شبِ قدر

شبِ قدر

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! شب قدر کی فضیلت قرآن و حدیث سے صراحۃ ً ثابت ہے ۔شب قدر عظمت و تقدیس فضائل و کمالات کا مخزن ہے ،شب قدر کو تمام راتوں پر فوقیت حاصل ہے کیوں کہ اس رات میں رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور شب قدر کی اہمیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ خالق لیل ونہارجل جلالہ نے اس کی تعریف وتوصیف میں مکمل سورت نازل فرمادیا ۔ارشاد ہوتا ہے ۔

اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَمَااَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاذْنِ رَبِّھِمْ مِنْ کُلِّ اَمْرٍ سلٰمٌ ھِیَ حَتّٰی مَطْلِعِ الْفَجْرِo

بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر،شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبرئیل اتر تے ہیں ۔اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے وہ سلامتی ہے ۔صبح چمکنے تک۔ (کنز الایمان)

وجہ تسمیہ

مفسر شہیر حضرت علامہ پیر کرم شاہ ازہری علیہ الرحمہ امام زہری کا قول نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: سمیت بھا للعظمۃ والشرف ۔۔۔۔۔۔۔لان العمل فیہ یکون ذا قدر عند اللہ

(تفسیر مظہری)

علامہ قرطبی نے اس رات کولیلۃ القدر کہنے کی وجہ یوں بیان کی ہے ’’قیل سمیت بذلک لانہ انزل فیھا کتابا ذا قدر علیٰ رسول ذی قدر علیٰ امۃ ذات قدر‘‘یعنی اسے شب قدر اس لئے کہتے ہیں کہااللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس میں ایک بڑی قدر ومنزلت والی کتاب ،بڑے قدر ومنزلت والے رسول پر اور بڑی قدر ومنزلت والی امت کے لئے نازل فرمائی۔

(ضیاء القرآن جلد ؍۵ص؍۶۱۹)

شبِ قدر احادیث کے آئینہ میں

حضرت ابو ہریرہ ص فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایمان ویقین کے ساتھ روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دئے جاتے ہیں ۔اور جو شب قدر میں ایمان ویقین کے ساتھ (یعنی ثواب کی امید سے)قیام(یعنی نوافل، تلاوت، ذکر، نعت، درود، دعاو توبہ ، واستغفار )کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ (بخاری شریف)

اور حضرت انس بن مالک صنے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو حضور اقدس نور مجسم انے فرمایا: کہ یہ مہینہ تم میں آیا ہے اور اس میں ایک رات ایسی آئی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے تو جو شخص اس کی برکتوں سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا ،اور محروم نہیں رکھا جاتا اس کی بھلائیوں سے مگر وہ جوبالکل بے نصیب ہو ۔ (ابن ماجہ)

شب قدر کونسی رات ہے

یہ بات تو طے ہے کہ شب قدر رمضان المبارک میں کوئی رات ہے ۔لیکن تاریخ کے تعین میں علماء کا بڑا اختلاف ہے چالیس کے قریب اقوال ہیں۔لیکن صحیح حدیث میں یہ الفاظ موجود ہیں’’تحروا لیلۃالقدر فی العشرالاواخرمن رمضان‘‘ رمضان شریف کے آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو ۔دوسری حدیث پاک میں ہے کہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔اکثر علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ رمضان المبارک کی ستائیسویں رات شب قدر ہے امام الائمہ کا شف الغمہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف یہی ہے۔

اور الفاظ قرآن سے بھی اس طرف اشارہ ملتا ہے ۔مثلا سورۃ القدر میں ’’ لیلۃ القدر‘‘ تین جگہ ارشاد ہوا اور لیلۃ القدر میں نو حروف ہیں،نو کو تین سے ضرب دینے میں حاصل ضرب ستائیس ہوتا ہے۔ (۲۷=۳x۹)

روایات کے پیش نظر پورے عشرہ اواخر رمضان میں شب بیداری کرے،نوافل ،توبہ واستغفار وغیرہ کی کثرت کرے اگر ذمہ میں قضا نماز باقی ہو(معاذ اللہ!)تو نوافل کی بجائے قضا نمازوں کو ادا کرے۔

