::: رُویتِ ہلال :::

(1 ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاتَصُوْمُوْ حَتّٰی تَرَوُالْھِلَالِ وَالَا تُفْطِرُوْ حَتّٰی تَرُوْہُ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدِرُوْا لَہٗ وَفِیْ رِوَایَۃِِ قَالَ الشَّھْرُ تِسْعْٗ وَّ عِشْرُوْنَ لَیْلَۃََ فَلاَ تَصُوْمُوْ حَتّٰی تَرَوْہٗ فَاِنَّ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَکْمِلوْا الْعِدَّۃَ ثَلٰثِیْنَ۰

یعنی :: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار نہ کرو ۔اور اگر ابر یا غبار ہ ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو (تیس(30 ) دن کی)مقدار پوری کرلو ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مہینہ کبھی انتیس (29 ) دن کا ہوتا ہے پس تم جب تک چاند نہ دیکھ کو روزہ نہ رکھو اور اگر تمہارے سامنے ابر یا غبار ہوجائے تو تیس (30 ) دن کی گنتی پوری کر لو ۔(بخاری ۔مسلم)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’ قول منجمین نا مقبول ونا معتبر ست در شرع و اعتماد بر آں نہ تو ان کردو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و اصحاب و اتباع رضی اللہ عنہم و سلف و خلف رحمۃ اللہ علیہم بداں عمل نمودہ اندوا اعتبار نہ کردہ اند۔۔یعنی شرع میں نجومیوں کا قول نا مقبول و غیر معتبر ہے اس پر بھروسہ نہیں کرسکتے ۔اور حضور اکرم ﷺ ، صحابہ کرام و تابعین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔نیز سلف و خلف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ اعتبار فرمایا۔

(2 ) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صُوْ مُوْ لِرُ وئْ یَتِہٖ وَافْطِرُوْ لِرُئوْ یَتِہٖ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَکْمِلُوْ اعِدَّۃَ شَعْبَانَ ثَلٰثِیْنَ۰

یعنی :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر ابر ہو تو شعبان کی گنتی تیس (30 ) پوری کرو ۔ (بخاری۔ مسلم )

(3 ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِِ قَالَ جَائَ اَعْرَابِیُّ اِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنِّیْ رَأَیْتُ الْھِلَالَ یعْنِی ھِلَالَ رَمَضَانَ فَقَالَ اَتَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ قَالَ نَعَمْ۔قَالَ اَتَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدََ ارَّسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ یَابِلَالُ اَذِّنْ فِیْ النَّاسَ اَنْ یَصُوْ مُوْ غَدََا۰

یعنی :: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک اعرابی نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرما یا کیا توگواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، عرض کیا ہاں ! فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ،اس نے کہا ہاں ! حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے بلال ! لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں ۔(ابوئود ۔ترمذی ۔نسائی)

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’ دریں حدیث دلیل ست بر آنکہ یک مرد مستور الحال یعنی آنکہ فسق او معلوم نہ باشد مقبول ست خبر دے درماہ رمضان وشرط نیست لفظ شہادت۔ یعنی اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ ایک مرد مستور الحال یعنی جس کا فاسق ہونا ظاہر نہ ہواس کی خبر ماہ رمضان میں مقبول ہے لفظ شہادت کی شرط نہیں ۔(اشعۃ اللمعات جلد دوم صفحہ 79 )

انتباہ ::

(1 ) چاند کے ثبوت کی چند صورتیں ہیں ۔

اول :۔ چاند کی خبر ۔ 29 شعبان کو مطلع صاف نہ ہو تو ایک مسلمان مرد یا عورت عادل یا مستور الحال کی خبر سے رمضان المبارک کا چاند ثابت ہوجائے گا ، اور مطلع صاف ہوجانے کی صورت میں باوصاف مذکورہ ایک شخص کا آبادی سے باہر کھلے میدان میں یا بلند مکان پر سے دیکھنا کافی ہے ورنہ ایک کثیر جماعت چاہیے جو اپنی آنکھ سے چاند کا دیکھنا بیان کرے ، باقی گیارہ مہینوں کے چاند کے لیے مطلع صاف نہ ہونے کی صورت میں دو (2 ) عادلوںکی گواہی ضروری ہے اور مطلع صاف ہونے کی صورت میں اتنی بڑی جماعت درکار ہے جن کا جھوٹ پر متفق ہونا عقلاََ مشکل ہو ۔درمختار مع ردالمختار جلد دوم صفحہ 93 میں ہے :: قبل بلا دعویٰ وبلا لفظ اشھد وحکم ومجلس قضاء للصوم مع علۃ کغیم وغبار خبر عدل اومستور لا فاسق اتفاقا ۔ملخصاََ ۰پھر اسی کتاب کے صفحہ 95 پر پر ہے :: قبل بلاعلۃ جمع عظیم یقع العلم الشرعی وھو غلبۃ الظن بخبرھم ۔وصحح فی الاقضیۃ الاکتفاء بواحد ان جاء من خارج البلد اوکان علی مکان مرتفع واختارہ ظھیر الدین۰ اور بحر الرائق جلد دوم صفحہ 269 میں ہے اما فی ھلال الفطر الاضحٰی وغیر ھما من الاھلۃ فانہ لا یقبل فیھا الاشھادۃ رجلین او رجل وامرأ تین عدول احرار غیر محدودین کمافی سائر الاحکام ۰

