں حدیث کی تعریف یہ کی گئی ہے :۔

حدیث کہتے ہیں حضور ﷺ کے قول کو وہ صراحتہََ ہو یا حکماََ اور حضور ﷺ کے فعل کو اور حضور ﷺ کی تقریر کو ۔ تقریرکا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے روبرو کوئی کام کیا گیا اور حضور ﷺ نے اسے منع نہیں فرمایا۔یا صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کوئی بات کہی اور حضور ﷺ نے اسے رد نہیں کیا بلکہ خاموش رہے اور عملاََ اسے ثابت فرمادیا۔ ( النجۃ النبھانیۃ )

اس کے بعد فرماتے ہیں:۔

اور اسی طرح حدیث کا لفظ بولا جاتا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کے قول و فعل اور ان کی تقریر پر بھی اور صحابی کہتے ہیں اُ س محترم ہستی کو جسے بحالت ِ ایمان حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی اور ایمان پر یہ خاتمہ ہوا۔( النجۃ النبھانیۃ )

پھر فرماتے ہیں :۔

اور اسی طرح حدیث کا لفظ بولا جاتا ہے تابعین کے قول و فعل اور ان کی تقریر پر بھی اور تابعی کہتے ہیں اُس عظیم ہستی کو جس نے بحا لتِ ایمان کسی صحابی سے ملاقات کی اور ایمان پر اُس کا خاتمہ ہوا۔( النجۃ النبھانیۃ )

:: حدیث کی بنیادی قسمیں ::

اس لحاظ سے حدیث کی تین قسمیں ہوگئیں ، جس کی تشریح حضرت شیخ محقق سیدی شاہ عبد الحق محدث دہلوی رضی اللہ عنہ نے یوں فرمائی ہے۔

جس حدیث کا سلسلہ روایت نبی اکرم ﷺ تک منتہی ہوتا ہے اسے ’’ حدیث مرفوع ‘‘ کہتے ہیں ۔

جس حدیث کا سلسلہ روایت کسی صحابی تک منتہی ہوتا ہے اسے ’’حدیث موقوف ‘‘ کہتے ہیں۔

اور جس حدیث کا سلسلہ روایت کسی تابعی تک منتہی ہوتا ہے اسے ’’ حدیث مقطوع ‘‘کہتے ہیں ۔ (مصطلحات الاحادیث)

:: حدیث کی دینی حیثیت ::

یہ امرمحتاج بیان نہیں ہے کہ احکام شریعت کا پہلا سر چشمہ قرآن عظیم ہے کہ خدا کی کتاب ہے ۔اور قرآن ہی کی صراحت و ہدایت کے بموجب رسول ِخدا ﷺ کی اطاعت و اتباع بھی ہر مسلمان کے لیے لازم و ضروری ہے کے بغیر اس کے احکام ِ الہٰی کی تفصیلا ت کا جاننا اور آیات ِ قرانی کا منشاد و مراد سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔ اس لیے اب لا محالہ حدیث بھی اس لحاظ سے احکام شرع کا ماخذ قرار پاگئی کہ وہ رسول ِخدا ﷺ کے احکام و فرامین ، ان کے اعمال ، افعال او ر آیات قرآنی کی تشریحات و مرادات سے باخبر ہونے کا واحد ذریعہ ہے ۔

اب ذیل میں قرآن مبین کی وہ آیات کریمہ ملاحظہ فرمائیں جن میں نہایت صراحت و وضاحت کے ساتھ ساتھ باربار رسول انور ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری اور اتباع و پیروی کا حکم دیا گیا ہے ۔

1 :۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ سے روگردانی نہ کرو ۔( پارہ 9 ۔رکوع 17 )

2 :۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں مت جھگڑو ، کہ بکھر کر کمزور ہوجائوگے۔(پارہ 10 ۔ رکوع 2 )

3 :۔اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر منصب کے ساتھ کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے ۔(پارہ 5 ۔رکوع 6 )

4 :۔اے رسول ! ﷺ آپ لوگوں سے فرمادیجئے کہ اگر تم خدا سے دوستی کا دم بھرتے ہو تو میری پیروی کرو خدا تمہیں اپنا دوست بنائے گا (پارہ 3 ۔ رکوع 12 )

5 :۔آپ کے رب کی قسم وہ ہرگز مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے ان معاملات میں آپ کو اپنا حاکم نہ مان لیں جن میں ان کے آپس کا جھگڑا ہے۔ (پارہ 5 ۔ رکوع 6 )

6 :۔اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو ، اور ان کی اطاعت کرو جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اللہ اور رسول ﷺ کی جانب رجوع کرو۔ (پارہ 5 ۔ رکوع 5 )

7 :۔اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے عمل کو باطل نہ کرو۔(پارہ 26 ۔ رکوع 8 ( 

8 :۔جس نے رسول کی اطاعت کی بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔(پارہ 5 ۔رکوع 8 ( 

9 :۔اے رسول ﷺ تم فرمادو کہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو ۔پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔(پارہ 3 ۔رکوع 12 ( 

10 :۔جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو، اور اللہ سے ڈرو ، بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے ۔(پارہ 28 ۔ رکوع4 ( 

11 :۔بے شک تمہیں رسول اللہ ﷺ کی پیروی بہتر ہے ۔(پارہ 21 ۔رکوع 19 ( 

مذکورہ بالا آیات قرآنی کی رُو سے اہل اسلام کے لیے رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی کا مرکز اطاعت اور مرجع اتباع ہونا واضح طور پر ثابت ہوگیا، لہذا اس اعتبار سے اب رسول ِخدا ﷺ کا ہر حکم ہمارے لئے اسی طرح واجب الاطاعت ہے جس طرح قرآن کے ذریعہ ہم تک پہنچنے والا کوئی حکم ِ خداوندی ہمارے لئے واجب الاطاعت ہے کیونکہ رسول ﷺ کا حکم بھی بالواسطہ خدا ہی کا حکم ہے ۔