شبِ قدر کی علامتیں

حضور نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیئسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات۔ یہ رات بالکل صاف اور ایسی روشن ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے، اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے، نہ سردی زیادہ ہوتی ہے نہ گرمی، صبح تک ستانے نہیں جھڑتے، اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس کی صبح کو سورج تیز شعاعوں سے نہیں نکلتا بلکہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ حدیث شریف میں جو شبِ قدر کی علامتیں بیان کی گئی ہیں ان کے ذریعہ شبِ قدر کو تلاش کرنا بالکل آسان ہو گیا ہے، اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ مذکورہ علامتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے شب قدر کو تلاش کریں اور اس میں خوب دلجمعی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ آمین

شب قدر کیوں عطا ہوئی؟

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! شبِ قدر عطا کئے جانے جانے کے بارے میں کئی روایتیں ملتی ہیں ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی کونین صاحبِ قاب قوسین ا نے ارشاف فرمایا کہ نبی اسرائیل میں ایک شمسون نامی عابد تھا جس نے ہزار ماہ اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ اس پر صحابۂ کرام کو تعجب ہوا کہ ہمارے اعمال کی کیا حیثیت؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ایک رات عطا فرمائی جو اس غازی کی مدتِ عبادت سے بہتر ہے۔

اسی سلسلے میں ایک اور روایت علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے مؤطا امام مالک کے حوالے سے تحریر فرمایا کہ رسول اللہ ا کو پچھلی امتوں کی عمریں دکھائی گئیں، آپ نے دیکھا کہ ان کے مقابل میں آپ کی امت کی عمریں کم ہیں اس سے آپ کو خوف ہوا کہ میری امت کے اعمال ان امتوں کے اعمال تک نہ پہونچ سکیں گے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمایا جو ان امتوں کے ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’لیلۃ القدر خیر من الف شہر‘‘

اسی طرح ایک اور روایت حضرت علی بن عروہ سے ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے بنی اسرائیل کے چار اشخاص کا ذکر فرمایا جنہوں نے اللہ کی اَسّی برس عبادت کی اور ان کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اللہ کی نافرمانی میں نہیں گزرا، آپ نے ان چار اشخاص میں حضرت ایوب، حضرت حزقیل، حضرت یوشع اور حضرت زکریا علیہم السلام کا ذکر فرمایا، رسول اللہ ا کے صحابہ کو یہ سن کر تعجب ہوا تو جبرئیل امین علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کیا اے محمدا! آپ کی امت کو ان لوگوں کی اَسّی سال کی عبادت سے تعجب ہوا، اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس سے بہتر چیز نازل کر دی ہے اور سورۂ قدر پڑھی اور کہا یہ اس چیز سے افضل ہے جس پر آپ کو اور آپ کی امت کو تعجب ہوا تھا۔

فرشتوں کا نزول

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! سورۂ قدر میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ’’تنزل الملٰئکۃ و الروح فیہا‘‘ اس رات فرشتے اور روح آسمان سے زمین پر اترتے ہیں۔ شب قدر میں سارے فرشتے نازل ہوتے ہیں یا ان میں سے بعض، اس سلسلے میں مفسرینِ کرام کے چند اقوال ہیں۔ بعض کا یہ کہنا ہے کہ سارے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور بعض کا یہ کہنا ہے کہ ان میں سے بعض نازل ہوتے ہیں اور بعض کا یہ کہنا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام سدرۃ المنتہی کے سارے فرشتوں کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔

نزولِ ملائکہ کے حوالے سے حدیث پاک میں بھی ذکر ہے۔

جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’اذا کان لیلۃ القدر ینزل جبریل فی کبکبۃ من الملائکۃ یصلون علیٰ کل عبد قائم او قائد یذکر اللہ عزوجل‘‘یعنی لیلۃ القدر کو جبریل امین فرشتوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ زمین پر اتر تے ہیں اور ملائکہ کا یہ گروہ ہر اس بندے کے لئے دعائے مغفرت اور التجائے رحمت کرتا ہے جو کھڑے یا بیٹھے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتا ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ جب شب قدر آتی ہے تو حضرت سیدنا جبرئیل ں کے ساتھ وہ فرشتے بھی اتر تے ہیں جو سدرۃ المنتہیٰ پر رہنے والے ہیں ۔اور وہ اپنے ساتھ چار جھنڈے لاتے ہیں ،ایک گنبد خضریٰ پر نصب کرتے ہیں ،ایک بیت القدس کی چھت پر ،ایک مسجد حرام کی چھت پر نصب کرتے ہیں اور ایک طور سینا کے اوپر ،اور ہر مومن مرد وعورت کے گھر پر تشریف لے جاتے ہیں اور انہیں سلام کہتے ہیں ،اس رحمت سے شرابی،قاطع رحم اور سود کھانے والے محروم رہتے ہیں۔ (صاوی بحوالہ متاع آخرت)