دوم :۔ شہادۃ علی الشہادۃ ۔ یعنی گواہوں نے چاند خود نہ دیکھا بلکہ دیکھنے والوں نے ان کے سامنے گواہی دی اور اپنی گواہی پر انھیں گواہ کیا تو اس طرح بھی چاند کا ثبوت ہوجاتا ہے جبکہ گواہان اصل حاضری سے معذور ہوں ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ گواہان اصل میں سے ہر ایک دو آدمیوں میں سے کہیں کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجائو کہ میں نے فلاں سنہ کے فلاں مہینہ کا چاند فلاں دن کی شام کو دیکھا ، پھر ان گواہان فرع میں سے ہر ایک آکر یوں شہادت دیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں نے مجھے اپنی اس گواہی پر گواہ کیا کہ انھوں نے فلاں سنہ کے فلاں مہینہ کا چاند فلاں دن کی شام کو دیکھا اور انھوں نے مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجائو ۔ درمختار مع ردالمختار جلد چہارم صفحہ 409 میںہے ۔ الشھادۃ علی الشھادۃ مقبولۃ وان کثرت استعانا اور فتاویٰ عالمگیری جلد سوم مصری صفحہ 410 میں ہے :: ینبعی ان یذکر الفرع اسم الشاھد الاصل واسم ابیہ وجدہ حتی لو ترک ذلک فالقاضی لا یقبل شھادتھما ۰

سوم :۔شہادۃ علی القضا۔یعنی کسی دوسرے شہر میں قاضی شرع یا مفتی کے سامنے چاند ہونے پر شہادتیں گزریں اور اس نے ثبوت ہلال کا حکم دیا ، اس گواہی اور حکم کے وقت دو شاہد عادل دار القضا میں موجود تھے انھوں نے یہاں آکر مفتی کے سامنے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے سامنے فلاں شہر کے فلاں مفتی کے پاس گواہیاں گزریں کہ فلاں ہلال کی رویت فلاں دن کی شام کو ہوئی ہے اور مفتی نے ان گواہیوں پر ثبوت ہلال فلاں روز کا حکم دیا تو اس طرح بھی چاند کا ثبوت ہوجاتا ہے جیسا کہ فتاویٰ الامام الغزی صفحہ 6 اور فتح القدیر جلد دوم صفحہ 243 میں ہے :: لو شھدواان قاضی بلدۃ کذاشھد عندہ اثنان برویۃ الھلال فی لیلۃ کذاوقضی بشھادتھما جاز لھذا القاضی ان یحکم بشھادتھما لان قضاء القاضی حجۃ وقد شھدو ا بہ وکذافی شرح الکنز۰

چہارم :۔استفاضہ ۔ یعنی جس اسلامی شہر میں مفتی اسلام مرجع عوام و متبع الاحکام ہو کہ روزہ اور عیدین کے احکام اسی کے فتویٰ سے نافذہوتے ہوں ، عوام خود عید و رمضان نہ ٹھہرالیتے ہوں وہاں سے متعدد جماعتیں آئیں اور سب بیک زبان خبر دیں کہ وہاں فلاں دن چاند دیکھ کر روزہ ہوا یا عید کی گئی تو اس طرح بھی چاند کا ثبوت ہوجاتا ہے ، لیکن صرف بازاری افواہ اڑجائے اور کہنے والے کا پتہ نہ ہو ، پوچھنے پر جواب ملے کہ سنا ہے یا لوگ کہتے ہیں تو ایسی خبر ہرگز استفاضہ نہیں نیز ایسا شہر کہ جہاں کوئی مفتی اسلام نہ ہو یا ہو مگر نا اہل ہو یا محقق اور معتمد ہو مگر وہاں کے عوام جب چاہتے ہیں عید و رمضان خود مقرر کرلیتے ہیں جیسا کہ آج کل عام طور پر ہورہا ہے تو ایسے شہروں کی شہرت بلکہ تواتر بھی قابل قبول نہیں ہے ۔(فتاویٰ رضویہ جلد چہارم صفحہ 553 ) اور جیسا کہ درمختار بحث رویت ہلال میں ہے :: لو استفاض الخبر فی البلدۃ الاخری لزمھم علی الصحیح من المذھم مجتبٰی وغیرہ اور شامی جلد دوم صفحہ 97 پر ہے : قال الرحمتی معنی الاستقاضۃ ان تاتی من تلک البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن تلک البلدۃ انھم صاموا عن رویۃ لا مجرد الشیوع من غیر علم بمن اشاعۃ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھا سائر اھل البلدۃ ولا یعلم من اشاعھا کما ورد ان فی اٰخر الزمان یجلس الشیطان بین الجماعۃ فیتکلم بالکمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذا لا ینبغی ان یسمع فضلا عن ان یثبت بہ حکم اھ قلت وھو کلام حسن۰