ایک بنیادی سوال :

یہ بات ذہن نشین کرلینے کے بعد اب ایک بنیادی سوال پر غور فرمائیے اور وہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات میں رسول ِ خدا ﷺ کی اطاعت و اتباع کا جو باربار حکم دیا گیا ہے تو آیا یہ حکم رسول پاک ﷺ کی صرف حیات ظاہری تک ہے یا قیامت تک کے لیے ۔

اگر معاذاللہ اس حکم الٰہی کو رسول کی حیات ظاہری کے ساتھ خاص کردیا جائے تو دوسرے لفظوں میں اس کا صاف واضح مطلب یہ ہوگا کہ قرآن و اسلام پر عمل کرنے کا زمانہ بھی رسول ِ خدا ﷺ کی حیات ظاہری ہی تک محدود ہے اس لیے کہ رسول ِ خدا ﷺ کے فرمودات کی اطاعت اور آپ ﷺ کے افعال کی پیروی لازم ہی اس لیے تھی کہ بغیر اس کے قرآن و اسلا م کی تفصیلات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ممکن ہی نہ تھا لیکن جب قرآن و اسلام پر عمل در آمد کا حکم قیامت تک کے لیے ہے تو ثابت ہوا کہ رسول ِخدا ﷺ کا حکم بھی قیامت تک کے لیے ہے ۔

حدیث حجت ہونے پر ایک عظیم استدلال:

جب یہ بات طے ہوگئی کہ قرآن و اسلام پر عمل در آمد کا حکم قیامت ت کے لیے ہے اور یہ بھی طے ہوگئی کہ قرآن و اسلام کی تفصیلات کا علم اور ان پر عمل در آمد بغیر اطا عت رسول ﷺ کے ممکن نہیں ہے تو اس ضمن میں ایک دوسرا بنیادی سوال یہ ہے کہ لغت و عرف اور شریعت و عقل کی رو سے اطاعت ہمیشہ احکام کی ،کی جاتی ہے پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ آج رسول ِ خدا ﷺ کے وہ احکام کہاں ہیں جن کی اطاعت کا قرآن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کیونکہ احکام کے بغیر اطاعت کا مطالبہ سر تا سر عقل و شریعت کے خلاف ہے ۔پس جب آج بھی قرآن ہم سے اطاعت رسول ﷺ کا طالب ہے تو لازماََ آج ہمارے سامنے احکام رسول ﷺ کا ہونا بھی ضروری ہے ،اور ظاہر ہے کہ رسول ِخدا ﷺ کے احکام سے وہ احکام ہرگز نہیں مراد لیے جاسکتے جو خدا کی طرف سے قرآن مجید میں وارد ہوئے کیونکہ احکام ِخداوندی ہونے کی حیثیت سے ان کا واجب الاطاعت ہونا ہمارے لئے بہت کافی ہے ، اس لیے لامحا لہ ماننا پڑے گا کہ رسول ﷺ کے جن احکام کی اطاعت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ قرآن مجید میں وارد شدہ احکام ِ خداوندی کے علاوہ ہیں ۔

اتنی تمہید کے بعد یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں رہتی کہ رسول ِ پاک ﷺ کے احکام و ارشادات اور قرآن و اسلام کی تشریحات و تفصیلات کے مجموعہ کا نام مجموعہ ء احادیث ہے ، یہیں سے حدیث کی دینی ضرورت اور اس کی اسلامی حیثیت اچھی طرح واضح ہوگئی ، حدیث کی دینی اہمیت سے وہی شخص انکار کرسکتا ہے جو یک لخت اطاعت رسول ﷺ کا منکر ہو۔

نقلی و روایت کی ضرورت پر استدلال :

ملّت ِ اسلام کی جن مقدس ہستیوں کو رسول ِخدا ﷺ کے اعمال و افعال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور ان کے احکام و ارشادات کو اپنے کانوں سے سننے کے قابل رشک موقع حاصل تھا انھیں امور سے باخبر ہونے کے لیے نقل و روایت کے واسطوں کی مطلق ضرورت نہیں تھی ۔ لیکن بعد میں آنے والے جن افراد کو براہ راست اس کا موقع حاصل نہیں تھا انھیں اپنے رسول ﷺ کے اقوال و افعال سے باخبر ہونے کا ذریعہ سوائے نقل و روایت کے اور کیا تھا ؟

یہیں سے یہ سوال بھی حل ہوگیا کہ سرکار و الا تبار کے اقوال و افعال اور کوائف و احوال سے آنے والی امت کو باخبر کرنے کے لیے سلسلہ نقل و روایت کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔

پس اس امت کے جس افضل ترین طبقے نے سرکار ِ رسالت مآب ﷺ کو بذات خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور براہ ِ راست اپنے کانوں سے سنا وہ ’’ طبقہ ء صحابہ ‘‘ کے نام سے موسوم ہوا اور سرور کونین کے وصال شریف کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان نے جن لوگوں تک رسالت ِ مآب ﷺ سے متعلق اپنے مشاہدات ،مسموعات اور معلومات کا ذخیرہ پہنچایا وہ ’’ تابعین ‘‘ کہلائے ۔اور اس معزز طبقے نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذریعہ حاصل ہونے والے مشاہدات و مسموعات کا ذخیرہ جن لوگوں تک پہنچایا وہ تبع تابعین کے لقب سے ملقب ہوئے پھر اس طبقہ نے تابعین کرام کے ذریعہ حاصل کیے ہوئے اپنے زمانے کے لوگوں کو باخبر کیا یہاں تک کہ سینہ با سینہ سفینہ در سفینہ ، نسل در نسل اور گروہ در گروہ نقل روایات کا یہ مقدس سلسلہ آگے بڑھتا رہا تاکہ نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال ،احوال و کوائف اور ارشادات و تقاریرا ت کا وہ مقدس ذخیرہ احادیث کی ضخیم ضخیم کتابوں میں محفوظ ہوکر ہم چودہ سو سال بعد میں پیدا ہونے والے افراد ِامت تک پہنچایا ۔