ایک عجیب الخلقت فرشتے کا نزول

صاحبِ تفسیر روح البیان تحریر فرماتے ہیں کہ ایک فرشتہ ایسا ہے کہ جس کا سر عرش کے نیچے ہے اور دونوں پائوں ساتوں زمینوں کی جڑوں میں، اس کے ایک ہزار سر ہیں اور ہر سر عالم دنیا سے بڑا ہے اور ہر سر میں ایک ہزار چہرے اور ہر چہرے میں ہزار منہ، ہر منہ میں ہزار زبانیں، ہر زبان سے ہزار قسم کی تسبیح و تحمید پڑھتا ہے، ہر زبان کی بولی دوسری زبان سے نہیں ملتی، وہ منہ سے زبان کھولتا ہے تو تمام آسمان کے فرشتے اس کے ڈر سے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں کہ کہیں اس کے چہرے کے انوار انہیں جلا نہ دیں۔ ہر صبح و شام ان تمام مونہوں سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے۔ یہ فرشتہ شب قدر میں زمین پر اتر کر رسولِ اکرم نورِ مجسم ا کی امت کے اہلِ ایمان روزہ دار مردوں اور عورتوں کے لئے طلوعِ فجر تک استغفار کرتا ہے۔ (روح البیان)

فرشتے کیوں نازل ہوتے ہیں؟

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! آپ یہ سوچتے ہوں گے کہ آخر شب قدر میں فرشتے کیوں نازل ہوتے ہیں؟ جب کہ فرشتے خود تسبیح و تقدیس اور تہلیل کے تونگر ہیں، قیام، رکوع اور سجود ساری عبادات سے سرشار ہیں پھر انسانوں کی وہ کون سی عبادت ہے جسے دیکھنے کے شوق میں وہ انسانوں سے ملاقات کی تمنا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کر کے زمین پر نازل ہوتے ہیں؟آئیے اس سلسلے میں چند باتیں ملاحظہ کرتے ہیں تاکہ اس رات عبادت کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔

محدثینِ کرام نے اس کی وجہ بیان کی ہے کہ کوئی شخص خود بھوکا رہ کر اپنا کھانا کسی اور ضرورت مند کو کھال دے یہ وہ نادر عبادت ہے جو فرشتوں میں نہیں ہوتی، گناہوں پر توبہ اور ندامت کے آنسو بہانا اور گڑگڑانا، اللہ سے معافی چاہنا، اپنی طبعی نیند چھوڑ کر اللہ کی یاد کے لئے رات کے پچھلے پہر اٹھنا اور خوفِ خدا سے ہچکیاں لے لے کر رونا، یہ وہ عبادتیں ہیں جن کا فرشتوں کے یہاں کوئی تصور نہیں کیوں کہ نہ وہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں، نہ گناہ کرتے ہیں، نہ سوتے ہیں۔

حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’گناہ گاروں کی سسکیوں اور ہچکیوں کی آواز مجھے تسبیح و تہلیل کی آوازوں سے زیادہ پسند ہے‘‘ اس لئے فرشتے یادِ خدا میں آنسو بہانے والی آنکھوں کو دیکھنے اور خوفِ خدا سے نکلنے والی آہوں کو سننے کے لئے زمین پر اترتے ہیں۔

امام رازی علیہ الرحمہ نے اس کہ وجہ یہ بیان فرمائی کہ انسان کی عادت ہے کہ وہ علما اور صالحین کے سامنے زیادہ اچھی اور زیادہ خشوع و خضوع سے عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس رات فرشتوں کو بھیجتا ہے کہ اے انسانو! تم عبادت گزاروں کی مجلس میں زیادہ عبادت کرتے ہو آئو اب ملائکہ کی خضوع اور خشوع سے عبادت کرو۔