پنجم :۔اکمالِ عدت یعنی جب ایک مہینہ کا تیس (30 ) دن پورے ہوگئے مگر مطلع صاف ہونے کے باوجود چاند نظر نہیں آیا تو یہ اکمالِ عدّت کافی نہیں بلکہ ایک روزہ اور رکھنا پڑے گا ، درمختار مع ردالمختار جلد دوم صفحہ 97میں ہے :: بعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر وبقول عدل لاء لکن نقل ابن الکمال عن الذخیرۃ ان غم ھلال الفطر حل اتفاقاََ ۔ملخصاََ۰

(2 ) اگر چاند شرعی طریقہ سے ثابت ہوجائے تو اہل مغرب کا دیکھنا اہل مشرق کے لیے لازم ہوگا جیسا کہ فتاویٰ الامام الغزی صفحہ 5 میں ہے :: یلزم اھل المشرق برویۃ اھل المغرب علٰی ما ھوظاھر الروایۃ علیہ الفتوی کما فی فتح القدیر والخلاصۃ،

(3 ) جنتری :: جنتری سے چاند کا ثبوت ہرگز نہ ہوگا ۔ درمختار میں ہے :: لا عبرۃ بقول الموقتین الو عد ولا علی المذھب ۔ اور شامی جلد دوم صفحہ 94 پر ہے : لایعتبر قولھم بالا جماع ولا یجور للمنجم ان یعمل بحساب نفسہ۰

(4 ) اخبار :: اخبار سے بھی چاند کا ثبوت ہرگز نہ ہوگا اس لیے کہ اخباری خبریں بسا اوقات گپ نکلتی ہیں ، اور اگر خبر صحیح ہوتو بھی بغیر ثبوت شرعی کے ہرگز قابلِ قبول نہیں ۔ فانھم لا یشھد وابالرویۃ ولا علی شھادۃ غیرھم وانما حکوا رویۃ غیر ھم کذا فی فتح القدیر (ردالمختار جلد دوم صفحہ 97 )

(5) خط :: خط سے بھی چاند کا ثبوت نہ ہوگا اس لیے کہ ایک تحریر دوسری تحریر سے مل جاتی ہے لہٰذا اس سے علم یقینی حاصل نہ ہوگا ۔ درمختار میں ہے لا یعمل بالخط ہدایہ میں ہے : الخط یشبہ الخط فلا یعتبر ۔

(6 ) تار اور ٹیلیفون :: تار اور ٹیلیفون بے اعتباری میں خط سے بڑھ کر ہیں اس لیے کہ خط میں کم از کم کاتب کے ہاتھ کی علامت ہوتی ہے تارو ٹیلیفون میں وہ بھی مفقود ۔ نیز جب گواہ پردے کے پیچھے ہوتا ہے تو گواہی معتبر نہیں ہوتی اس لیے کہ ایک آواز سے دوسری آواز مل جاتی ہے توتار اور ٹیلیفون کے ذریعہ گواہی کیسے معتبر ہوسکتی ہے ۔فتاویٰ عالمگیری جلد سوم مصری صفحہ 357 میں ہے :: لو سمع من وراء الحجاب لا یسمع ان بشھدلا حتمال ان یکون غیرہ اذا النغمۃ تشبۃ انغمۃ ۰

(7 ) ریڈیو اور ٹیلی وژن : : ریڈیو اور ٹیلی وژن میں تار و ٹیلیفون سے زیادہ دشواریاں ہیں اس لیے کہ تارو ٹیلیفون پر سوال و جواب بھی کرسکتے ہیں مگر ریڈیو اور ٹیلی وژن پر کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔غرضیکہ یہ نئے آلات خبر پہنچانے میں تو کام آسکتے ہیں لیکن شہادتوں میں معتبر نہیں ہوسکتے ، یہی وجہ ہے کہ خط ،تار ،ٹیلی وژن ،ریڈیو ، اور ٹیلی وژن کی خبروں پر کچہریوں کے مقدموں کے فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ گواہوں کو حاضر ہوکر گواہی دینی پڑتی ہے ، پھر فیصلہ ہوتا ہے ۔

انوار الاحادیث مولانا جلال الدین امجدی

والسلام :: سلیمان سبحانی