پس رحمت و نور کی موسلا دھار بارش ہو راویان احادیث کے اس مقدس گروہ پر جس کے اخلاص و ایثار ، منت و احسان محنت و جفاکشی ، جاں نثاری و جگر سوزی ، پیہم سفر ، جنون انگیز مہم ، لگاتار قربانی اور سعی مسلسل کے ذریعہ آقائے کونین ﷺ کی جلوہ ریز و عطر بیز زندگی کا ایک شفاف آئینہ ہمیں میسر آیا۔

اتنا شفاف کہ چشم عقیدت کرتے ہی اس عہد ِ فرخندہ فال میں پہنچ جائیے جہاں قدم قدم پر شہپر ِ جبریل کی آواز سنائی دیتی ہے ۔آفتاب نیم روز کی بات کیا کہیے کہ رات کو بھی جلووں کا سویرا ہے ، ہر طرف ملکوتیوں کا ڈیرا ہے ، آسمانوں کے پٹ کھلے اور بند ہوئے افلاکیوں کے نوارانی قافلے اترے اور چلے گئے عرش سے فرش تک انوار و تجلیات کا تانتا بندھا ہوا ہے جلوئوں کی بارش سے طیبہ کی زمین اتنی نم ہوگئی ہے کہ نچوڑے تو کوثر کا دھارا پھوٹ پڑے ، کشور رسالت کے سلطان اعظم کبھی صحن ِ مسجد میں ہیں ، کبھی حجرہ ء عائشہ رضی اللہ عنہا میں کبھی اپنے سرفروش دیوانوں کا قافلہ لیے ہوئے وادیوں ، کہساروں اور ریگ زاروں سے گزر رہے ہیں کبھی گریہ و مناجات کے خلوت کدوں میں امت کی فیروزبختی کا مقدر سنواررہے ہیں ، کبھی فرط غم سے آنکھیں نم ہوگئیں ، کبھی جاں نواز تبسم سے غنچے کھِلا دیے ، گلستانوں کی طرف نکل گئے تو خرام ِ ناز کی نگہتوں سے راستے مہک اٹھے اور اب کاشانہ ء رحمت میں جلوہ فگن ہیں تو ہر طرف طلعت زیبا کا اجالاہے ،ابھی بزم عاشقاں میں حقائق و معار ف کے گوہر لٹارہے ہیں اور اب دیکھیے تو معرکہ کازار میں جاں نثار کوعیش جاوداں کی بشارت دے رہے ہیں ۔

غرض حدیث کی کتابوں کا جو ورق الٹئے نقوش و حروف کے آئینے میں سرکا ر ِ والا تبار کی زندگی کا ایک ایک خدوخال نظر آتا ہے جن نا مرادوں کے قلوب عشق ِ رسالت ﷺ کی نعمت کبریٰ سے محروم کردیئے گئے ہیں وہ جلوہ محبوب کے اس آئینہ جمال و کمال کو توڑ بھی دیں تو انھیں اس کا قلق ہی کیا ؟ کہ پہلو میں محبت آشنا دل ہی نہیں لیکن ان درد مندانِ عشق اور وارفتگان آرزوئے شوق سے پوچھیے جو خاک طیبہ کو صرف اس جذبہ محبت میں اپنی آنکھوں سے لگالیتے ہیں کہ شاید پائے حبیب ﷺ سے یہ مس ہوگئی ہو کہ احادیث کی کتابوں میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور تسکین قلب کا کیا کیا سامان ہیں ۔ ؔ 

عاشق نہ شنیدی محنت الفت نہ کشیدی 

کس پیش تو غم نامئہ ہجراں چہ کشاید

::داستان شوق کا آغاز اور اس کا اہتمام ::

روایت حدیث کا یہ سارا سلسلہ جن حضرات پر منتہی ہوتا ہے وہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا مقدس طبقہ ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے وہی مشاہد حقیقی ، ناقل اوّل اور شب و روز کے حاضر باش ہیں ،اگر ان بزرگوں نے اپنی معلومات و مشاہدات کا ذخیرہ دوسروں تک نہ پہنچایا ہوتاتو روایت حدیث کے ایک عظیم فن کی بنیاد ہی کیوں پڑتی ۔بزم شوق کی اس داستان لذیز سے چودہ سو برس کی دنیا کیا با خبرہوتی کہ نرگس کے چشم محرم کو بھی جلووں کا سراغ نہ ملتا ۔ معارف و تجلیات کا چشمہ فیض جہاں پھوٹا تھا وہ منجمد ہوکے رہ جاتا۔آخر ایک قرن کی بات دوسرے قرن میں پہنچی کیسے ؟اگر سننے اور دیکھنے والوں نے پہنچانے کا اہتمام نہیں کیا تھا ، اس راہ میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے جذبہ اشتیاق کی تفصیل معلوم کرنے کے بعد معمولی عقل و فہم آدمی بھی اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ اس کام کو دین کا بنیادی کام سمجھتے تھے جیسا کہ دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ جب تک اس خاکدان ِ گیتی کو سرکار پر انوار ﷺ کے وجود ظاہری کی برکتوں کا شرف حاصل رہا پروانوں کے دستے ہر وقت دربار گہر بار میں سراپا اشتیاق اور گوش برآواز رہا کرتے کہ کب وہ لب ہائے جاں نواز کھلیں اور ارشادات طیبات کے گل ہائے نور سے دل کی انجمن کو معطر کریں اور اتنا ہی نہیں بلکہ حاضر باش رہنے والوں سے اس کا بھی عہد و پیمان لیا جاتا کہ وہ غیر حاضر رہنے والوں تک دربار نبوت ﷺ کی ساری سرگزشت پہنچا دیا کریں ۔