فرشتوں کے نزول کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انسان کی پیدائش کے وقت فرشتوں نے استفسار کیا تھا کہ اسے پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے جو زمین میں فسق و فجور اور خونریزی کرے گا؟ لہٰذا اس رات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے ان کی امیدوں سے بڑھ کر اجر و ثواب کا وعدہ کیا، اس رات کے عبادت گزاروں کو زبانِ رسالت سے مغفرت کی نوید سنائی، فرشتوں کی آمد اور ان کی زیارت اور سلام کرنے کی بشارت دی تاکہ اس کے یہ رات جاگ کر گزاریں، تھکاوٹ اور نیند کے باوجود اپنے آپ کو بستروں اور آرام سے دور رکھیں تاکہ جب فرشتے آسمان سے اتریں تو ان سے کہا جا سکے یہی وہ ابنِ آدم ہیں جن کی خونریزیوں کی تم نے خبر دی تھی، یہی وہ شرر خاکی ہے جس کے فسق و فجور کا تم نے ذکر کیا تھا، اس کی طبیعت اور خلقت میں ہم نے رات کی نیند رکھی ہے لیکن یہ اپنے طبعی اور خلقی تقاضوں کو چھوڑ کر ہماری رضا جوئی کے لئے رات سجدوں اور قیام میں گزار رہا ہے۔

فرشتوں کا سلام

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! امام رازی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ آخرت میں فرشتے مسلمانوں کی زیارت کریں گے اور آ کر سلام عرض کریں گے ’’الملٰئکۃ یدخلون علیہم من کل باب سلام علیکم‘‘ فرشتے جنت کے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور آکر سلام کریں گے اور لیلۃ القدر میں یہ ظاہر فرمایا کہ اگر تم میری عبادت میں مشغول ہو جائو تو آخرت تو الگ رہی دنیا میں بھی فرشتے تمہاری زیارت کو آئیں گے اور آکر سلام کریں گے۔

شب قدر اور تدابیرِ امور

علامہ قرطبی مجاہد کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں زندگی، موت اور رزق وغیرہ کے احکام مدبراتِ امور کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ چار فرشتے ہیں اسرافیل، میکائیل، عزرائیل اور جبرائیل علیہم السلام۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ اس سال جس قدر بارش ہونی ہے، جس قدر رزق ملنا ہے اور جن لوگوں کو جینا یا مرنا ہے اس کو لوحِ محفوظ سے نقل کر کے لکھ دیا جاتا ہے حتی کہ لیلۃ القدر میں یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے کہ کون کون شخص اس سال بیت اللہ کا حج کرے گا، ان کے نام ان کے آباء کے نام لکھ دئے جاتے ہیں۔ نہ ان میں کوئی کمی کی جاتی ہے نہ کوئی اضافہ۔

شب قدر کی دعا

اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے رحمت عالم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہا!اگر مجھ کو شب قدر معلوم ہوجائے تو میں اس میں کیا کروں؟آپ نے فرمایاکہ یہ دعا پڑھا کرو۔اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ (ترمذی شریف)

نماز شب قدر

جو اس رات چار رکعت پڑھے اور ہر رکعت میں بعد سورئہ فاتحہ ،سورئہ قدر ایک مرتبہ اور سورئہ اخلاص ستائیس مرتبہ پڑھے تو اس نماز کا پڑھنے والا گناہوں سے ایسا صاف ہوجاتا ہے کہ گویا آج ہی پیدا ہوا ۔اور اللہ جل شانہٗ جنت میں ہزار محلات عطا فرمائے گا۔

ایک روایت میں ہے کہ جو کوئی ستائیسویں رمضان کو چار رکعت پڑھے اور ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد سورئہ قدر تین مرتبہ اور سورئہ اخلاص پچاس مرتبہ پڑھے اور بعد سلام سجدہ میں جاکر ایک مرتبہ یہ پڑھے۔

’’ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَاَاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ پھر جو دعا مانگے قبول ہوگی اور اللہل اس کو بے انتہاء نعمتیں عطا فرمائے گا اور اس کے کل گناہ بخش دے گا ۔ان شاء اللہ

رب قدیر ہم سب کو شب قدر کی قدر کرنے اور اس میں خوب خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.