جیسا کہ حاکم الحدیث حضرت حافظ نیشا پوری رضی اللہ عنہ ، حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اسی سلسلے میں ایک حدیث روایت کرتے ہیں ۔ صحابی موصوف کے الفاظ یہ ہیں ۔

ماکان الحدیث سمعناہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنا مستغلین فی ریایۃ الابل واصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانوا یطلبون مایفو تھم سماعہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیسمعونہ من اقرانہ و ممن ھوا حفظ منھم (معرفۃ علوم الحدیث صفحہ 14 )

ترجمہ ::ہم لوگوں کو تمام احادیث کی سماعت حضور ﷺ سے نہیں ہوپاتے تھی ، ہم اونٹوں کی دیکھ بھال میں بھی مشغول رہتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضور ﷺ سے جس حدیث کی سماعت فوت ہوجاتی تھی اس کو اپنے ہم عصروں اور زیادہ یاد رکھنے والوں سے سن لیا کرتے تھے ۔ (معرفۃ علوم الحدیث صفحہ 14 )

:: عہد صحابہ میں راویان حدیث کے مواقع ::

دین کو اپنی تفصیلات و تشریحات کے ساتھ اہل اسلام تک پہنچانے کے لیے صحابہ کرام کے درمیان احادیث کی نقل و روایت کا شب وروز یہ معمول تو تھا ہی اس کے علاوہ بھی بہت سے مواقع اس طرح کے پیش آتے تھے جبکہ کسی خاص مسئلے میں قرآن کا کوئی صریح حکم نہ ملتا تو مجمع صحابہ سے دریافت کیا جاتا کہ اس مسئلہ کے متعلق سرکار ﷺ کی کوئی حدیث کسی کو معلوم ہو تو بیان کرے ۔

چنانچہ یہی حافظ نیشا پوری حضرت ابن ذویب رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں ::

قال جا ء ت الجدۃ فی عھد ابی بکر رضی اللہ عنہ تلتمس ان تورث فقال ابوبکر ما اجد لک فی کتاب اللہ شیئاََ حتّٰی اسا ء ل الناس العیشۃ فلما صلی الظھر قام فی الناس یساء لھم فقال المغیرۃ بن شعبۃ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ یعطیھا السدس ( معرفۃ علوم الحدیث )

ترجمہ :: ا نھوں نے بیان کیا کہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ایک دادی ان کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ چاہتی تھی کہ اسے پوتے کی میراث میں سے کچھ حصہ دیا جائے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید میں تیرا کوئی حصہ میں نہیں پاتا ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تیرے بارے میں کچھ فرمایا ہے ، جب اس نے اصرار کیا تو فرمایا کہ اچھا ٹھہرو میں شام کو لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کروں گا ،جب ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے اس کے متعلق دریافت کیا اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ وہ دادی کو چھٹا حصہ دیتے تھے ۔

واقعہ کی تحقیق کا ایک عظیم نکتہ ::

بات اتنے ہی پر نہیں ختم ہوگئی ، راوی کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ ابن شعبہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرکے جب بیٹھ گئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دوبارہ کھڑے ہوئے ، اب باقی حصہ واقعہ راوی کی زبان سنیے ::

فرماتے ہیں ::

قال ابوبکر رضی اللہ عنہ اسمع ذلک معک احد فقام محمد بن مسلمۃ فقال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعطیھا السدس ( معرفۃ علوم الحدیث ) 

ترجمہ ::حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات تمہارے ساتھ کسی اور نے بھی سنی ہے ؟ اس سوال پرحضرت محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے بیان کیا کہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ وہ دادی کو چھٹا حصہ دیتے تھے ۔

اللہ اکبر !! جانتے ہیں حضرت ابوبکر کا یہ سوال اسمع ذلک معک احد (یہ بات تمہارے ساتھ کسی اور نے بھی سنی ہے ؟ ) یہ سوال کس سے ہے ؟ یہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ جن کا شمار اجلہء صحابہ میں ہے اور جن کی دیانت و تقویٰ اور امانت و راستی کی قسم کھائی جاسکتی ہے لیکن یہیں سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث کی توثیق و تصدیق کے لیے حجت و وجوب احکام میں موثر نہ ہوتی تو حدیث کی توثیق و تصدیق کے لیے اتنا اہتمام کیوں کیا جاتا اور یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ بیان کرنے والے ایک سے دو ہوجائیں تو بات کا ثبوت نقطہ کمال کو پہنچ جاتا ہے ۔

کسی واقعہ کی خبر ایک ہی آدمی کی زبانی سنی جائے اور وہی خبر متعدد آدمیوں خے ذریعہ موصول ہو تو دونوں میں یقین و اعتماد کا کیفیت کا جو فرق ہے وہ محتاج بیان نہیں ،حضور ﷺ کی حدیث شریف کے متعلق اپنے علم و یقین اور نقل و روایت کے اعتماد کو نقطہ کمال پرپہنچانے کے لیے صحابہ کرام کے یہاں سے اس طرح کا اہتمام ہمیں قدم قدم پر ملتا ہے ۔

:: ایک ایمان افروز واقعہ :: 

حاکم الحدیث حضرت حافظ نیشاپوری رضی اللہ عنہ نے مشہور صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک نہایت رقت انگیز واقعہ بیان کیا ہے ، کہ حضور اکرم ﷺ سے ایک حدیث انھوں نے سنی تھی اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس حدیث کے سننے والوں میں مشہور صحابی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، حضور ِ پاک ﷺ کے وصال کے بعد جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا اور مصر و شام اور روم و ایران پر اسلامی اقتدار کا پرچم لہرانے لگا تو بہت سے صحابہ حجاز مقدس سے مفتوحہ ممالک میں منتقل ہوگئے ، انہی لوگوں میں حضرت عقبہ بن عامر بھی تھے جو مصر گئے اور وہیں سکونت پذیر ہوگئے ۔

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو شدہ شدہ کسی طرح معلوم ہوگیا کہ جو حدیث میں نے حضور پاک ﷺ سے سنی ہے اس کے سننے والوں میں حضرت عقبہ بن عامر بھی ہیں ،تو صرف اس بات کا جذبہ اشتیاق کشاں کشاں انھیں مدینے سے مصر لے گیا کہ حضرت عقبہ بن عامر سے اس بات کی توثیق کرکے وہ یہ کہہ سکیں کہ اس حدیث کے 2 راوی ہیں ایک میں ہوں دوسرے عقبہ بن عامرہیں ،

ان کے اس والہانہ سفر کا حال بھی بڑا ہی رقت انگیز اور روح پرور ہے فرماتے ہیں کہ جذبہ شوق کی ترنگ میں کہساروں ، وادیوں ، اور دریائوں کو عبور کرتے ہوئے وہ مصر پہنچے کبر سنی کا عالم ، دشوار گزار سفر، لیکن وارفتگی شوق کے بے خودی میں نہ بڑھاپے کا اضمحلال محسوس ہوا نہ راستے کی دشواریاں حائل ہوئیں ، شب و روز چلتے رہے ،مہینوں کی مسافت طے کرکے جب مصر پہنچے تو سیدھے مصر کے گورنر حضعر مسلمہ بن مخلد انصاری کی رہائش گاہ پر نزول اجلال فرمایا م،امیر مصر نے مراسم تعلقات کے بعد دریافت کیا ::

ما جا ء ربک یا ابا ایوب ؟ کس غرض سے تشریف لانا ہوا ابو ایوب ؟ 

جواب ارشاد فرمایا ::

حدیث سمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یبق احدا سمعہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ غیری وغیر مقبہ بن عامر فا بعث من ید لنی علی منزلہ ( معرفۃ علوم الحدیث )

ترجمہ :: رسول پاک ﷺ سے میں نے ایک حدیث سنی ہے اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس حدیث کے سننے والوں میں میرے اور عقبہ بن عامر کے سوا اب کوئی اس دنیا میں موجود نہیں ، پس میرے ساتھ ایک ایسا آدمی لگادو ،جو مجھے ان کے گھر تک پہنچادے۔

یعنی مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس میں اس لیئے نہیں آیا ہوں کہ تم سے ملنا مقصود تھا بلکہ صرف اس لئے آیا ہوں کہ تم حضرت عقبہ بن عامر کے گھر تک میرے پہنچادینے کا انتظام کردو۔

ایک گدائے عشق کی ذرا شان ِ استغنا ملاحظہ فرمائیے کہ گورنر کے دروازے پر گئے ہیں لیکن ایک لفظ بھی اس کے حق میں نہیں فرماتے ۔

راوی کا بیان ہے کہ والئی مصرنے ایک جانکار آدمی ساتھ کردیا جو انھیں حضرت عقبہ بن عامر کے دولت کدہ تک لے گیا۔معانقہ کے بعد انھوں نے پہلا سوال یہی کیا :: ماجاء بک یا ابا ایوب ؟ کس غرض سے تشریف لانا ہوا ابو ایوب ؟ جواب میں فرمایا ::

حدیث سمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یبق احد سمعہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم غیری و غیرک فی سترا لمومن قال عقبۃ نعم سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ یقول من ستر مومنا علی خزینۃ ستر اللہ یوم القیامۃ فقال ابو ایوب صدقت ۔

ترجمہ ::ایک حدیث میں نے رسول پاک ﷺ سے سنی ہے اوراس کا سننے والا میرے اور آپ کے سوا اب کوئی دنیا میں موجود نہیں ہے اور وہ حدیث مومن کی پردہ پوشی کے بارے میں ہے ، حضرت عقبہ نے جواب دیا ہاں ! حضور اکرم ﷺ سے میں نے یہ حدیث سنی ہے کہ جو کسی رسوائی کی بات پر مومن کی پردہ پوشی کرتا ہے کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائیگا۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ نے سچ کہا یہی میں نے بھی سنا ہے ۔

اس کے بعد بیان کرتے ہیں ::

ثم انصراف ابو ایوب الی راحلتہ فر کبھارا جعا الی المدینۃ ۔

ترجمہ :: اتنا سن کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنی سواری کے پاس آئے ، سوار ہوئے اور مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے۔

گویا مصر کے دور دراز سفر کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ اپنے کان سے سنی ہوئی بات دوسرے کی زبان سے سن لیں ۔حدیث دوست کی لذت شناسی کا یہی وہ جذبہ ء شوق تھا جس نے مذہب اسلام کو مذہب عشق بنادیا ۔حضرت امام حافظ نیشاپوری نے واقعہ کے خاتمہ پر رقت و گداز میں ڈوباہوا اپنا یہ تاثر سپردِقلم کیا ہے ۔ لکھتے ہیں ::

فھذاابو ایوب انصاری علی تقدم صحبتہ و کثرۃ سماعہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحل الی صحابی من اقرانہ فی حدیث واحد۔ ( معرفۃ علوم الحدیث )

ترجمہ :: یہ ابو ایوب انصاری ہیں جو صحابیت میں اقدم اور حضور ﷺ سے کثیر الروایۃ ہونے کے باوجود صرف ایک حدیث کے لیے اپنے معاصر سے ملنے گئے اور دور دراز کا سفر کیا ۔

ایک اور دیوانہ شوق ::

اسی طرح ایک اور واقعہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں امام نیشا پوری نے نقل کیا ہے۔

بات یہاں سے چلی ہے کہ اپنے وقت کے ایک عظیم محدث حضرت عمر و بن ابی سلمہ ، امام الحدیث حضرت امام اوزاعی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں چار سال رہے اور طویل عرصے میں انھوں نے صرف تیس حدیثیں ان سے سماعت فرمائیں ،ایک دن وہ حضرت امام اوزاعی سے بڑی حسرت کے ساتھ کہنے لگے ::

انا الزمک منذ اربعۃ سنوات ولم اسمع منک الا ثلاثین حدیثا ۔ ترجمہ :: آ پ کی خدمت میں رہتے ہوئے مجھے چار سال ہوگئے لیکن اس طویل عرصے میں صرف تیس 30 حدیثیں میں آپ سے حاصل کرسکا ۔

امام اوذاعی نے جواب میں ارشاد فرمایا ::

وتستقل ثلاثین حدیثا فی اربعۃ سنوات ولقد سار جابر بن عبد اللہ الی مصر و اشتری راحلۃ فر کبھا حتی سال عقبۃ بن عامر عن حدیث واحد وانصرف الی المدینۃ ۔(معرفۃ علوم الحدیث صفحہ 9 )

ترجمہ ::چار سال کی مدت میں تیس حدیثوں کا ذخیرہ تم کم سمجھ رہے ہو حالانکہ حضرت جابر بن عبد اللہ نے صرف ایک حدیث کے لیے مصر کا سفر کیا ۔سواری خریدی ،اور اس پر سوار ہوکر مصر گئے اور حضرت عقبہ بن عامر سے ملاقات کرکے مدینہ واپس لوٹ گئے ۔

مطلب یہ ہے کہ چار سال کی مدت میں تیس احادیث کی سماعت کو بھی غنیمت جانو کہ ایک عظیم نعمت تمھیں کم سے کم مدت میں حاصل ہوگئی ورنہ عہد صحابہ میں تو صرف ایک حدیث کے لیے لوگ دور دراز ملکوں کا سفر کرتے تھے ، پس ایک حدیث پر دو مہینے کی مدت بھی اگر صَرف ہوتی تو آپ حساب لگالو کہ تیس احادیث کے لیے کتنی مدت چاہیے تھی۔

بلکہ حافظ نیشا پوری کی تصریح کے مطابق عہد صحابہ میں طلب حدیث کے لیے سفر اتنا لازم تھا کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے ، لطالب العلم یتخذ نعلین من حدید ( معرفۃ صفحہ 9 ) یعنی طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے لوہے کے جوتے تیار کرائے تاکہ بغیر کسی زیر باری کے ساری عمر وہ طلب حدیث میں سفر کرتا رہے۔

سلسلہ روایت کی تقویت کے اسباب ::

عہد صحابہ میں سلسلہ روایت کی تقویت کے لیے جہاں راویوں کی کثرت تعداد کو اہمیت دی جاتے تھی ، وہاں نقل و روایت کی صحبت جانچنے اور اسے یقین کی حد تک پہنچانے کے لیے اور بھی طریقے رائج تھے ، مثال کے طور پر حضرت مولائے کائنات علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے ::

اذا فاتہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث ثم سمعہ من غیرہ یحلف المحدث الذی یحدث بہ ۔ (معرفۃ صفحہ 9 )

ترجمہ :: جن ان کو کسی حدیث کی سماعت حضور ﷺ سے فوت ہوجاتی تو دوسرے راوی سے حدیث کی سماعت فرماتے لیکن اس سے قسم لیا کرتے تھے۔

یہ بیان کے بعد حضرت نیشا پوری تحریر فرماتے ہیں::

وکذلک جماعۃ من الصحابۃ والتا بعین و اتباع التابعین ثم عن ائمۃ المسلین کانو ا یبحثون وینقرون عن الحدیث الی ان یصح لھم ۔ ( معرفۃ صفحہ15 )

ترجمہ :: یہی حال صحابی ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ مسلمین کا تھا کہ وہ حدیث کے بارے میں بحث و کرید کیا کرتے تھے ،یہاں تک کہ ان کو حدیث کی صحبت کا یقین ہوجاتا۔

روایت حدیث کا فن اپنی جس عظیم خصوصیت کی باعث سارے جہان میں منفرد ہے وہ یہ ہے کہ کسی واقعہ کی نقل و روایت کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ نفسِ واقعہ بیان کردیا جائے بلکہ بیان واقعہ سے پہلے ناقل کے لیے یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ اس واقعہ کا علم اسے کیونکر ہوا ۔کتنے واسطوں سے وہ بات اس تک پہنچی اور وہ کون لوگ ہیں ، ان کے نام و نشان کیا ہیں ان کی عمر کیا ہے ، وہ کہاں کے رہنے والے ہیں ، دیانت و تقویٰ ، راست گفتاری ، حسن اعتقاد ، قوت حافظہ ، عقل و فہم اور فکر و بصیرت کے اعتبار سے ان کے حالات کیا ہیں ۔اسی کو اصطلاح حدیث میں اسناد کہتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ اصحاب حدیث کے یہاں اسناد اتنی ضروری چیز ہے کہ اس کے بغیر ان کے یہاں کوئی بات قابل اعتماد نہیں ہوتی ۔۔۔ !

یہاں تک کہ حضرت نیشاپوری نے حضرت عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ::

السناد من الدین ولولا السناد لقال من شاء ما شاء ۔ اسناد دین کا حصہ ہے اگر اسناد نہ ہوتی تو جس کے دل میں جو آتا کہتا۔

اسی ضمن میں حضرت حافظ نیشا پوری نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ابن ابوفروہ نامی کسی شخص نے حضرت امام زہری رضی اللہ عنہ سے بغیر کسی اسناد کے حضور ﷺ کی ایک حدیث بیان کی ، اس پر امام زہری نے آزردہ ہوکر فرمایا۔

قاتلک اللہ یا ابن ابی فروۃ ما اجرء ا ک علی اللہ ان لا تسند حدیثک ، تحد ثنا باحادیث لیس لھا خُطُم ولا ازمۃ۰(معرفۃ الحدیث صفحہ 6 )

ترجمہ :: اے ابو فروہ ! تجھ کو اللہ تباہ کرے تجھ کو کس چیز نے اللہ پر جری کردیا ہے ، کہ تیری حدیث کی کوئی سند نہیں ہے تو ہم سے ایسی حدیثیں بیان کرتا ہے کہ جن کے لیے نہ نکیل ہیں نہ لگام ۔

اصول نقد حدیث ::

اس سلسلے میں حاکم الحادیث حضرت امام نیشاپوری نے احادیث کی صحت کو پرکھنے کے لیے جو ضابطہ نقل فرمایا ہے وہ قابل مطالعہ ہے ، اس سے بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ احادیث کو اغلاط کی آمیزش سے محفوظ رکھنے کے لیے کیسی کیسی منصوبہ بند تدبیریںعمل میں لائی گئیں ہیں ، فرماتے ہیں ۔

وما یحتاج طالب الحدیث فی زماننا ھذا ان یبحث عن احوال المحدث اولا یعتقد الشریعۃ فی التوحید وھل یلزم نفسہ طاعۃ الانبیاء والرسل صلی اللہ علیھم۔ثم یتامل حالہ ھل صاحب ھویٰ یدعو الناس الی حواہ فان الداعی الی البدعۃ لایکتب عنہ ثم یتعرف سنہ ھل یحتمل سماعہ من شیوخہ الذین ین یحدث عنھم ثم یتامل اصولہ ۔ ( معرفۃ علوم الحدیث صفحہ 16 )

ترجمہ :: ہمارے زمانے میں ایک طالب حدیث کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ محدث کے حالات کی تفتیش کرے کہ آیا وہ توحید کے بارے میں شریعت کا معتقد ہے ؟ اور کیا انبیاء کرام علیہم السلام کی اطاعت اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے ، پھر اس کی حالت پر غور کرے کہ وہ بدمذہب تو نہیں کہ لوگوں کو اپنی بدمذہبی کی طرف دعوت دے رہا ہو۔کیونکہ بدعت کی طرف بلانے والے سے کوئی حدیث نہیں لی جائے گی ، پھر اس محدث کی عمر معلوم کرے کہ اس کی سماع ان مشائخ سے ممکن ہے کہ جن سے وہ حدیث بیان کررہا ہے پھر اس کے اصول پر غور کرے ۔

تاریخ تدوین حدیث ::

فن حدیث کے محاسن و فضائل اور اس کے متعلقات اور موجبات پر قلم اٹھانے سے پہلے یہ بتا دینا نہایت ضروری ہے کہ عہد صحابہ سے لے کر آج تک حدیثوں کی تدوین اور جمع و ترتیب کا کام کیونکر عمل میں آیا ۔۔۔۔۔؟

اس اجمال کی شرح یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا عہد پرنور جو نزول قرآن کا زمانہ ہے ، اس عہد پاک میں چونکہ آیات قرآنی کے تحفظ کا کام سب سے اہم تھا اس لیے حضور پاک ﷺ نے صحابہ کرام کو تاکید فرمائی کہ وہ صرف آیات قرآنی کو قلمبند کیا کریں ، احادیث کو قید و تحریر میں نہ لائیں تاکہ آیات قرآنی کے ساتھ کسی طرح کا التباس نہ ہو ۔ البتہ اس امر کی اجازت تھی کہ زبانی طور پر احا دیث کی روایت و نقل میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔۔ جیسا کہ حضرت امام مسلم رضی اللہ عنہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ناقل ہیں ، حدیث کے الفاظ یہ ہیں 

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تکتبو عنی ومن کتب غیر القراٰن فلیمحہ وحدثو ا عنی ولا حرج ومن کذب علی متعمد افلیتبوا ء مقعدہ من النار ۔ (مسلم شریف )

ترجمہ :: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص میری حدیث نہ لکھے اور جس نے قرآن کے سوا کچھ لکھا ہو تو اسے مٹادے اور میری حدیثیں زبانی بیان کرے، کوئی حرج نہیں اور جس نے میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کی تو اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنائے۔

لیکن اسی کے ساتھ بعض وہ صحابہ جنھیں اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ قرآنی آیات کے ساتھ احادیث مغلوط نہیں ہونے دین گے ، وہ اپنے طور پر حدیثوں کو بھی قلمبند کرلیا کرتے تھے ، جیساکہ حضرت امام بخاری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ::

عن ابو ھریرۃ قال مامن احد من اصحاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکثر حدیثا عنہ منی الامکان من عبد اللہ بن عمر فانہ کان یکتب وانا لا اکتب ۰ ( بخاری شریف ) 

ترجمہ :: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں کوئی مجھ سے زیادہ حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا مگر عبد اللہ بن عمر ، کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا ۔

جب کاغذ کے ٹکڑوں ، ہرن کی جھیلوں ، کھجور کے پتوں اور الواح قلوب میں بکھری ہوئی قرآن مجید کی آیتیں عہد فاروقی سے لیکر عہد عثمانی تک کتابی شکل میں ایک جگہ جمع کردی گئیں، اورساری دنیا میں اس کے نسخہ پھیلا دیے گئے ، اور احادیث کے ساتھ آیات قرآنی کے التباس و اختلاط کا کوئی اندیشہ نہیں رہ گیا ،تو حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے ایما پر احادیث کی تدوین اور تصنیف و کتابت کا کام باضابطہ شروع ہوا ۔

جیسا کہ حضرت امام سیوطی علیہ الرحمہ کی الفیہ کی شرح میں مقدمہ نویس نے لکھا ہے ان کے الفاظ یہ ہیں ::

فلما افضت الخافۃ الی عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ فی عام ۹۹ تسع و تسعین من الھجرۃ کتب الی ابی بکر بن حزم وھو شیخ معمر واللیث والاوزاعی و مالک وابن سحٰق وابن ابی ذئب وھو نائب عمر بن عبد العزیز فی القضاء علی المدینۃ یقول لہ انظر ماکان من حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاکتبہ فانی خفت دروس العلم وذھاب العلماء ( مقدمہ شرح الفیہ صفحہ 5 )

ترجمہ :: 99 ؁ھ میں جب حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو آپ نے ابوبکر بن حزم کولکھا جو معمر ، لیث ، اوزاعی ، مالک ، ابن اسحاق اور ابن ابو ذئب کے شیخ تھے ۔ اور مدینہ منورہ میں محکمہ قضا میں خلیفہ نائب تھے ان سے حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ جو حدیث بھی حضور ﷺ کی ملے اسے لکھ لو اس لیے کہ مجھ کو علم کے مٹنے اور علماء کے چلے جانے کا خوف ہے ۔

اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے متعلق یہاں تک نقل کیا گیا ہے ::

انہ کتب الی اھل الافاق انظر وا الی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نا جمعوہ ۰ ( تاریخ اصفہان لابی النعیم )

ترجمہ :: ا نھوں نیااطراف و جوانب میں لکھا کہ حضور ﷺ کی کوئی حدیث پائو تو اسے جمع کرلو ۔

حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کی تحریک پر فن حدیث میں سب سے پہلی کتاب حضرت ابن حزم رضی اللہ عنہ نے تصنیف فرمائی ، اس کے بعد حدیث کی کتابوں کی تصنیف و تالیف اور جمع و ترتیب کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔مختلف شہروں میں مختلف بزرگوں نے حدیث میں بہت سی کتابیں تصنیف فرمائیں ۔

صاحب شرح الفیہ نے نہایت تفصیل کے ساتھ بقیہ مقام ان بزرگوں کے نام لکھے ۔

منھم ابن جریع بمکۃ وابن اسحاق و مالک بالمدینۃ والربیع بن صبیح و سعید بن عروہ و حماد بن سلمۃ بالبصرۃ و سفیان ثوری بالکوفۃ و الا وزاعی بالشام و ھشام بواسط ومعمر بالیمن و جریر بن عبد اللہ بالری وابن المبارک بخر اسان ۰(مقدمہ شرح الفیہ )

ترجمہ :: ان میں ابن جریح مکہ میں ابن اسحاق اور مالک مدینہ میں ، ربیع بن صبیح ، سعید بن عروہ ، اور حماد بن مسلمہ بصرہ میں ، سفیان ثوری کوفہ میں ۔ اوزاعی شام میں ، ہشام واسط میں ،معمر یمن میں ، جریر بن عبد اللہ رَے میں ، اور ابن المبارک خراسان میں تھے ۔ رضی اللہ عنہم 

اس کے بعد لکھتے ہیں ::

کلھم فی عصر واحد ومن طبقۃ واحدۃ واکثر ھم من تلامذۃ ابی بکر بن حزم وابن شھاب الزھری 

( مقدمہ شرح الفیہ )

ترجمہ :: یہ سب کے سب ایک ہی زمانہ میں ایک ہی طبقے کے تھے اور ان میں کے اکثر حضرت ابو بکر بن حزم اور ابن شہاب زہری کے شاگرد تھے۔

اس کے بعد تصنیف و تالیف اور مختلف حلقہائے درس کے ذریعہ احادیث کی نشر و اشاعت کا سلسلہ آگے بڑھتا گیا ، روایتوں کے قبول ورد کے اصول راویوں کے اوصاف و شرائط اور اس فن کے آداب و لوازم پر ضوابط و دساتیر کی تشکیل عمل میں آئی اور اصول حدیث کے نام سے علم و فکر کی دنیا میں ایک نئے فن کا آغاز ہوا ۔

اصول و شرائط کے سخت سے سخت معیار پر احادیث کی نئی نئی کتابیں لکھی گئیں یہاں تک کہ آج اس فن کی جملہ تصنیفات میں صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، جامع ترمذی ، سنن ابودائود ، سنن ابو ماجہ اور سنن نسائی بہت مشہور اور متداول بین الناس ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سطور بالا میں حدیث کی دینی ضرورت ، اس کی علمی اور فنی ثقاہت اور اس کی تاریخی عظمت و انفرادیت پر کافی روشنی پڑچکی ہے ، جن پاک طینت مسلمانوں کو اسلام و قرآن عزیز ہے اور جو اپنے آپ کو اسی امت مسلمہ کا ایک فرد سمجھتے ہیں جو چودہ سو برس سے اپنی متوارت روایات اور مربوط دینی و فکری تہذیب کے ساتھ زندہ و تابندہ ہے تو انھیں حدیث پر اعتماد کرنے کے لیے کسی دلیل کی قطعاََ ضرورت نہیں ہے۔

البتہ جو لوگ کہ ازراہ انفاق حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اپنی اس شقاوت کو چھپانے کے لیے قرآن کا نام لیتے ہیں ، اگر مجھے وقت کی تنگی کا عذر نہ پیش آجاتا تو میں قابلِ وثوق شہاد توں کے ساتھ آفتاب نیم روز کی طرح یہ ثابت کر دکھاتا ۔ کہ ان کے یہاں حدیث کا انکار قرآن کے پیروی کے جذبے میں نہیں بلکہ قرآن کی پیروی سے بچنے کے لیے ہے ۔

حدیث کے انکار سے ان کا اصل مدعا ہے کہ کلام خداوندی کے مفہوم کا یقین ان کی ذاتی صواب دید پر چھوڑ دیا جائے تاکہ آیات الہٰی کا مفہوم مسخ کرکے بھی وہ قرآن کی پیروی کا دعویٰ کرسکیں ۔

دعا ہے کہ مولیٰ تعالیٰ منکرین حدیث کے فتنہ سے اہل ایمان کو محفوظ رکھے اور انھیں توفیق دے کہ وہ حدیث کی روشنی پھیلا کر عالم کا اندھیرا دور کریں ۔

وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ و صحبہ و حزبہ اجمعین ۰۰

ازافادات ::

علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ

والسلام ::

سلیمان سبحانی